جنوبی افریقہ نے دوسرے اور فیصلہ کن ٹیسٹ میچ میں پاکستان کو 8 وکٹوں سے شکست دے کر سیریز ایک ایک سے برابر کردی، پاکستان ٹیم دوسری اننگز میں صرف 138 رنز پر ڈھیر ہوگئی اور مہمان ٹیم کو جیت کے لیے 68 رنز کا آسان ہدف دیا جو اس نے 2 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرلیا۔

پاکستان ٹیم نے چوتھے روز صرف 44 رنز بنائے اور 6 وکٹیں گنوائیں، نصف سنچری بنانے والے بابر اعظم کے علاوہ کو بلے باز قابل ذکر کاکردگی نہیں دکھاسکا، جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہرمن نے کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

جنوبی افریقہ کی دوسری اننگز
راولپنڈی میں کھیلے گئے میچ کے چوتھے روز جنوبی افریقہ نے دوسری اننگز میں 68 رنز کے آسان ہدف کے تعاقب میں جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کیا، ایڈن مارکرم نے 8 چوکوں کی مدد سے 45 گیندوں پر 42 رنز کی اننگز کھیلی تاہم جیت کے نذدیک پہنچ کر نعمان علی کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔

پہلی اننگز میں نصف سنچری اسکور کرنے والے ٹرسٹن اسٹربز دوسری اننگز میں کھاتا کھولے بغیر نعمان علی کی گیند پر سلمان علی آغا کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوگئے

پاکستان ٹیم نے چوتھے روز صرف 44 رنز بنائے اور 6 وکٹیں گنوادیں، نصف سنچری بنانے والے بابر اعظم کے علاوہ کو بلے باز قابل ذکر کاکردگی نہیں دکھاسکا، جنوبی افریقہ کی جانب سے سائمن ہرمن نے کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔

VGOTEL Mobile Presents Bank Alfalah Pakistan vs South Africa Test Series 2025 ????

Second Test Day 4 – Innings Break

Pakistan 333 & 138 49.

3 overs

South Africa 404 all out in 119.3 overs

Pakistan lead by 67 runs

Watch live in UK region, sign up now at https://t.co/Z0RXSR6J9e… pic.twitter.com/xfL44dI9RV

— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 23, 2025

پاکستان کی دوسری اننگز
چوتھے روز پاکستان نے 4 وکٹوں کے نقصان پر 94 رنز پر کھیل کا آغاز کیا تو بابراعظم پہلے ہی اوور میں نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد 96 کے مجموعی اسکور پر سائمن ہرمر کی گیند پر ایل بی ڈبلیو آؤٹ ہوگئے۔

Babar Azam reaches his 30th Test half-century ????#PAKvSA | #GreenPeYaqeen pic.twitter.com/PCZAbZrAOQ

— Pakistan Cricket (@TheRealPCB) October 23, 2025

105 کے مجموعی اسکور پر 18 رنز بنانے والے محمد رضوان بھی سائمن ہرمر کا شکار بنے اور ٹونی ڈی زورزی نے کیچ تھام کر انہیں پویلین کی راہ دکھائی، اس کے بعد آنے والے نعمان علی بھی کھاتہ کھولے بغیر سائمن ہرمر کی ہی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔

شاہین شاہ آفریدی بھی کھاتہ کھولے بغیر غیر ضروری رن لینے کی کوشش میں ریکلٹن کے ہاتھوں رن آؤٹ ہوگئے۔

ساجد خان کے ساتھ 24 رنز کی شراکت قائم کرکے ٹیم کی آخری امید بننے والے سلمان علی آغا 28 رنز بناکر مہاراج کی گیند پر کٹ شاٹ کھیلتے ہوئے بولڈ ہوگئے، ساجد خان 13 رنز بنانے کے بعد کیشو مہاراج کی گیند پر اسٹمپ ہوگئے۔

پاکستان نے میچ کے چوتھے روز دوسری اننگز میں 6 وکٹیں گنوائیں اور صرف 44 بنائے، اس سے قبل گزشتہ روز پہلی اننگز میں جنوبی افریقہ کی 71 رنز کی برتری کے بعد دوسری اننگز میں پاکستان کا ٹاپ آرڈر مکمل طور پر ناکام نظر آیا، صرف 16 کے مجموعے پر قومی ٹیم کے 3 کھلاڑی پویلین واپس لوٹ چکے تھے، امام الحق 9، عبداللہ شفیق 6 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے، کپتان شان مسعود کھاتا بھی کھول نہ سکے جبکہ مڈل آرڈر بیٹر سعود شکیل 11 رنز بنا کر واپس لوٹے تھے۔

سائمن ہرمر نے دوسری اننگز میں 6 وکٹیں حاصل کیں جبکہ کیشو مہاراج نے 2 اور کگیسو ربادا نے ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔

جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز
قبل ازیں جنوبی افریقہ نے پہلی اننگز میں پاکستان کے 333 رنز کے جواب میں ٹرسٹن اسٹربز، ٹونی ڈی زورزی اور سینوران متھوسوامے اور کگیسو ربادا کی نصف سنچریز کی بدولت 404 رنز بنائے تھے اور پاکستان پر 71 رنز کی برتری حاصل کرلی تھی، پاکستان کی جانب سے ڈیبیو کرنے والے فیصل نے 6 وکٹیں حاصل کی تھی جبکہ نعمان علی نے 2 اور شاہین شاہ آفریدی اور ساجد خان نے ایک ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

پاکستان کی پہلی اننگز
پاکستان نے پہلی اننگز میں عبداللہ شفیق، شان مسعود اور سعود شکیل کی نصف سنچریز اور سلمان علی آغا کے 45 رنز کی بدولت 333 رنز بنائے تھے، جنوبی افریقہ کی جانب سے کیشو مہاراج نے 7، سائمن ہرمر نے 2 جبکہ کگیسو ربادا نے ایک وکٹ حاصل کی تھی۔

واضح رہے کہ 2 ٹیسٹ میچز کی سیریز کے پہلے میچ میں پاکستان نے جنوبی افریقہ کو 93 رنز سے شکست دے کر سیریز میں ایک صفر کی سبقت حاصل کرلی تھی۔

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: جنوبی افریقہ نے جنوبی افریقہ کی پہلی اننگز میں میں پاکستان پاکستان نے کی گیند پر کی جانب سے چوتھے روز نعمان علی آؤٹ ہوگئے حاصل کی کے بعد رنز کی

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • مستونگ میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے سیشن جج عبد الحکیم کاکڑ جاں بحق
  • ایک ملک نے پاکستانیوں کیلیے ویزہ فیس ختم کردی
  • کاوا مینز والی بال چیمپئن شپ: قومی ٹیم نے دوسرے روز بنگلا دیش کو شکست دے دی
  • گلاسگو کی فضاؤں میں دیو ہیکل ڈریگن کی پرواز، وائرل ویڈیوز نے سب کو دنگ کردیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق