پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ WhatsAppFacebookTwitter 0 9 December, 2025 سب نیوز

اسلام آباد:(آئی پی ایس)
پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان اعلیٰ تعلیم و صحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے سات معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کردیا گیا۔

معاہدوں پر دستخط اور مفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب وزیراعظم ہاؤس میں منعقد ہوئی جس کے بعد دونوں رہنماؤں نے مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مشترکہ پریس کانفرس سے خطاب میں کہا کہ انڈونیشیا کے صدر کو پاکستان میں خوش آمدید کہتے ہیں، ہماری آج کی بات چیت کافی مثبت رہی، پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات ہر آزمائش پر پورے اترے ہیں، انڈونیشیا کے صدر کے دورے سے دونوں ملکوں کے تعلقات نئی بلندیوں کو چھوئیں گے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ملاقات میں ہم نے باہمی تجارت میں توازن، میڈیکل، ہیلتھ اور ووکیشنل ٹریننگ میں تعاون پر بات چیت کی۔ پاکستانی ڈاکٹرز، میڈیکل پروفیسرز اور ماہرین کو انڈونیشیا بھیجنے پر اتفاق ہوا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے تعلقات کی تاریخ 75 سال پر مبنی ہے، انڈونیشیا کی عوام اور حکومت نے 1965 کی جنگ میں پاکستان کیساتھ اظہار یکجہتی کیا، فلسطین کے حوالے بات کرتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں قابل مذمت ہیں۔

صدر انڈونیشیا پرابوو سوبیانتو نے شاندار میزبانی اور استقبال پر وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی فضائی حدود میں جے ایف 17 تھنڈر طیاروں کی سلامی میرے لیے اعزاز ہے۔ ہم نے مختلف شعبوں میں تعاون کے حوالے سے یادداشتوں اور ایم او یوز کا تبادلہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں، پاکستان کی جانب سے صحت کے شعبے میں تعاون کا خیر مقدم کرتے ہیں، پاکستان کیساتھ تعلیم، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دیں گے، انہوں نے کہا کہ غزہ کے معاملے پر ہم نے مشترکہ موقف اپنایا ہے۔

قبل ازیں انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو کا وزیراعظم ہاؤس آمد پر وزیراعظم شہباز شریف نے پرتپاک استقبال کیا۔ وزیراعظم ہاؤس آمد پر معزز مہمان کو پاکستان کی مسلح افواج کے دستے کی جانب سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ انڈونیشیا کے صدر نے وزیراعظم ہاؤس میں یادگاری پودا بھی لگایا۔ انڈونیشیا کے صدر نے گارڈ آف آنر کا معانہ کیا جس کے بعد انکا وفاقی وزراء سے تعارف کرایا گیا۔

انڈونیشیا کے صدر پروبووو سَوبیانتو کا یہ پاکستان کا پہلا سرکاری دورہ ہے، انڈونیشیا کے صدر دورے کے دوران صدر مملکت آصف علی زرداری سے بھی ملاقات کریں گے۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراسلام آباد ہائیکورٹ کا کچی آبادی مسلم کالونی میں سی ڈی اے آپریشن روکنے کا حکم اسلام آباد ہائیکورٹ کا کچی آبادی مسلم کالونی میں سی ڈی اے آپریشن روکنے کا حکم الیکشں کمیشن نے اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کر دیا ایبٹ آباد: مقتول ڈاکٹر سپرد خاک، مرکزی ملزمہ کی نشاندہی پر مزید 3 ملزمان گرفتار درگاہ شاہ عبدالطیف بھٹائی پر چورگیٹ توڑ کر چاندی لے اڑے قومی اسمبلی کے سیکرٹری جنرل طاہر حسین مستعفی مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی دوبارہ شادی کی خبریں زیر گردش، دلہن کون ہیں؟ TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2025, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Sub News

کلیدی لفظ: پاکستان اور انڈونیشیا کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے اور مفاہمتی یادداشتوں وزیراعظم شہباز شریف انڈونیشیا کے صدر پاکستان کی کا تبادلہ نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا

نیوز بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی ترجمان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ نے کہا ہے کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ توانائی اور سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت سے مشروط ہے۔  نیوز بریفنگ کے دوران کیرولین لیویٹ نے بتایا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سعودی قیادت سے مجوزہ جوہری معاہدے کی شرائط پر ابھی تک براہِ راست بات نہیں ہوئی، تاہم امریکا سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ ماضی میں بھی سعودی عرب کے ساتھ مختلف معاہدوں کے حوالے سے بات چیت کر چکے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ سعودی عرب ابراہیم اکارڈز پر دستخط کرے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ صدر ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے درمیان متوقع ملاقات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) ٹیکنالوجی کی مبینہ چوری کا معاملہ بھی زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔ کیرولین لیویٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ امریکا سعودی عرب کے ساتھ توانائی اور سول جوہری تعاون سے متعلق مذاکرات جاری رکھے گا، تاہم کسی بھی حتمی معاہدے کے لیے متعلقہ شرائط پوری ہونا ضروری ہوں گی۔

متعلقہ مضامین

  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم