امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی یوکرین میں جنگ بندی میں تاخیر کرنے پر روسی معیشت کے اہم شعبوں کو نشانہ بنانے کے لیے اضافی پابندیوں کی تیاری کر لی ہے۔

برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ انکشاف ایک امریکی عہدیدار اور اس معاملے سے واقف دوسرے ذرائع نے بتائی ہے۔

رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو بھی آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن یورپی یونین کی اس تجویز کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت منجمد روسی اثاثوں کو استعمال کر کے کیف کے لیے امریکی اسلحہ خریدا جا سکے۔

دو امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن میں اندرونی سطح پر بھی یہ ابتدائی بات چیت ہو رہی ہے کہ امریکا میں موجود روسی اثاثوں کو یوکرین کی جنگی کوششوں کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ایک سینئر امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یورپی اتحادی روس کے خلاف اگلا بڑا اقدام کریں، جو مزید پابندیوں یا نئے ٹیرف کی شکل میں ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کے معاملات سے واقف ایک الگ ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر چند ہفتوں کے لیے نئی پابندیوں کو مؤخر کریں گے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ بدھ کے روز عائد کردہ پابندیوں پر روس کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔

ان پابندیوں کا ہدف روسی تیل کی بڑی کمپنیوں ”لوک آئل“ (Lukoil) اور ”روس نیفٹ“ (Rosneft) کو بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر سے زیادہ اضافہ ہوا اور چین و بھارت کے بڑے خریدار روسی خام تیل کے متبادل کی تلاش میں لگ گئے۔

اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا ان اقدامات کو عملی طور پر کب اور کیسے نافذ کرے گا، لیکن ان تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس روس پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی موجود ہے۔

ٹرمپ خود کو ایک عالمی ثالث کے طور پر پیش کرتے ہیں تاہم وہ اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں تین سال سے جاری یوکرین جنگ کو ختم کرنا ان کی توقعات سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔

یورپی اتحادی ٹرمپ کے پیوٹن کے ساتھ کبھی نرمی اور کبھی سختی کے بدلتے رویے سے پریشان ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ وہ ماسکو پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے، جبکہ وہ خود بھی بڑے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔

روس کا بینکاری شعبہ اور تیل کی ترسیل کا نظام بھی نشانے پر
امریکی عہدیداروں کے مطابق نئی تیار کردہ چند اضافی پابندیاں روس کے بینکاری نظام اور تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے والے انفراسٹرکچر پر مرکوز ہیں۔

رائٹڑز کے مطابق گزشتہ ہفتے یوکرینی حکام نے واشنگٹن میں نئی ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے تجاویز پیش کی تھیں۔ ان تجاویز میں ایک تجویز یہ بھی شامل تھی کہ تمام روسی بینکوں کو امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان تجاویز کو کس حد تک سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔

امریکی سینیٹ میں بھی روس کے خلاف مزید اقدامات پر غور جاری ہے، اور بعض اراکین نے دو جماعتی تعطل کا شکار پابندیوں کے بل کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔

انتظامیہ کے اندرونی معاملات سے واقف ایک ذرائع نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اس پیکج کی تائید کرنے پر آمادہ ہیں، تاہم اس ماہ کے دوران اس منظوری کا امکان کم ہے۔ جبکہ امریکی وزارتِ خزانہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے روس کے

پڑھیں:

پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے

گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔

تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔

گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • امریکا اور ایران کے درمیان بات چیت جاری، کوئی نہیں جانتا انجام کیا ہوگا، ڈونلڈ ٹرمپ
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے