برطانیہ میں مساجد کی حفاظت کے لیے حکومت کا بڑا اقدام؛ مسلمانوں کے دل جیت لیے
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
برطانیہ میں بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے واقعات اور مساجد پر حملوں کے بعد حکومت نے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے ایک اہم اور تاریخی اقدام اٹھایا ہے، جسے ملکی سطح پر بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔
عالمی ذرائع ابلاغ کے مطابق برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ مساجد اور اسلامی مراکز پر نفرت انگیز حملوں میں اضافے کے پیش نظر حکومت 10 ملین پاؤنڈ کی اضافی فنڈنگ فراہم کرے گی تاکہ ان کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ اعلان وزیرِ اعظم نے وزیرِ داخلہ شبانہ محمود کے ہمراہ مشرقی سسیکس کی ایک مسجد کے دورے کے دوران کیا، جہاں رواں ماہ کے آغاز میں ایک شخص نے مسجد کے دروازے کے قریب گاڑی کو آگ لگا دی تھی۔ اس واقعے کے بعد برطانوی مسلم کمیونٹی میں تشویش کی لہر دوڑ گئی تھی۔
اس موقع پر کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ ایک کثیرالثقافتی ملک ہے اور اسے اپنی رواداری، یکجہتی اور تنوع پر فخر ہے۔ ان کے مطابق کسی بھی مذہبی یا نسلی کمیونٹی پر حملہ دراصل برطانوی معاشرتی اقدار پر حملہ ہے، جسے کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ فنڈنگ صرف مالی معاونت نہیں بلکہ ایک واضح پیغام ہے کہ برطانیہ کے مسلمان شہری محفوظ، باعزت اور معاشرے کے لازمی حصہ ہیں۔
وزیرِ داخلہ شبانہ محمود نے بھی کہا کہ حکومت مساجد کی نگرانی، حفاظتی کیمروں، داخلی راستوں اور ہنگامی ردعمل کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرے گی تاکہ ایسے واقعات کو آئندہ روکا جا سکے۔ انہوں نے حملے کو خوفناک جرم قرار دیتے ہوئے کہا کہ خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان سے بچا گیا، تاہم اس واقعے نے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
ایرانی پاسداران انقلاب نے برطانیہ کو دھکمی دی ہے کہ اگر ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں ملوث ہوئے تو جارحیت کے استعمال ہونے والے کسی بھی بیس پر ہمارے حملے جائز ہوں گے اور برطانیہ کو اپنے ماضی کو مزید خراب نہ کرے۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب نے بیان میں کہا کہ برطانیہ نے ایران پر حالیہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں میں بڑا کردار ادا کیا ہے لہٰذا ہم برطانوی حکومت جو ہمارے خطے کے لوگوں کی تقدیر خراب کرنے کی بنیادی وجہ ہے، کو تنبیہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے ماضی پر مزید بوجھ مت ڈالیں۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ امریکی بحری فورسز بحیریہ ہند میں فعال ہے مگر ان کے کروز میزائل کا ذخیرہ ختم ہوگیا ہے اور اسی لیے وہ انگلینڈ آر اے ایف فیئرفورڈ سے بی ون بمبار استعمال کرنا شروع کردیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حملہ آور امریکی فوج جنگ کے آغاز کے بعد بحر ہند میں موجود اپنے بحری جہازوں سے کروز میزائل داغنے پر انحصار کر رہی تھی مگر ان جہازوں کے میزائلوں کا ذخیرہ ختم ہونے کے بعد کل برطانیہ کے فیرفورڈ فضائی اڈے سے پرواز کرنے والے بی ون طیاروں کے استعمال پر مجبور ہو گئی ہے۔
پاسداران انقلاب نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جیسا کہ وزارت خارجہ کے عہدیداروں نے بھی واضح کیا ہے کہ ایرانی سرزمین کے خلاف استعمال ہونے والا کوئی بھی بیس ہمارے لیے نشانہ بنانے کے جائز ہدف ہوگا۔
مزید کہا گیا کہ برطانیہ کا اسلامی ممالک کی تقسیم، ان ممالک میں بڑے پیمانے پر قتل عام، آمرانہ حکومتوں کے قیام اور سب سے بڑھ کر فلسطین پر قبضے کو منظم کرنے اور اس کی سرپرستی کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام جیسے سانحے کو جنم دینے کا ایک سیاہ ریکارڈ ہے۔
خیال رہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے برطانیہ کو دھمکی ایک ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان لڑائی اپنے عروج پر ہے دونوں اطراف سے ایک دوسرے کی تنصیبات پر حملے کیے جا رہے ہیں۔
برطانیہ پہلے ہی نئے قانون کے تحت پاسداران انقلاب کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے چکا ہے جبکہ ایران نے اس اقدام کو جارحانہ قرار دیتے ہوئے جواب میں اسی طرح کا اقدام کرنے کا عزم ظاہر کر دیا ہے۔