عمران خان نے ہر بات کا الزام امریکا پر ڈالنے سے قبل کیا کِیا؟ سابق سی آئی اے اہلکار کے سنسنی خیز انکشافات
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر ٹیرر اسٹیشن چیف اسلام آباد جان کریاکو نے ایک انٹرویو کے دوران سنسنی خیز انکشافات کردیے۔
اپنے انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیاکہ عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم ہم سے کہا تھا کہ اندرون ملک سیاسی صورت حال کی وجہ سے میں ہر چیز کی ذمہ داری آپ پر ڈالنے والا ہوں۔
سی آئی اے کے سابق کاؤنٹر ٹیرر اسٹیشن چیف اسلام آباد جان کریاکو نے ایک انٹرویو کے دوران سنسنی خیز انکشافات کردیے۔
اپنے انٹرویو میں انہوں نے دعویٰ کیاکہ عمران خان نے بحیثیت وزیراعظم ہم سے کہا تھا کہ اندرون ملک سیاسی صورت حال کی وجہ سے میں ہر چیز کی ذمہ داری آپ پر ڈالنے والا ہوں۔… pic.
— WE News (@WENewsPk) October 25, 2025
انہوں نے کہاکہ عمران خان کی اس بات پر امریکی سفیر ہنس پڑا اور کہاکہ ہمیں اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ ویسے بھی ہر بات کا الزام ہم پر ہی آتا ہے۔
سابق سی اے آئی اے آفیسر نے کہاکہ عمران خان نے گرفتاری کے بعد بھی امریکی حکومت کو پیغام بھیجا کہ آپ میری کیا مدد کر سکتے ہیں کہ میں اس صورت حال سے نکل آؤں۔
بات کو جاری رکھتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ اس پر ہم نے ان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ سے رابطہ کیاکہ وہ پاکستان جا کر حکام سے کہیں کہ انہیں رہا کریں مگر انہوں نے انکار کردیا۔
انہوں نے مزید کہاکہ پاکستان کے جوہری ہتھیاروں پر مکمل کنٹرول پاکستانی فوجی قیادت کے پاس ہے۔
انہوں نے کہاکہ انہیں پاکستان کی موجودہ سیاسی تقسیم پر تشویش ہے، کیونکہ اس سے سڑکوں پر تصادم، مظاہروں میں ہلاکتیں اور سیاسی رہنماؤں پر حملوں کے خدشات بڑھ جاتے ہیں۔
واضح رہے کہ عمران خان کے خلاف جب تحریک عدم اعتماد لانے کا فیصلہ ہوا تو انہوں نے ایک سائفر لہرا کر کہا تھا کہ امریکا ان کی حکومت کے خلاف سازش کررہا ہے۔
بعد ازاں حکومت کے خاتمے کے بعد بھی وہ اس بیانیے پر ڈٹے رہے اور پی ڈی ایم کی حکومت کو ’امپورٹڈ‘ حکومت قرار دیا تھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews الزام امریکا سی آئی اے اہلکار عمران خان وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: الزام امریکا سی ا ئی اے اہلکار وی نیوز کہ عمران خان انہوں نے ا ئی اے
پڑھیں:
عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
پاکستان پیپلز پارٹی کی رکن قومی اسمبلی سحر کامران کا کہنا ہے کہ وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں پیش آنے والے واقعے پر اب تک معافی نہیں مانگی جبکہ وزیراعظم کو اپنے وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لینا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کے اگلے وزیراعظم بلاول بھٹو زرداری، سینیٹر سحر کامران نے دعویٰ کیوں کیا؟
وی ایکسکلوسیو میں گفتگو کرتے ہوئے سحر کامران نے بتایا کہ قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران انہوں نے وزارت اور متعلقہ سیکریٹری سے سوال کیا تھا کہ کمیٹی کے اجلاس میں تقریباً 12 ارب روپے مالیت کے 14 منصوبوں کی منظوری لی گئی تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ بجٹ میں 14 ارب روپے سے زائد مالیت کے 17 منصوبے منظور کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ان کا صرف یہ سوال تھا کہ وہ 3 اضافی منصوبے کون سے تھے جو قائمہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں کیے گئے۔ ان کے بقول انہوں نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) سے متعلق بھی ایجنڈے کے مطابق چند سوالات کیے لیکن اسی دوران وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اونچی آواز میں گفتگو کرنے لگے جس سے انہیں شدید تضحیک کا احساس ہوا۔
سحر کامران کا کہنا تھا کہ انہوں نے اس صورتحال پر واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا تاہم ان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے دوبارہ بلند آواز میں کہا کہ ’یہ ممبر کمیٹی کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں‘، حالانکہ ان کے بقول انہوں نے ایسا کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔
مزید پڑھیے: امریکا ایران مذاکرات، پیپلز پارٹی کا کردار پسِ منظر میں کیوں؟
رکن قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ عطا اللہ تارڑ کے رویے پر انہیں اعتراض ہوا ہو۔ ان کے مطابق اس سے قبل بھی ایک پارلیمانی سوال کے جواب میں وزیر اطلاعات نے ان کے سوال کا متعلقہ جواب نہیں دیا تھا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ جب انہوں نے قومی اسمبلی میں اس معاملے کی نشاندہی کی تو عطا اللہ تارڑ نے جواب دیا کہ میرا یہی کام ہے کہ سوال جیسا بھی ہو جواب میں اپنی مرضی کا دیتا ہوں۔
سحر کامران نے سپیکر قومی اسمبلی کے رویے پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایوان میں جانبداری محسوس ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ اس سے قبل بھی ایک وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان کے ساتھ بھی نامناسب رویہ اختیار کیا گیا تھا۔
سحر کامران نے وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ وزرا کے رویے کا نوٹس لیں اور پارلیمانی روایات کے مطابق ارکان کے ساتھ احترام پر مبنی طرز عمل یقینی بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے جمہوریت اور آئین کی بالادستی کے لیے بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ ان کے بقول پارٹی آج بھی جمہوریت کے استحکام کی خاطر وفاقی حکومت کی اتحادی ہے تاہم اسی وجہ سے کابینہ کا حصہ نہیں بنی۔
مزید پڑھیں: عطا تارڑ کا بڑا ایکشن: واجبات کی ادائیگی تک نجی ٹی وی کے اشتہارات بند کا اعلان
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی ملک کے تمام صوبوں کے علاوہ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی نمایاں نمائندگی موجود ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
رکن قومی اسمبلی سحر کامران سحر کامران کو عطا تارڑ سے شکایت وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ