ٹرمپ انتظامیہ نے یوکرین جنگ نہ رکنے کی صورت میں روس پر مزید پابندیوں کی حکمتِ عملی تیاری کرلی
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی یوکرین میں جنگ بندی میں تاخیر کرنے پر روسی معیشت کے اہم شعبوں کو نشانہ بنانے کے لیے اضافی پابندیوں کی تیاری کر لی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق یہ انکشاف ایک امریکی عہدیدار اور اس معاملے سے واقف دوسرے ذرائع نے بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے اپنے یورپی ہم منصبوں کو بھی آگاہ کیا ہے کہ واشنگٹن یورپی یونین کی اس تجویز کی حمایت کرتا ہے جس کے تحت منجمد روسی اثاثوں کو استعمال کر کے کیف کے لیے امریکی اسلحہ خریدا جا سکے۔
دو امریکی حکام کے مطابق، واشنگٹن میں اندرونی سطح پر بھی یہ ابتدائی بات چیت ہو رہی ہے کہ امریکا میں موجود روسی اثاثوں کو یوکرین کی جنگی کوششوں کے لیے کیسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے رائٹرز کو بتایا کہ صدر ٹرمپ چاہتے ہیں کہ یورپی اتحادی روس کے خلاف اگلا بڑا اقدام کریں، جو مزید پابندیوں یا نئے ٹیرف کی شکل میں ہو سکتا ہے۔ انتظامیہ کے معاملات سے واقف ایک الگ ذرائع نے بتایا کہ ٹرمپ ممکنہ طور پر چند ہفتوں کے لیے نئی پابندیوں کو مؤخر کریں گے تاکہ وہ دیکھ سکیں کہ بدھ کے روز عائد کردہ پابندیوں پر روس کا ردِعمل کیا ہوتا ہے۔
ان پابندیوں کا ہدف روسی تیل کی بڑی کمپنیوں ”لوک آئل“ (Lukoil) اور ”روس نیفٹ“ (Rosneft) کو بنایا گیا تھا، جس کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتوں میں دو ڈالر سے زیادہ اضافہ ہوا اور چین و بھارت کے بڑے خریدار روسی خام تیل کے متبادل کی تلاش میں لگ گئے۔
اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ امریکا ان اقدامات کو عملی طور پر کب اور کیسے نافذ کرے گا، لیکن ان تیاریوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے پاس روس پر مزید دباؤ بڑھانے کے لیے ایک جامع حکمتِ عملی موجود ہے۔
ٹرمپ خود کو ایک عالمی ثالث کے طور پر پیش کرتے ہیں تاہم وہ اس بات کا اعتراف کرچکے ہیں تین سال سے جاری یوکرین جنگ کو ختم کرنا ان کی توقعات سے کہیں زیادہ مشکل ثابت ہوا ہے۔
یورپی اتحادی ٹرمپ کے پیوٹن کے ساتھ کبھی نرمی اور کبھی سختی کے بدلتے رویے سے پریشان ہیں، تاہم انہیں امید ہے کہ وہ ماسکو پر دباؤ بڑھاتے رہیں گے، جبکہ وہ خود بھی بڑے اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔
روس کا بینکاری شعبہ اور تیل کی ترسیل کا نظام بھی نشانے پر
امریکی عہدیداروں کے مطابق نئی تیار کردہ چند اضافی پابندیاں روس کے بینکاری نظام اور تیل کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے والے انفراسٹرکچر پر مرکوز ہیں۔
رائٹڑز کے مطابق گزشتہ ہفتے یوکرینی حکام نے واشنگٹن میں نئی ممکنہ پابندیوں کے حوالے سے تجاویز پیش کی تھیں۔ ان تجاویز میں ایک تجویز یہ بھی شامل تھی کہ تمام روسی بینکوں کو امریکی ڈالر پر مبنی مالیاتی نظام سے مکمل طور پر الگ کر دیا جائے۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ان تجاویز کو کس حد تک سنجیدگی سے زیرِ غور لایا جا رہا ہے۔
امریکی سینیٹ میں بھی روس کے خلاف مزید اقدامات پر غور جاری ہے، اور بعض اراکین نے دو جماعتی تعطل کا شکار پابندیوں کے بل کو دوبارہ آگے بڑھانے کی کوشش شروع کر دی ہے۔
انتظامیہ کے اندرونی معاملات سے واقف ایک ذرائع نے خبر ایجنسی کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اس پیکج کی تائید کرنے پر آمادہ ہیں، تاہم اس ماہ کے دوران اس منظوری کا امکان کم ہے۔ جبکہ امریکی وزارتِ خزانہ نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: کے مطابق کے لیے روس کے
پڑھیں:
سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ جمعہ سے پاکستان، یورپی یونین اور دنیا کے دیگر 60 تجارتی شراکت داروں سے درآمد ہونے والی متعدد اشیا پر 10 اور 12.5 فیصد کے نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) نافذ کر رہی ہے۔
امریکی حکومت کا مؤقف ہے کہ متعلقہ ممالک اپنی سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے قوانین پر مؤثر عمل درآمد یقینی بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
نئے ٹیرف کا اعلان امریکی فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹس کے ذریعے کیا گیا۔ یہ محصولات اس عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی جگہ لیں گے جو امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد 150 روز کے لیے نافذ کیا گیا تھا اور جس کی مدت جمعہ کو ختم ہو رہی ہے۔
امریکی سپریم کورٹ نے رواں برس فروری میں ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے گزشتہ سال قومی ہنگامی اختیارات کے تحت عائد کیے گئے 10 سے 50 فیصد تک کے باہمی ٹیرف غیر مؤثر قرار دے دیے تھے۔ ان ٹیرف کا مقصد امریکا کے تجارتی خسارے کو کم کرنا تھا، تاہم عدالت کے فیصلے کے بعد انتظامیہ نے اب 1974ء کے ٹریڈ ایکٹ کی سیکشن 301 کے تحت نئے محصولات نافذ کرنے کا راستہ اختیار کیا ہے، جسے قانونی طور پر زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف: عالمی مارکیٹ میں کس ملک کو کتنا نقصان ہوا؟
امریکی حکام کے مطابق نئے محصولات امریکا کی تقریباً 99.4 فیصد درآمدات پر لاگو ہوں گے، تاہم متعدد اہم اشیا کو اس سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے۔ ان میں خام تیل، قدرتی گیس، کھاد، بعض غذائی اجناس، جبکہ قومی سلامتی کے تحت پہلے سے سیکشن 232 کے محصولات کی زد میں آنے والی گاڑیاں، اسٹیل، ایلومینیم اور تانبا شامل ہیں۔ اسی طرح امریکا، کینیڈا اور میکسیکو کے آزاد تجارتی معاہدے (USMCA) کے تحت آنے والی متعدد مصنوعات بھی ان نئے محصولات سے مستثنیٰ ہوں گی۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا تقریباً ایک صدی سے جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی درآمد پر پابندی عائد کیے ہوئے ہے اور ان قوانین پر سختی سے عمل کرتا ہے۔ ان کے بقول اب وقت آ گیا ہے کہ امریکا کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار پر عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا خاتمہ ہو اور عالمی تجارت میں غیر منصفانہ مقابلے کا سدباب کیا جا سکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ جن ممالک نے امریکا کے ساتھ پہلے ہی تجارتی معاہدے کر رکھے ہیں اور جن کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیرف کی حد مقرر ہے، ان پر نئے محصولات اس حد سے تجاوز نہیں کریں گے۔
پاکستان سمیت کن ممالک پر 10 فیصد ٹیرف؟حتمی فیصلے کے مطابق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، برطانیہ، کینیڈا، میکسیکو، ملائیشیا، انڈونیشیا، کمبوڈیا، سری لنکا، ارجنٹینا، ایکواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، اردن، ایل سلواڈور، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو اور دیگر کئی ممالک سے آنے والی متعلقہ مصنوعات پر 10 فیصد کا نیا ٹیرف عائد کیا جائے گا، جبکہ بعض دیگر تجارتی شراکت داروں پر 12.5 فیصد شرح بھی نافذ ہوگی۔
عالمی ردعملآسٹریلیا اور برازیل نے امریکی اقدام کو غیر ضروری اور غیر منصفانہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس کے خاتمے کے لیے سفارتی کوششیں کریں گے۔
کینیڈا نے، جس پر چند روز قبل ہی تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر نئے امریکی ٹیرف عائد کیے گئے تھے، محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس معاملے پر امریکا کے ساتھ تعمیری مذاکرات جاری رکھے گا۔
کینیڈا کے وزیر برائے امریکا تجارت ڈومینک لی بلانک نے کہا کہ دونوں ممالک آنے والے ہفتوں میں اس مسئلے سمیت دیگر تجارتی معاملات پر بات چیت جاری رکھیں گے تاکہ دونوں ملکوں کے شہریوں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
ادھر امریکی ریاست میساچوسٹس کی ڈیموکریٹک گورنر مورا ہیلی نے نئے محصولات کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس فیصلے سے اشیا مہنگی ہوں گی، کاروباری اداروں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے اور امریکی معیشت کی مسابقتی صلاحیت بھی متاثر ہوگی۔
قانونی ماہرین کی رائےتجارتی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ نئے محصولات کی شرح بڑی حد تک ان عارضی ٹیرف سے ملتی جلتی ہے جو اب ختم ہو رہے ہیں، تاہم چونکہ انہیں سیکشن 301 کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے، اس لیے عدالت میں ان کے خلاف قانونی چیلنج پہلے کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے ٹرمپ ٹیرف اسٹاک مارکیٹ لے بیٹھا، کملا ہیرس کی پیشگوئی سچ ثابت
ماہرین کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ اس قانونی راستے کے ذریعے نہ صرف تقریباً تمام درآمدات پر کم از کم 10 فیصد ٹیرف برقرار رکھنا چاہتی ہے بلکہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر ان کی شرح میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی اپنے پاس رکھنا چاہتی ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اقدام ٹرمپ انتظامیہ کی اس وسیع تجارتی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد امریکی صنعت کو تحفظ فراہم کرنا، سپلائی چینز میں جبری مشقت کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھانا اور درآمدی تجارت پر سخت نگرانی برقرار رکھنا ہے، تاہم ناقدین خبردار کر رہے ہیں کہ اس سے عالمی تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ اور امریکی صارفین کے لیے درآمدی اشیا مہنگی ہونے کا خدشہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ٹرمپ ٹیرف