پی ٹی آئی کی محبت میں سرکاری نوکری چھوڑنے والے شخص عمران خان کے بارے میں اب کیا کہتے ہیں؟
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
پی ٹی آئی کی محبت میں سول سروس چھوڑنے والے افسر سلیمان شاہ راشدی نے عمران خان پر ذاتی مفادات کی سیاست کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی جان، سیاسی مستقبل اور نسلوں پرانی پیپلز پارٹی سے وفاداری عمران خان کے لیے قربان کی، مگر آخرکار انہیں احساس ہوا کہ عمران خان کی جدوجہد صرف اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات کے گرد گھومتی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی مظاہرین پر تشدد، انفارمیشن گروپ کے سرکاری افسر نے استعفیٰ دے دیا
سلیمان شاہ راشدی نے اپنے بیان میں کہا کہ عمران خان کا اصل مقصد اقتدار میں واپسی کے لیے اسٹیبلشمنٹ پر دباؤ ڈالنا ہے اور اگر وہ کسی کو ساتھ نہ ملا سکیں تو دباؤ اور بیانیے کے ذریعے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان ایک خودپسند شخصیت ہیں جو اپنی سیاسی خواہشات کی خاطر ملک اور عوام کے مفادات کو بھی خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
I risked my life and security for Imran Khan; I recanted my generations’ old loyalty to PPP; I ended my career at its peak to show solidarity with the supporters of Imran Khan.
— Suleman Shah Rashdi (@RashdiSuleman) October 16, 2025
’جسٹس سعید الزمان صدیقی، جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس ناصر اسلم زاہد نے بھی کبھی کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اصولی بنیادوں پر استعفیٰ دیا‘
سلیمان شاہ راشدی نے کہا کہ انہوں نے سول سروس سے استعفیٰ ضمیر کی آواز پر دیا تھا، ان کے مطابق ایسے فیصلے ہمیشہ سوچ سمجھ کر، مکمل شعور اور ذمہ داری کے ساتھ کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جسٹس سعید الزمان صدیقی، جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس ناصر اسلم زاہد نے بھی کبھی کسی کے کہنے پر نہیں بلکہ اصولی بنیادوں پر استعفیٰ دیا تھا۔
Such decisions are always made conscientiously and consciously. Did Nawaz Shareef ask Justice Saeeduzzaman to resign? Did Imran Khan ask Justice Wajihuddin to resign after Musharraf’s coup d’etat? And Justice Nasir Aslam Zahid?? They all resigned on a principle without the… https://t.co/mwqyOWrTrx
— Suleman Shah Rashdi (@RashdiSuleman) October 17, 2025
انہوں نے کہا کہ الحمدللہ! انہیں اپنے استعفے پر ذرہ برابر بھی پشیمانی نہیں کیونکہ انہوں نے ایک اصول پر استعفیٰ دیا تھا کہ ریاست کو کبھی اپنے ہی عوام کے خلاف طاقت استعمال نہیں کرنی چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: سرکاری افسر کو سیاسی بیان مہنگا پڑگیا، 120 روز کے لیے معطل
سلیمان شاہ راشدی نے کہا کہ وہ مطمئن ہیں کیونکہ انہوں نے ان پاکستانیوں کے لیے قربانی دی جن پر ریاستی جبر کیا گیا۔ تاہم، ایک سال بعد انہیں یہ احساس ہوا کہ دراصل عمران خان ہی وہ شخص تھے جنہوں نے اپنی سیاسی خواہشات اور ذاتی مفادات کے لیے اپنے ہی کارکنوں کو ریاستی جبر کی آگ میں جھونکا۔
انہوں نے کہا کہ اب وہ پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور اپنی تمام تر توانائیاں اس بیانیے کو توڑنے میں صرف کریں گے جسے وہ عشقِ عمران قرار دیتے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news استعفی پی ٹی آئی سرکاری افسر سلیمان شاہ راشدی سول سروسز عمران خان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: استعفی پی ٹی ا ئی سرکاری افسر سلیمان شاہ راشدی سول سروسز سلیمان شاہ راشدی نے کہ انہوں نے نے کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس