data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

راولپنڈی، پشاور: ملک کے دو بڑے شہروں راولپنڈی اور پشاور میں ڈینگی وائرس کے حملے تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس نے شہری انتظامیہ اور صحت کے اداروں کی کارکردگی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

مون سون کے بعد مچھروں کی افزائش کے لیے سازگار ماحول نے وائرس کے پھیلاؤ کو مزید بڑھا دیا ہے، جس سے شہریوں میں خوف و تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق راولپنڈی میں اب تک 15 ہزار 139 افراد کے ڈینگی ٹیسٹ کیے جا چکے ہیں، جن میں سے 1163 مریضوں میں وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیلتھ اتھارٹی راولپنڈی کے مطابق صرف گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں 21 نئے کیسز رپورٹ ہوئے، تاہم خوش قسمتی سے اب تک کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی۔

شہر کے مختلف اسپتالوں میں 42 مریض زیر علاج ہیں جب کہ انتظامیہ نے لاروا کی موجودگی کے انسداد کے لیے گھروں کی بڑے پیمانے پر جانچ کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 59 لاکھ 9 ہزار 755 گھروں کی چیکنگ مکمل کی جا چکی ہے جن میں سے 1 لاکھ 85 ہزار سے زائد گھروں میں ڈینگی لاروا پایا گیا۔

دوسری جانب پشاور میں صورتحال بھی تشویشناک بنتی جا رہی ہے۔ شہر میں ڈینگی کے ایکٹو کیسز کی تعداد 268 تک پہنچ چکی ہے، جب کہ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 38 نئے مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

خیبر پختونخوا میں اب تک 3830 ڈینگی کیسز سامنے آ چکے ہیں اور صوبے میں اس مہلک وائرس سے دو ہلاکتیں بھی ہو چکی ہیں۔

محکمہ صحت کے مطابق پشاور کے اسپتالوں میں 54 مریض زیر علاج ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس وقت پشاور میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب ہے، جو ڈینگی مچھر کی افزائش کے لیے انتہائی موزوں درجہ حرارت سمجھا جاتا ہے، تاہم پہاڑی اور سرد اضلاع میں جہاں موسم خشک اور ٹھنڈا ہو چکا ہے، وہاں کیسز میں نمایاں کمی دیکھی جا رہی ہے۔

حکومتی اداروں نے لاروا کش اسپرے، آگاہی مہمات اور گھروں میں احتیاطی اقدامات کو مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کی ہے۔ شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ پانی جمع ہونے والے مقامات کو ختم کریں، مچھروں سے بچاؤ کے اسپرے کا استعمال کریں اور مکمل آستین والے کپڑے پہنیں۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو نومبر کے آغاز تک کیسز میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ موجودہ درجہ حرارت ڈینگی کے لیے موزوں ماحول فراہم کر رہا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: پشاور میں میں ڈینگی کے مطابق کے لیے

پڑھیں:

سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ

سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ گزشتہ ہفتے کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے جبکہ ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر 60 لاکھ ڈالر کم ہو کر 22 ارب 66 کروڑ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔ مرکزی بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی کمی ہوئی، جس کے بعد ان کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ ڈالر رہ گئے۔

متعلقہ مضامین

  • سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر کا اضافہ
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بے قابو، فی بیرل 100 ڈالر سے متجاوز
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • تیزی سے بڑھتی آبادی ملک کیلئے سب سے بڑا چیلنج ہے: وزیراعظم
  • موسلادھار بارش سے اربن فلڈنگ، سڑکیں دریا بن گئیں، گھروں میں پانی داخل
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران