لداخ کے ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کی اہلیہ کی درخواست پر سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
این ایس اے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو لوگوں کو حراست میں لینے کا اختیار دیتا ہے تاکہ وہ ہندوستان کے دفاع کیلئے متعصبانہ انداز میں کام کرنے سے روک سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے سونم وانگچک کی اہلیہ گیتانجلی جے انگمو کی طرف سے دائر درخواست پر سماعت 15 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔ درخواست میں ماحولیاتی کارکن کی قومی سلامتی ایکٹ کے تحت نظربندی کو چیلنج کیا گیا ہے اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ جسٹس اروند کمار اور جسٹس این وی انجاریا کی بنچ نے وقت کی کمی کی وجہ سے سماعت بدھ تک ملتوی کر دی۔ عدالت عظمیٰ نے 6 اکتوبر کو کشمیر کے سرحدی علاقہ لداخ کو نوٹس جاری کیا تھا۔ سونم وانگچک کو 26 ستمبر کو سخت قومی سلامتی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت حراست میں لیا گیا تھا۔ یہ واقعہ لداخ کو ریاست کا درجہ دینے اور چھٹے شیڈول کا درجہ دینے کا مطالبہ کرنے والے پُرتشدد مظاہروں کے دو دن بعد پیش آیا۔ پرتشدد مظاہروں میں چار افراد ہلاک اور 90 زخمی ہوئے، حکومت نے ان پر تشدد بھڑکانے کا الزام لگایا۔
این ایس اے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو لوگوں کو حراست میں لینے کا اختیار دیتا ہے تاکہ وہ ہندوستان کے دفاع کے لئے متعصبانہ انداز میں کام کرنے سے روک سکیں۔ زیادہ سے زیادہ نظربندی کی مدت 12 ماہ ہے، حالانکہ اسے پہلے منسوخ کیا جا سکتا ہے۔ سونم وانگچک راجستھان کی جودھپور جیل میں بند ہیں۔ اپنی درخواست میں انگمو نے وانگچک کے خلاف این ایس اے لگانے کے فیصلے پر بھی سوال اٹھایا۔ ہیبیس کارپس کی درخواست دائر کرتے ہوئے، زیر حراست کارکن کے شوہر نے درخواست کی فوری فہرست اور لداخ انتظامیہ کو سونم وانگچک کو فوری طور پر اس عدالت کے سامنے پیش کرنے کی ہدایت کی درخواست کی۔ انہوں نے حراست میں لئے گئے شخص تک فوری رسائی اور احتیاطی حراست کے حکم کو منسوخ کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: سونم وانگچک ایس اے
پڑھیں:
ماریہ شہباز کیس: وفاقی آئینی عدالت نے نظرثانی درخواست پر اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کر دیے
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام قبول کرکے شادی کرنے والی ماریہ شہباز سے متعلق نظرثانی درخواست پر وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے ان سے معاونت طلب کر لی، جبکہ مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ماریہ شہباز کم عمر تھی اور اسے ورغلا کر مذہب تبدیل کروایا گیا، جبکہ عدالت نے اپنے سابق فیصلے میں کم سن بچی کے نکاح کو درست قرار دیا۔
یہ بھی پڑھیں:پنجاب میں لاپتا لڑکیوں میں سے 80 فیصد نے پسند کی شادیاں کیں، پولیس کی لاہور ہائیکورٹ کو رپورٹ
جسٹس حسن اظہر رضوی نے استفسار کیا کہ سابق عدالتی فیصلے میں غلطی کیا ہے؟ درخواست گزار کے وکیل نے جواب دیا کہ قانون کے مطابق شادی کے لیے 18 سال عمر کی حد مقرر ہے اور قانون کے خلاف ہونے والی شادی برقرار نہیں رہ سکتی۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ قانون میں کم عمری کی شادی پر سزا کا ذکر تو موجود ہے، تاہم نکاح کو خودکار طور پر منسوخ قرار دینے کی کوئی شق موجود نہیں۔ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر کم عمری میں شادی ہو جائے تو قانون اس صورت حال کا کیا حل فراہم کرتا ہے۔
عدالت نے مزید ریمارکس دیے کہ ماریہ شہباز نے ڈسٹرکٹ کورٹ سے لے کر وفاقی آئینی عدالت تک کسی بھی مرحلے پر یہ مؤقف اختیار نہیں کیا کہ اس کے ساتھ زبردستی کی گئی تھی۔ جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ اگر درخواست گزار اس مؤقف پر اصرار کرتا ہے تو عدالت اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب سے قانونی معاونت حاصل کر لیتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پسند کی شادی کیخلاف گاؤں نذرِ آتش کرنیکا واقعہ، وزیراعلیٰ سندھ کا سخت نوٹس
عدالت نے سماعت کے دوران وفاقی اٹارنی جنرل اور ایڈووکیٹ جنرل پنجاب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مقدمے کی مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔
واضح رہے کہ وفاقی آئینی عدالت نے 26 مارچ کو ماریہ شہباز کو والد کے حوالے کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے قرار دیا تھا کہ تنسیخ نکاح کے لیے متعلقہ فریق سول کورٹ سے رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ بھی واضح کیا تھا کہ حبسِ بے جا اور حوالگی کی درخواستوں کی سماعت کے دوران نکاح کی تنسیخ کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
چائلڈ میرج قبول اسلام ماریہ شہباز وفاقی آئینی عدالت