—فائل فوٹو

ایس پی عدیل اکبر کی ڈی آئی جی اسلام آباد کو چھٹی سے متعلق دی گئی درخواست اور ان کی میڈیکل رپورٹ سامنے آگئی

میڈیکل رپورٹ کے مطابق ایس پی عدیل اکبر کا ڈینگی ٹیسٹ پوزیٹو آیا تھا، انہوں نے 20 اکتوبر کو پولی کلینک سے چیک اپ کرایا تھا۔

ڈینگی پوزیٹیو آنے کے بعد ایس پی عدیل اکبر نے 3 روز کی چھٹی کی درخواست دی تھی۔ ڈی آئی جی اسلام آباد نے ان کی چھٹی منظور کر لی تھی۔

ذرائع کے مطابق عدیل اکبر نے میڈیکل چھٹی کے بعد 23 اکتوبر کو دوبارہ ڈیوٹی جوائن کی تھی۔ 

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ عدیل اکبر کا بیرون ملک یونیورسٹی میں داخلہ ہو چکا تھا، وہ دفتر خارجہ دستاویزات کی تصدیق کے لیے بھی گئے تھے، قوی امکان ہے کہ عدیل اکبر سے ایس ایم جی گن حادثاتی طور پر چلی ہو۔

اسلام آباد پولیس کے ایس پی نے مبینہ خودکشی کر لی

اسلام آباد پولیس کے ایس پی نے مبینہ طور پر خودکشی کر لی۔

پولیسنگ ماہرین کے مطابق حادثے میں ایس ایم جی گن کے شاٹ کا 65 ڈگری اینگل ہے، پی ایس پی افسران ایس ایم جی گن استعمال سے زیادہ ماہر نہیں ہوتے۔

ذرائع کے مطابق عدیل اکبر کی موت کے وقت گاڑی میں موجود آپریٹر اور ڈرائیور زیر حراست ہیں، واقعے کے دوران گاڑی میں ہونے والی بات چیت سے متعلق تفتیش جاری ہے، ایس پی عدیل اکبر نے ہتھیار کیوں مانگا اور انہیں کیوں دیا گیا۔ ایس پی عدیل اکبر کو موبائل پر آنے والی کالز کی تفتیش بھی جاری ہے۔

آپریٹر نے ابتدائی بیان میں بتایا ہے کہ وہ اپنی پروموشن سے متعلق اسٹبلشمنٹ ڈویژن ملنے جا رہے تھے، ایس پی کو ایک کال 4 بج کر 23 منٹ پر آئی، عدیل اکبر نے ڈرائیور کو دفتر خارجہ جانے کا کہا، وہ کاغذات کی تصدیق کے لیے دفتر خارجہ گئے، کچھ دیر بعد واپس آ گئے۔

آپریٹر نے کہا کہ ایک اور کال آئی، جس کے بعد نجی ہوٹل کے سامنے عدیل اکبر نے مجھ سے گن مانگ لی، میں نے میگزین نکال کر ان کو دے دی، عدیل اکبر نے سیکیورٹی چیکنگ کے دوران پوچھا یہ گن چلتی بھی ہے کہ نہیں،  عدیل اکبر نے کہا لاؤ میگزین مجھے دو، اس میں کتنی گولیاں ہیں، میگزین عدیل اکبر کے حوالے کیا اور کہا اس میں 50 گولیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدیل اکبر اپنی سرکاری گاڑی ڈبل کیبن کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے تھے ، میں اور ڈرائیور گاڑی کی اگلی نشست پر موجود تھے، میگزین عدیل اکبر کے حوالے کرنے کے بعد انہوں نے میگزین گن میں لوڈ کی، چند لمحوں بعد اچانک فائر کی آواز آئی، عدیل اکبر کے ماتھے پر فائر لگا جو سر کے پچھلے حصے سے باہر نکل گیا، ان کی موقع پر ہی موت واقع ہو گئی، میں نے فوری طور پر کنٹرول روم کو اطلاع دی کہ ایس پی صاحب سے فائر ہو گیا ہے، ڈرائیور نے گاڑی فوری پمز کی طرف روانہ کر دی۔

آئی جی علی ناصر رضوی نے کہا کہ ایس پی عدیل اکبر کا آپریٹر اور گن مین حراست میں ہیں، ان کا بیرون ملک اسکالرشپ کے لیے آج ٹیسٹ تھا، ان کو شولڈر پرموشن دے کر ایس پی اسلام تعینات کیا گیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ عدیل اکبر کے بھائی حسن بھی کل عدیل سے ملنے آئے تھے، عدیل اکبر کا بھائی حسن کل سارا دن عدیل کے ساتھ رہا، عدیل اکبر کل جہاں جہاں گئے، جو فون کالز کیں وہ سارا ڈیٹا چیک کیا جا رہا ہے،آئی جی

واضح رہے کہ ایس پی عدیل اکبر کی نماز جنازہ اور تدفین آبائی گاؤں ماڑی ٹھاکراں میں کر دی گئی ہے جس میں آئی جی اسلام آباد، سی پی او گوجرانوالہ سمیت دیگر نے شرکت کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: ایس پی عدیل اکبر عدیل اکبر نے عدیل اکبر کی عدیل اکبر کا عدیل اکبر کے کہ عدیل اکبر نے کہا کہ انہوں نے کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا

چین کی معروف الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکل ساز کمپنی ’بی وائی ڈی ‘ نے کہا ہے کہ سندھ کے علاقے غارو میں قائم کیا جانے والا اس کا 150 ملین ڈالر مالیت کا اسمبلنگ پلانٹ تکمیل کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جبکہ کمپنی پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد مارکیٹ میں متعارف کرانے کے لیے کام تیز کر رہی ہے۔

کمپنی کے مطابق پلانٹ میں تعمیراتی کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے، جبکہ اس وقت جدید مشینری کی تنصیب، کمیشننگ اور دیگر تکنیکی مراحل جاری ہیں تاکہ عالمی معیار کے مطابق پیداوار کا آغاز کیا جا سکے۔

پلانٹ کی سالانہ پیداواری صلاحیت 25 ہزار گاڑیاں ہوگی

بی وائی ڈی پاکستان، میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی ) کے وائس پریزیڈنٹ سیلز اینڈ اسٹریٹجی، دانش خالق نے بتایا کہ تقریباً 2 سال سے بھی کم عرصے میں تیار ہونے والا یہ منصوبہ پاکستان میں اپنی نوعیت کے تیز ترین آٹو مینوفیکچرنگ منصوبوں میں شمار ہوتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:چینی کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں تیار کرے گی، شارک 6 پلگ اِن ہائبرڈ پک اپ آج مارکیٹ میں آئے گی

انہوں نے کہا کہ پلانٹ مکمل طور پر فعال ہونے کے بعد سالانہ تقریباً 25 ہزار نیو انرجی وہیکلز اسمبل کرنے کی صلاحیت رکھے گا، جس سے ملک میں ماحول دوست گاڑیوں کی بڑھتی ہوئی طلب پوری کرنے میں مدد ملے گی۔

پہلی مقامی بی وائی ڈی گاڑی جلد متعارف کرانے کا ہدف

دانش خالق کے مطابق کمپنی کی اولین ترجیح پاکستان میں تیار ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی کو جلد از جلد صارفین تک پہنچانا ہے۔

تاہم انہوں نے واضح کیا کہ باقاعدہ پیداوار شروع کرنے سے قبل مشینری کی جانچ، پیداواری آزمائش اور معیار کی تصدیق کے متعدد مراحل مکمل کیے جائیں گے تاکہ ہر گاڑی کمپنی کے عالمی معیار پر پوری اترے۔

2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی سب سے بڑی کھیپ پاکستان پہنچ گئی

اس پیش رفت سے قبل بی وائی ڈی پاکستان نے گزشتہ ہفتے بحری جہاز کے ذریعے 2 ہزار سے زیادہ گاڑیوں کی اب تک کی سب سے بڑی کھیپ درآمد کی۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ اس درآمد کا مقصد صارفین کو بروقت گاڑیوں کی فراہمی یقینی بنانا اور ملک بھر میں موجود ڈیلر نیٹ ورک میں مطلوبہ تعداد میں گاڑیاں دستیاب رکھنا ہے۔

ایندھن کی بڑھتی قیمتوں سے الیکٹرک گاڑیوں کی طلب میں اضافہ

بی وائی ڈی کے مطابق پاکستان میں گزشتہ ایک سال کے دوران نیو انرجی وہیکلز میں صارفین کی دلچسپی مسلسل بڑھی ہے، جبکہ حالیہ عرصے میں ایندھن کی قیمتوں میں اضافے نے اس رجحان کو مزید تقویت دی ہے۔

مزید پڑھیں:چین کی سب سے بڑی کارساز کمپنی پاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں لانچ کرنے کے لیے پُرعزم

کمپنی کا دعویٰ ہے کہ اس کی جدید ٹیکنالوجی کی بدولت بی وائی ڈی گاڑیوں کے آپریٹنگ اخراجات روایتی پیٹرول یا ڈیزل گاڑیوں کے مقابلے میں 75 فیصد تک کم ہو سکتے ہیں، جبکہ حفاظت، کارکردگی اور قابلِ اعتماد معیار بھی برقرار رہتا ہے۔

چارجنگ انفراسٹرکچر میں بھی سرمایہ کاری جاری

دانش خالق نے بتایا کہ بی وائی ڈی پاکستان نے ہبکو گرین پرائیویٹ لمیٹڈ (ایچ جی ایل) کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے ملک بھر میں نیو انرجی وہیکلز کے لیے چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع کا کام بھی جاری رکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب تک کراچی سے پشاور تک تقریباً 1,300 کلومیٹر طویل روٹ پر 19 پبلک ڈی سی فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز قائم کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ مرحلے میں مزید شہروں، اہم شاہراہوں اور دوسرے درجے کے شہری مراکز تک اس نیٹ ورک کو توسیع دی جائے گی۔

بی وائی ڈی نے 2024 میں مقامی شراکت دار میگا موٹر کمپنی (ایم ایم سی) کے ساتھ اشتراک کے ذریعے پاکستان کی مسافر گاڑیوں کی مارکیٹ میں باضابطہ طور پر قدم رکھا تھا۔

گزشتہ سال کمپنی نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان میں اسمبل ہونے والی پہلی بی وائی ڈی گاڑی جولائی یا اگست 2026 تک متعارف کرانے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان میں 2030 تک فروخت ہونے والی 30 فیصد نئی گاڑیاں الیکٹرک ہوں گی

ماہرین کے مطابق پاکستان میں الیکٹرک اور نیو انرجی وہیکلز کی مارکیٹ تیزی سے ترقی کر رہی ہے۔

حکومت کی جانب سے ماحول دوست ٹرانسپورٹ کی حوصلہ افزائی، ایندھن کی بڑھتی قیمتیں اور چارجنگ انفراسٹرکچر میں بہتری ایسے عوامل ہیں جو اس شعبے میں سرمایہ کاری اور صارفین کی دلچسپی میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔

بی وائی ڈی کا غارو پلانٹ بھی اسی بدلتے ہوئے رجحان کا اہم حصہ تصور کیا جا رہا ہے، جس سے مقامی آٹو انڈسٹری، روزگار کے مواقع اور جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی کو بھی فروغ ملنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

الیکٹر گاڑیوں الیکٹرک گاڑیاں ایندھن بی وائی ڈی پیداواری ٹیکنالوجی نیو انرجی وہیکلز

متعلقہ مضامین

  • کوہاٹ میں گاڑی پر فائرنگ سے کسٹم اہلکار شہید، ایک شخص زخمی
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • میڈ اِن پاکستان الیکٹرک گاڑی کی مارکیٹ میں آمد جلد متوقع، بی وائی ڈی نے اہم اعلان کردیا
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ
  • کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
  • کراچی: 6 سالہ بچی سے مبینہ زیادتی کرنے والا ملزم پولیس مقابلے میں مارا گیا
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق