مزاحمتی ثقافت یورپ اور امریکہ تک پھیل چکی ہے، جنرل سلیمانی
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
شیراز میں خطاب کرتے ہوئے بسیج مستضعفین جہان کے کمانڈر نے کہا کہ مزاحمت کے راستے کو جاری رکھنا امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور عالمی انصاف کے قیام کی راہ ہموار کرے گا، مزاحمت کا راستہ ایرانی قوم اور عالم اسلام کی فتح اور وقار کی کنجی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ بسیج مستضعفین جہان کے کمانڈ رجنرل سلیمانی نے دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مزاحمت پھیل رہی ہے۔ جنرل غلام رضا سلیمانی نے شیراز میں شہدائے قدس بین الاقوامی کانفرنس میں خطاب کیا۔ انہوں نے پہلی ایرانی شہیدہ "معصومہ کرباسی" کی شہادت کی پہلی برسی کے موقع پرلبنان، مقاومتی محاذ اور 12 روزہ اسرائیل ایران کے شہداء کو خراج تحسین پیش کیا۔ انہوں نے شہر شیراز کو حاصل خصوصیات اور اعزازات پربات کرتے ہوئے کہاکہ اس شہر نے ایران سے مزاحمتی محاذ کے پہلی شہید ہ کی پرورش کی ہے، جو صیہونی مجرموں کے ہاتھوں شہید ہوئیں۔
جنرل سلیمانی نے مقاومتی محاذ کی کامیابیوں اور مزاحمتی ثقافت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ کلچرحالیہ برسوں میں انسانی زندگی کے اہم ترین اور بنیادی امور میں سے ایک بن چکاہے اور اس کی جڑیں اسلامی انقلاب میں پیوست ہیں۔انہوں نے حاج قاسم سلیمانی کومزاحمتی شہداء کا قائد قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایرانی قوم نے عالمی طاقتوں بالخصوص امریکہ اور صیہونی حکومت کے خلاف 46 سال کی مزاحمت کرکے دکھا کر ثابت کیا ہے کہ مزاحمت کا نتیجہ ہمیشہ فتح ہی ہے۔ بسیج مستضعفین کے کمانڈر نے دنیا بھر میں ہونے والی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہاکہ یورپ اور امریکہ سمیت مختلف ممالک میں مزاحمت پھیل رہی ہے۔
انہوں نے ایمان اور مزاحمتی نفسیات کو نرم طاقت قرار دیتے ہوئے کہاکہ دشمن جدید ٹیکنالوجی کے باوجود مزاحمت کے مقابلے میں فتح حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں،حزب اللہ لبنان کے خلاف صیہونی حکومت کی شکست اور صیہونی حکومت کی ننگی جارحیت کے خلاف غزہ کے عوام کی مزاحمت جیسی فتوحات اسکی مثالیں ہیں۔ جنرل سلیمانی نے مسئلہ فلسطین اور غزہ کے عوام کی مزاحمت کا حوالہ دیاکہ انہوں نے بمباری اور شدید محاصرے کے باوجود مزاحمت کی۔ انہوں نے مزید کہاکہ غزہ کے عوام نے مسئلہ فلسطین کو زندہ کر کے دوبارہ عالمی ایشو میں تبدیل کردیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ غزہ کی مزاحمت فتح کی علامت ہے اور انہوں کر دکھایا ہے کہ مشکل حالات میں بھی عوام کی قوت ارادی اور مزاحمتی عمل کی فتح ہوتی ہے۔ بسیج مستضعفین تنظیم کے کمانڈر نے ٹیکنالوجی اور سائنس کے غلط استعمال میں مغرب کے کردار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہا کہ مغرب نے علم اور ٹیکنالوجی کا غلط استعمال کرکے عالمی جنگوں اور بڑے بحرانوں کو جنم دیا ہے اور ٹیکنالوجی کوانسانیت،امن ا ور ترقی کے بجائے تسلط اور عالمی جنگوں کے لئے استعمال کیا ہے۔ جنرل سلیمانی نے اپنے خطاب کو جاری رکھتے ہوئے 12 روزہ جنگ کے دوران ایرانی قوم کی طاقت کا حوالہ دیا۔
انکا کہنا تھا کہ اس جنگ کا نتیجہ لوگوں میں مزاحمت اور وفاداری کے جذبے کی تقویت کی صورت میں نکلاہے اور یہ طاقت ثقافتی اور سائنسی نشاۃ ثانیہ کا نتیجہ ہے۔انہوں نے کہا کہ مزاحمت قوموں کی کامیابی اور فتح کا راستہ ہے اور حاج قاسم سلیمانی جیسی نمایاں مثالیں اس مزاحمتی ثقافت کی نشاندہی کرتی ہیں جو عالم اسلام اور اس سے اب اس بھی باہر پروان چڑھ چکی ہے۔" انہوں نے آج کی دنیا میں صیہونیوں کے جرائم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزید کہاکہ "یہ گروہ نہ صرف فلسطینی علاقوں میں قبضہ کئے ہوئے ہےبلکہ مغرب اور یورپ میں بھی اثر و رسوخ رکھتا ہے اور ایران جیسے مسلم ممالک کو کمزور کرنے کی سازشوں کے درپے ہے۔
بسیج مستضعفین جہان کے کمانڈر نے کہا کہ"مغرب کا ہدف اسلام کی حامی طاقتوں کو کمزور کرنا ہے تاکہ وہ دنیا پر اپناغلبہ حاصل کر سکیں، اور اس مقصد کے لیے مغرب نے دنیا کے ثقافتی اور فوجی ڈھانچے کو تبدیل کرنے کے وسیع منصوبے بنارکھے ہیں، جس میں امریکی فوج میں صیہونی نظریات کو داخل کرنا اور جنگ کے ذریعے دوسری اقوام میں عدم تحفظ کے احساس کو فروغ دینے کی کوشش بھی شامل ہے۔" جنرل سلیمانی نے قوموں کی بیداری اور بصیرت کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر قومیں ان عوامل سے غافل رہیں تو مستقبل میں انہیں سنگین بحرانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے دشمنوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لیے مزاحمتی ثقافت کے کردار اور اس پر بھروسہ کرنے پر تاکید کی اور کہا کہ اس راستے کو جاری رکھنا امام مہدی علیہ السلام کے ظہور اور عالمی انصاف کے قیام کی راہ ہموار کرے گا۔ جنرل سلیمانی نے مزاحمتی ثقافت کے تحفظ اور تقویت کی اہمیت پر تاکید کی اور کہا کہ مزاحمت کا راستہ ایرانی قوم اور عالم اسلام کی فتح اور وقار کی کنجی ہے۔ واضح رہے کہ شہیدہ معصومہ کرباسی لبنان میں خدمات کے دوران صیہونی غاصب افواج کی بمباری کے نتیجے میں شہید ہو گئی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنرل سلیمانی نے بسیج مستضعفین مزاحمتی ثقافت کرتے ہوئے کہا کے کمانڈر نے ایرانی قوم کہ مزاحمت مزاحمت کا کی مزاحمت انہوں نے ہے اور کہا کہ اور اس
پڑھیں:
حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
وفاقی وزیر اوورسیز پاکستانیز چوہدری سالک حسین نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج کا دن پاکستان میں لیبر مائیگریشن کے نظم و نسق کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم سنگ میل ہے۔ یہ پالیسی ہر اس پاکستانی سے کیے گئے قومی عزم کی عکاس ہے جو بہتر مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محفوظ اور منظم نقل مکانی، مہارتوں کی ترقی، کارکنوں کا تحفظ، تارکینِ وطن کی شمولیت اور وطن واپس آنے والوں کی بحالی اس پالیسی کے بنیادی ستون ہیں۔ تکنیکی جدت، آبادیاتی تبدیلیاں اور لیبر مارکیٹ کے بدلتے ہوئے تقاضے دنیا بھر کی معیشتوں کو نئی شکل دے رہے ہیں. اس لیے پاکستان کو اپنی افرادی قوت کو آج اور مستقبل دونوں کے مواقع کے لیے تیار کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 اس سمت میں ایک اہم قدم اور پاکستان کی افرادی قوت کو مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے میں سنگ میل ثابت ہوگی۔چوہدری سالک حسین نے کہا کہ ایک کروڑ 20 لاکھ پاکستانی دنیا بھر میں مقیم ہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت، دیانت داری اور محنت کی بدولت پاکستان کے سفیر بن چکے ہیں۔ گزشتہ مالی سال میں سمندر پار پاکستانیوں نے 41 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجیں، جو ملکی تاریخ کی بلند ترین رقم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کامیابی پاکستان کی کامیابی ہے اور ان کی فلاح و بہبود ہماری قومی ذمہ داری ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ پالیسی اداروں، تجربات اور شراکت داریوں کو ایک مشترکہ وژن کے تحت یکجا کرتی ہے تاکہ ہر پاکستانی کارکن نقل مکانی کے پورے سفر کے دوران بہتر طور پر تیار، محفوظ اور معاونت یافتہ ہو۔ اس پالیسی کا محور ہر اس پاکستانی کا سفر ہے جو مواقع کی تلاش میں اپنا گھر چھوڑتا ہے، جبکہ ذمہ داری روانگی سے پہلے ہی شروع ہو جاتی ہے، جہاں نوجوان کارکنوں کو متعلقہ مہارتیں، قابلِ اعتماد معلومات اور اخلاقی بھرتی تک رسائی فراہم کی جائے گی۔وفاقی وزیر نے کہا کہ اس پالیسی کی کامیابی وفاقی اور صوبائی حکومتوں، نفاذ کرنے والے اداروں، آجروں، تربیتی اداروں، ترقیاتی شراکت داروں، نجی شعبے اور سمندر پار پاکستانیوں کے باہمی تعاون سے مشروط ہے۔ انہوں نے صوبائی حکومتوں، آئی سی ایم پی ڈی (ICMPD)، دیگر ترقیاتی شراکت داروں اور تمام اسٹیک ہولڈرز کا مشاورتی عمل میں تعاون پر شکریہ ادا کیا، جبکہ اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کی مسلسل معاونت کو بھی سراہا۔انہوں نے کہا کہ ہجرت یا نقل مکانی غیر یقینی کا سفر نہیں بلکہ مواقع، وقار اور قومی ترقی کا راستہ ہونا چاہیے۔ آئیں مل کر ایسا مستقبل بنائیں جہاں ہر پاکستانی اعتماد کے ساتھ بیرون ملک جائے، فخر کے ساتھ وطن واپس آئے اور ہمیشہ ایک ایسی قوم سے جڑا رہے جو اس کی خدمات کی قدر اور عزت کرتی ہو۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس وژن کو عوام کے لیے بامعنی ترقی، پاکستان کے لیے دیرپا خوشحالی اور ہر سمندر پار پاکستانی اور اس کے خاندان کے روشن مستقبل کا ذریعہ بنائے۔