حالیہ سرحدی جھڑپوں اور کشیدگی کے باعث طورخم اور دیگر اہم پاکستانی افغانی سرحدی راستے کئی دنوں سے بند یا محدود رہ چکے ہیں، جس سے تجارتی اور ٹرانزٹ ٹریڈ شدید متاثر ہوئی ہے۔
بندش کے باعث بیک لاگ اور روکی ہوئی کارگو، ٹرکوں اور کنٹینرز کی تعداد بڑھی ہے۔ مثال کے طور پر،ایف بی آر کی ہدایت پر افغانی ٹرانزِٹ ٹریڈ معطل کر دی گئی تھی، کنٹینرز بندرگاہوں پر پھنس گئے تھے۔
تجارتی راستے محدود ہونے کی وجہ سے دونوں ممالک میں تجارتی کمی اور نقصان کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔ مثال کے طور پر ماضی میں بار بار بندش کی وجہ سے 22 دن کے اندر تقریباً 6 کروڑ ڈالر کا تجارتی نقصان ریکارڈ کیا گیا تھا۔
اگرچہ کچھ خبریں’’تجارت بڑھا دی گئی ہے‘‘ کی بازگشت دیتی ہیں، لیکن فی الحال اس حوالے سے تازہ، تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں کہ مخصوص سرحدی پوائنٹس پر لین دین بڑھا دیا گیا ہے، بلکہ زیادہ تر رپورٹیں تجارتی رکاوٹ اورٹرانزٹ بندش کی طرف اشارہ کرتی ہیں۔
دونوں ممالک نے گزشتہ چند دنوں میں ایک عبوری جنگ بندی پر معاہدہ کیا ہے، اور اس کا مثبت اثر سرحدی راستوں اور ٹریڈ پر پڑنے کی توقع ہے، مگر ابھی تک ’’بڑا اضافہ‘‘ کی خبر واضح نہیں ہیں۔
✅ مختصراًکہا جائے تو’’لین دین بڑھا دیا گیا ہے‘‘ والا دعویٰ ابھی ثابت نہیں ہوا — یا کم از کم ان ذرائع میں اس کا کوئی تازہ تصدیق یافتہ ثبوت موجود نہیں۔ بلکہ رکاوٹیں اور معطلیاں جاری تھیں، جن کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں رک گئی تھیں۔ اگر تجارتی بہاؤ کو بحال یا بڑھایا گیا ہے، تو اس کی تفصیلات (کس پوائنٹ پر، کس حجم میں، کس اشیا کے ساتھ) ابھی عوامی سطح پر دستیاب نہیں ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: گیا ہے

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • آزادکشمیرکے ضلع میرپور میں انٹرنیٹ سروسز مرحلہ وار بحال ہونا شروع
  • آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • آزاد کشمیر میں ڈیڑھ ماہ بعد انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع