جامعہ عروۃالوثقی میں شریعہ ایکسپرٹس اِن اسلامک بینکنگ پروگرام کا انعقاد
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ دینی ادارے اور بینکاری ماہرین باہم اشتراک سے ایسا تعلیمی شعبہ قائم کریں جو ایسے باصلاحیت افراد تیار کرے جو فکرِ اسلامی میں پختہ اور اسلامی بینکاری میں مکمل مہارت رکھنے والے ہوں، تاکہ حقیقی معنوں میں شریعت پر مبنی مالی نظام کے علمبردار سامنے آ سکیں۔ اسلام ٹائمز۔ جامعہ عروۃالوثقی میں فنانشل اِنکلوژن سپورٹ ڈویژن کے اشتراک اور بینک دولتِ پاکستان کے تعاون سے شریعہ ایکسپرٹس اِن اسلامک بینکنگ پروگرام منعقد کیا گیا۔ جس میں ممتاز شریعہ اسکالرز، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے نمائندگان اور اسلامی بینکنگ انڈسٹری کے سرکردہ ماہرین نے شرکت کی۔ جس میں سٹیٹ بینک آف پاکستان کے سرفراز احمد ندیم ڈی سی ایم، ایف ای ڈی، سید جواد رضوی ہیڈ آف شریعہ کمپلینس بینک الحبیب لمیٹڈ اسلامک بنکنگ، طارق عزیز چیف منیجر ایس بی سی بی ایس سی لاہور نے خصوصی شرکت کی۔
ماہرین نے پاکستان میں اسلامی بینکنگ و فنانس کے بدلتے ہوئے منظرنامے پر اپنے خیالات پیش کیے۔ اس موقع پہ ٹرینر سید جواد رضوی ہیڈ آف شریعہ کمپلینس بینک الحبیب لمیٹڈ اسلامک بنکنگ نے تفصیلا اسلامک بنکاری پہ طلبہ و طالبات سے گفتگو کی اور کہا کہ مدارسِ دینیہ کو اپنے روایتی علمی ورثے کے ساتھ ساتھ زمانے کے نئے تقاضوں پر بھی توجّہ دینا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ فقہ کی حقیقی وسعت اسی وقت ظاہر ہوتی ہے جب وہ عصرِ حاضر کے مسائل پر اپنی راہنمائی پیش کرے۔ بینکاری، معیشت، ٹیکنالوجی، طب، اور جدید معاشرتی روابط، یہ سب وہ میدان ہیں جہاں روز نئے سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہی مسائلِ مستحدثہ ہیں اور انہی میں فقہ کی اجتہادی روح بروئے کار آتی ہے۔ اس موقع پہ علامہ سید جواد نقوی کا کہنا تھا کہ ضروری ہے کہ دینی ادارے اور بینکاری ماہرین باہم اشتراک سے ایسا تعلیمی شعبہ قائم کریں جو ایسے باصلاحیت افراد تیار کرے جو فکرِ اسلامی میں پختہ اور اسلامی بینکاری میں مکمل مہارت رکھنے والے ہوں، تاکہ حقیقی معنوں میں شریعت پر مبنی مالی نظام کے علمبردار سامنے آ سکیں۔
سیمینار کے آخر میں تمام معزز مہمانان کو جامعہ عروۃالوثقی کی جانب سے اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جامعہ عروۃالوثقی کے مدیران کو شیلڈ سے نوازا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: جامعہ عروۃالوثقی سید جواد
پڑھیں:
ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
اسلام آباد: ویپنگ کے نقصانات سے متعلق سامنے آنے والی نئی تحقیق نے ای سگریٹ استعمال کرنے والوں کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ویپنگ کو عام سگریٹ کا محفوظ متبادل سمجھنا ایک غلط فہمی ہے، کیونکہ اس کے استعمال سے بھی انسانی صحت پر سنگین منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
تحقیقی رپورٹ کے مطابق ویپ استعمال کرنے والے افراد کے منہ اور پھیپھڑوں کے خلیوں میں ڈی این اے کو نقصان پہنچنے کے شواہد ملے ہیں۔ ماہرین کے مطابق ڈی این اے میں خرابی مختلف بیماریوں، خصوصاً کینسر کے خطرات میں اضافے کا باعث بن سکتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ویپ میں روایتی تمباکو موجود نہیں ہوتا، لیکن اس میں شامل مختلف کیمیکلز اور فلیورز انسانی خلیوں پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ پوڈ سسٹم پر مبنی ویپ استعمال کرنے والے افراد میں خلیاتی نقصان نسبتاً زیادہ دیکھا گیا۔
سائنس دانوں کے مطابق ویپنگ اور روایتی سگریٹ نوشی کا طریقہ کار مختلف ضرور ہے، تاہم دونوں صورتوں میں جسم کو نقصان پہنچنے کا خطرہ موجود رہتا ہے۔ بعض مطالعات میں ویپ استعمال کرنے والوں کے خلیوں میں ہونے والے ڈی این اے نقصان کی سطح سگریٹ نوش افراد کے قریب پائی گئی۔
ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ نوجوانوں میں ویپنگ کا بڑھتا ہوا رجحان مستقبل میں صحت عامہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ای سگریٹ کو محفوظ متبادل سمجھ کر استعمال کرنے کے بجائے اس سے مکمل اجتناب اختیار کرنا زیادہ بہتر ہے۔
ماہرین نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ ویپنگ کے نقصانات کو سنجیدگی سے لیں اور اپنی صحت کے تحفظ کے لیے ایسی تمام مصنوعات سے حتیٰ الامکان دور رہیں، کیونکہ نئی سائنسی تحقیقات کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ویپنگ بھی انسانی جسم کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔