کراچی:

وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ  پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار پی ایم ڈی سی کا بہترین امتحان ہونے جا رہا ہے، اگر کوئی پرچہ آوٹ ہوا تو صوبہ ذمہ دار ہو گا۔

کراچی میں پریس کانفرنس سے خطاب میں مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ایم ڈی کیٹ کے امتحانات پر ہر سال سوالات اٹھتے ہیں، ہر صوبے کا میڈیکل سلیبس الگ ہے، اس پر کہا جاتا ہے آؤٹ آف سلیبس سوال آ گیا، پی ایم ڈی سی نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار چھ ہزار سوالات کا ’کوئسچن بینک‘ بنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر صوبے کو تین تین سوالنامے دے دیے گئے ہیں، صوبے کی مرضی ہے کون سا سوالنامہ دے، پی ایم ڈی سی نے پہلی بار مسائل کا حل نکالا ہے، مارچ سے اس سوالات بینک پر کام چل رہا تھا۔ 

انہوں نے کہا کہ ٹیست کیلئے نو ہزار روپے فیس طالب علم سے لی گئی ہے جس میں سے ساڑھے سات ہزار صوبوں کو دے دیا گیا ہے جبکہ پندرہ سو روپے ایڈمنسٹریٹو ضروریات کے لیے پی ایم ڈی سی نے رکھے ہیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ 26 تاریخ کو امتحان ہونے جا رہا ہے جس کیلئے ایک لاکھ چالیس ہزار دو سو نوے طالب علموں نے رجسٹریشن کروائی ہے، بائیس ہزار طالب علموں کو داخلے دیے جائیں گے، 33 سینٹرز قائم کیے گئے ہیں جن میں 32 پاکستان میں اور ایک ریاض میں بنایا گیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: پی ایم ڈی سی نے کہا کہ

پڑھیں:

وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی

اسلام آباد (رضوان عباسی ) وزارتِ خارجہ کی قونصلر سروسز کے تحت اپوسٹل سروسز کے لیے کوریئر کمپنیوں کے انتخاب کے عمل پر آڈٹ نے کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ آڈٹ رپورٹ کے مطابق خدمات کے حصول میں پبلک پروکیورمنٹ رولز (پیپرا) کے تقاضوں پر مکمل عمل نہیں کیا گیا اور اوپن ٹینڈرنگ کے شواہد بھی ریکارڈ پر موجود نہیں ہیں۔ روزنامہ اوصاف کو حاصل دستاویزات کے مطابق 17 مئی 2024 سے اپوسٹل سروسز کے لیے ٹی سی ایس، لیوپرڈز، جیرینز، ایم اینڈ پی اور ایکسیلنٹ کوریئر سروسز (ECS) سمیت پانچ کوریئر کمپنیوں کو دستاویزات کی وصولی اور ترسیل کی ذمہ داری سونپی گئی۔ تاہم آڈٹ کا کہنا ہے کہ کمپنیوں کے انتخاب کے لیے نہ تو اوپن کمپیٹیٹیو بڈنگ کی گئی اور نہ ہی واضح سلیکشن کرائٹیریا یا کاروباری اہلیت کا مکمل ریکارڈ دستیاب تھا۔آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہی طریقہ کار صرف اسلام آباد ہی نہیں بلکہ کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ اور گجرات میں قائم فارن آفس لیزن دفاتر (FALOs) میں بھی اختیار کیا گیا۔

رپورٹ میں ای سی ایس یعنی ایکسیلینٹ کورئیر سروسز کے انتخاب پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ آڈٹ کے مطابق ای سی ایس کمپنی کے قومی سطح پر متعلقہ تجربے، کاروباری پروفائل اور اہلیت سے متعلق مطلوبہ ریکارڈ دستیاب نہیں تھا۔ اس کے علاوہ کمپنی کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) سے متعلق دستاویزات بھی ریکارڈ پر موجود نہ ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔آڈٹ رپورٹ میں یہ سفارش کی گئی ہے کہ پورے معاملے کی جامع تحقیقات کی جائیں، ذمہ داروں کا تعین کیا جائے اور آئندہ سرکاری خریداری اور خدمات کے حصول میں پیپرا رولز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔وزارتِ خارجہ کی جانب سے آڈٹ رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات پر تاحال باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کے زرمبادلہ میں اضافے کے لیے سرمایہ کاری ناگزیر، قونصلیٹ ہر ممکن تعاون کرے گا: قونصل جنرل سید مصطفیٰ ربانی
  • وزارتِ خارجہ کی اپوسٹل سروسز کے ٹھیکوں پر سوالات، آڈٹ میں قواعد کی مبینہ خلاف ورزیوں کی نشاندہی
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی کی لاہور آمد: وفاقی وزیر داخلہ اور گورنرپنجاب کے ہمراہ مزار اقبال اور دربار بی بی پاکدامن حاضری
  • بلاول کے پنجاب کے شہروں کی صورتحال پر سوالات، مریم اورنگزیب نے ویڈیو جاری کرکے جواب دیدیا