مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پیٹر پائپر نے غزہ کی پٹی کے تمام راستے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا  ہے تاکہ مناسب طبی سامان کی فراہمی، امدادی سرگرمیوں میں توسیع اور 4000 بچوں سمیت تقریباً 15,000 مریضوں کو غزہ سے باہر لے جایا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے پیٹر پائپر نے غزہ کی پٹی کے تمام راستے کھولنے کی ضرورت پر زور دیا ہے تاکہ مناسب طبی سامان کی فراہمی، امدادی سرگرمیوں میں توسیع اور 4000 بچوں سمیت تقریباً 15,000 مریضوں کو غزہ سے باہر لے جایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ تمام کراسنگ کو کھولنا شرم الشیخ میں طے پانے والے امن معاہدے کا حصہ ہے اور اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے۔ صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ضرورت کے مطابق تیزی سے انخلاء کے عمل کو بڑھایا نہیں گیا تو بیماروں اور شدید بیماروں کی صحت یابی میں دس سال لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ بہت سے لوگوں کی حالت ابتر ہو چکی ہے اور بہت سے بچے، عورتیں اور مرد غیر ضروری طور پر مر جائیں گے۔ اس وجہ سے، "ہم انخلاء کے دائرہ کار کو بڑھانے اور اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت دباؤ ڈال رہے ہیں کہ مغربی کنارے اور یروشلم کی راہداری سمیت تمام طبی راہداریوں کو کھول دیا جائے۔"

مقبوضہ علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے نے انکشاف کیا ہے کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے غزہ میں 88 فلسطینی شہید اور 325 زخمی ہوئے ہیں۔ اکتوبر 2023ء سے اب تک ہلاکتوں کی کل تعداد 68,234 اور زخمیوں کی تعداد 170,373 ہو گئی۔ انہوں نے بتایا کہ ہزاروں افراد ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا صحت کا نظام اس وقت جزوی صلاحیت کے ساتھ کام کر رہا ہے، 36 میں سے صرف 14 ہسپتال، 181 میں سے 64 بنیادی نگہداشت کے مراکز، اور 350 میں سے 109 طبی مراکز محدود فعالیت کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ 2.

1 ملین کی آبادی کے لیے پوری پٹی میں فعال بستروں کی تعداد صرف 2,100 ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ غزہ کے صحت کے نظام کو پہنچنے والے نقصان کا ابتدائی تخمینہ تقریباً سات بلین ڈالر لگایا گیا ہے اور اس کی تعمیر نو کے لیے طبی عملے کی تعداد کو دوگنا کرنے اور مقامی حکام اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی ہم آہنگی کی ضرورت ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: انہوں نے صحت کے

پڑھیں:

سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سپریم کورٹ آف پاکستان نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا۔

نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ نیب سے متعلق تمام مقدمات آئینی عدالت سنے گی،نیب قانون میں ترمیم کے بعد سپریم کورٹ نیب مقدمات نہیں سن سکتی،نیب کے تمام مقدمات آئینی عدالت منتقل ہو گئے ہیں،جسٹس محمد علی مظہر نے مختصر فیصلہ سنایا۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • ایران پر امریکی حملوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 55 ہو گئی، 645 زخمی
  • ایران جنگ، امریکی اسلحہ ذخائر کی بحالی میں 5 سال لگ سکتے ہیں، سابق پینٹاگون عہدیدار
  • پی ٹی اے کی موبائل سمز سے متعلق اہم وارننگ
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • گوگل کا نیا سیکیورٹی فیچر، کیا اب پاس ورڈ کی ضرورت ہی نہیں رہے گی؟
  • ’چاہیں تو گھر سے کھانا بھجوا دوں‘، سلمان خان کی سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی اپیل
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • آزاد کشمیر میں 47 روز بعد میرپور میں انٹرنیٹ سروس جزوی بحال، دیگر علاقوں میں بحالی کا انتظار
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش