انسداد پولیو مہم میں غفلت: مرتکب افسران کیخلاف کارروائی کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (رپورٹ /واجد حسین انصاری) انسداد پولیو مہم کے دوران غفلت برتنے والے افسران کے خلاف حکومت سندھ حرکت میں آگئی۔پولیو ٹیموں کو تعاون فراہم نہ کرنے والے 42افسران کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں اور انہیں تین دن میں وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت سندھ نے صوبے میں پولیو کے نئے کیسز سامنے آنے پر انسداد پولیو مہم کے دوران غفلت برتنے والے سرکاری افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی شروع کردی ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے 42 افسران کو نوٹس جاری کیے ہیں جس میں افسران سے کہا گیا ہے کہ وہ پولیو ٹیموں کو تعاون فراہم کیے بغیر ڈیوٹی سے غیر حاضر رہے۔اپنی غیرحاضری کے حوالے سے وہ حکومت کو آگاہ کریں۔ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کمشنر کراچی کی رپورٹ پر حکومت سندھ یہ نوٹس لیا اور افسران کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔جن افسران کو اظہار وجوہ کے نوٹس جاری کیے گئے ہیں انہیں تین دن میں وضاحت جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے۔غفلت ثابت ہونے پر مروجہ قواعد کے تحت تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔متعلقہ افسران کو فوری طور پر متعلق اسسٹنٹ کمشنرز کو رپورٹ کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور پولیو ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اس سے قبل وزیراعلیٰ سندھ نے بچوں کو پولیو کے قطرے سے انکاری والدین کے خلاف سخت کارروائی کا عندیہ تھا تاہم اسے اب تک باضابطہ شکل نہیں دی جاسکی ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
امریکی ایوان نمائندگان کی ٹرمپ کو ایران جنگ روکنے کی ہدایت، قرارداد منظور
امریکا کے ریپبلکن اکثریتی ایوان نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیاں روکنے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کر لی جسے کانگریس کی جانب سے صدر ٹرمپ کے لیے ایک اور علامتی پیغام قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آبنائے ہرمز میں کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا تو ایران کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کردیں گے، ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکی
قرارداد 214 کے مقابلے میں 208 ووٹوں سے منظور ہوئی جبکہ چار ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیتے ہوئے اس کی حمایت کی۔
یہ قرارداد واشنگٹن سے تعلق رکھنے والی ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال نے پیش کی جس میں صدر ٹرمپ کو ہدایت دی گئی ہے کہ کانگریس کی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف امریکی مسلح افواج کی کارروائیاں بند کی جائیں۔
تاہم ماہرین کے مطابق اس قرارداد کی حیثیت زیادہ تر علامتی ہے، کیونکہ حالیہ مہینوں میں بھی کانگریس اس نوعیت کی متعدد قراردادیں منظور کر چکی ہے مگر ان کے نتیجے میں جنگی کارروائیاں نہیں رک سکیں۔
مزید پڑھیے: ایران مذاکرات کے لیے بے تاب، لیکن بامعنی بات چیت ہی ہوگی، ڈونلڈ ٹرمپ
قرارداد کی حمایت کرنے والے چار ریپبلکن ارکان میں ٹام بیریٹ (مشی گن)، برائن فٹزپیٹرک (پنسلوانیا)، وارن ڈیوڈسن (اوہائیو) اور تھامس میسی (کینٹکی) شامل ہیں۔
Today, the House PASSED my bipartisan War Powers Resolution to end the war in Iran by a vote of 214-208.
This is a big victory for the vast majority of Americans who want President Trump to end this illegal war and focus on their lives right here at home. pic.twitter.com/ZaE3NtTJdP
— Rep. Pramila Jayapal (@RepJayapal) July 23, 2026
اگرچہ ریپبلکن پارٹی کو ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں معمولی برتری حاصل ہے تاہم اس قرارداد کی منظوری کو صدر ٹرمپ کی پالیسیوں پر اپنی ہی جماعت کے بعض ارکان کے تحفظات کی علامت بھی قرار دیا جا رہا ہے۔
ادھر امریکی سینیٹ میں بھی ایران سے متعلق ایک علیحدہ مگر ملتی جلتی قرارداد پر ووٹنگ متوقع تھی۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف فوجی کارروائیوں میں مزید شدت لانے کا اعلان کیا ہے اور امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی بھی تصدیق کی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران کو ایک امریکی فوجی کے قتل کی کئی گنا زیادہ قیمت چکانی پڑےگی، ڈونلڈ ٹرمپ کی تہران کو وارننگ
صدر ٹرمپ نے جمعرات کو ایران اور اس کے اتحادی یمنی حوثی گروپ کو بڑی فوجی سزا دینے کا عندیہ دیا۔ دوسری جانب، عارضی جنگ بندی کے مؤثر طور پر ختم ہونے کے 2 ہفتے بعد امریکی فوج نے ایران پر ایک اور رات فضائی حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے پڑوسی ممالک میں قائم امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا امریکی ایوان نمائندگان ایران امریکا کشیدگی ٹرمپ کو جنگ روکنے کی ہدایت ڈیموکریٹ رکن پرامیلا جے پال ہاؤس آف ریپریزنٹیٹوز