data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج گزشتہ کاروباری ہفتے شدید اتار چڑھاؤ اور مجموعی مندی کی لپیٹ میں رہی، جہاں سرمایہ کاروں کو ایک کھرب 53 ارب روپے سے زائد کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

کاروباری ہفتے کے آغاز میں ابتدائی 2 سیشنز میں تیزی دیکھی گئی اور ہنڈریڈ انڈیکس نے 168,414 پوائنٹس کی بلند ترین سطح کو چھوا، تاہم بعد ازاں انسٹیٹیوشنز اور انشورنس کمپنیوں کی جانب سے پرافٹ ٹیکنگ کے باعث مارکیٹ کا رجحان مندی میں بدل گیا اور باقی 3 کاروباری سیشنز میں مسلسل مندی کے نتیجے میں سرمایہ کاروں کا اعتماد متزلزل رہا اور مجموعی طور پر انڈیکس 509.

09 پوائنٹس کی کمی کے بعد 163,304.13 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اعدادوشمار کے مطابق کے ایس ای-30 انڈیکس بھی 281 پوائنٹس گھٹ کر 49,842 پوائنٹس جبکہ آل شئیر انڈیکس 464 پوائنٹس کمی کے ساتھ 99,380 پوائنٹس پر بند ہوا۔

اسی طرح کے ایم آئی-30 انڈیکس بھی 426 پوائنٹس گر کر 238,104 پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔ مارکیٹ کیپٹلائزیشن میں نمایاں کمی دیکھی گئی اور مجموعی سرمایہ گھٹ کر 188 کھرب 14 ارب روپے رہ گیا۔

ہفتہ وار اوسط کاروباری حجم میں بھی 18.8 فیصد کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں صرف 1.38 ارب حصص کا کاروبار ہوا۔ ماہرین کے مطابق کثیرالقومی کمپنیوں کی جانب سے ڈی لسٹنگ کے عمل اور برآمدات میں کمی جبکہ درآمدات کے 14 فیصد بڑھنے نے مارکیٹ کی سرگرمیوں کو مزید متاثر کیا۔

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ

تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیل میں وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر مسلسل تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی سیاست دانوں اور مختلف ذرائع ابلاغ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو قومی اہداف کی بجائے سیاسی مفادات اور اقتدار کے تحفظ کو ترجیح دے رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا میں اظہار خیال کرنے والے مبصرین نے کہا کہ بہت سے اسرائیلی شہری اور سیاسی حلقے توقع کر رہے تھے کہ نیتن یاہو ایسے اقدامات کریں گے، جنہیں وہ اسرائیل کے تزویراتی مقاصد کے حصول کیلئے ضروری سمجھتے ہیں، تاہم ان کی حالیہ پالیسیوں نے ان توقعات کو پورا نہیں کیا۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک بار پھر ریاستی مفادات کے بجائے اپنی سیاسی بقا کو ترجیح دی، تجزیہ کاروں کے مطابق نیتن یاہو کے بعض خفیہ سیاسی مقاصد بھی تھے، وہ بیروت میں فوجی کارروائیوں کے ذریعے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکراتی عمل کو ناکام بنانا چاہتے تھے، اسی تناظر میں امریکی صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو سے رابطہ کیا اور انہیں ممکنہ نتائج سے آگاہ کرتے ہوئے دباؤ ڈالا۔

متعلقہ مضامین

  • تھائی لینڈ میں غیر ملکیوں کی خفیہ کاروباری سرگرمیوں اور شیل کمپنیوں کے خلاف بڑا آپریشن 
  • رواں ماہ بجلی صارفین کو کتنا ریلیف ملے گا؟ پاور ڈویژن نے بتا دیا
  • اسرائیل میں نیتن یاہو کی ہٹ دھرمی پر تنقید میں اضافہ
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا