امریکی حکمت عملی میں روس کے بارے میں نرم موقف نے یورپی ممالک میں تشویش بڑھا دی ہے۔

ماسکو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی نیشنل سکیورٹی اسٹریٹجی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے اپنے وژن سے بڑی حد تک مطابقت رکھنے والی قرار دیا ہے۔ امریکی انتظامیہ کی جانب سے جاری ہونے والی 33 صفحات پر مشتمل اس دستاویز میں یورپ کو تہذیبی زوال کے خطرات سے دوچار قرار دیا گیا ہے جبکہ روس کو امریکہ کے لئے خطرہ نہیں سمجھا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا روس مذاکرات کی میزبانی پر پیوٹن کا سعودیہ سے اظہار تشکر

دستاویز میں غیر ملکی اثر و رسوخ کے خلاف اقدامات، بڑے پیمانے پر نقل مکانی کی روک تھام اور یورپی یونین کی مبینہ سینسر شپ کے رجحان کو چیلنج کرنا بنیادی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔ یورپی حکام اور تجزیہ کاروں نے اس حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے کریملن کے بیانیے سے مشابہ قرار دیا ہے۔

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے روسی خبر رساں ایجنسی تاس کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ امریکی دستاویز میں کی جانے والی تبدیلیاں روسی نقطہ نظر سے مطابقت رکھتی ہیں اور ماسکو اسے مثبت قدم سمجھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حتمی رائے دینے سے قبل اس حکمت عملی کا مزید جائزہ لیا جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں: جی20 ممالک کے اجلاس میں روس یوکرین امن منصوبے پر غور، امریکا نے بائیکاٹ کیوں کیا؟

نئی امریکی حکمت عملی میں روس کے بارے میں نرم موقف نے یورپی حلقوں میں تشویش بڑھا دی ہے۔ یورپی حکام کو اندیشہ ہے کہ اس سے یوکرین میں جاری جنگ پر امریکی مؤقف کمزور ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یورپی یونین کو جنگ کے خاتمے میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ امریکہ کو روس کے ساتھ تزویراتی استحکام بحال کرنا ہوگا تاکہ یورپی معیشتیں مستحکم رہ سکیں۔

دستاویز میں یورپ کی آئندہ بیس سال میں شناخت تبدیل ہونے کے خطرے اور معاشی مسائل کو تہذیبی زوال کے مقابلے میں ثانوی قرار دیا گیا ہے۔ اس میں قومی رجحان رکھنے والی یورپی سیاسی جماعتوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو سراہا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکہ اپنی حلیف جماعتوں کو اس رجحان کو فروغ دینے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: روس یوکرین جنگ بندی کا انحصار پیوٹن پر ہے، ڈونلڈ ٹرمپ

جرمن وزیر خارجہ جوہان وادے فول نے کہا کہ امریکہ نیٹو میں ہمارا اہم اتحادی ہے لیکن آزاد معاشرے اور اظہار رائے کے معاملات کو سکیورٹی حکمت عملی کا حصہ نہیں ہونا چاہئے۔ پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے اپنے بیان میں کہا کہ یورپ امریکہ کا سب سے قریبی اتحادی ہے اور اسی حکمت عملی سے مشترکہ سلامتی کو تقویت ملتی ہے۔

سابق سوئیڈش وزیر اعظم کارل بلڈٹ نے اس حکمت عملی پر تنقید کرتے ہوئے اسے یورپی انتہا پسند دائیں بازو سے بھی زیادہ سخت قرار دیا۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ جرمنی کی انتہائی دائیں بازو کی جماعت اے ایف ڈی سے قربت بڑھا رہا ہے جسے جرمن انٹیلی جنس انتہا پسند قرار دے چکی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: روس کا امریکا سے نیو اسٹارٹ معاہدے کی تجدید میں مساوی اقدام کا مطالبہ

امریکہ نے نئی حکمت عملی میں ویٹی کان بحر اور مشرقی بحر الکاہل میں منشیات کی اسمگلنگ کرنے والی کشتیوں کے خلاف کارروائی اور وینیزویلا میں ممکنہ فوجی اقدامات کے اشارے بھی دیے ہیں۔ دستاویز میں جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا اور تائیوان سے دفاعی اخراجات بڑھانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

امریکی ڈیموکریٹ اراکین کانگریس نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یہ حکمت عملی امریکی خارجہ تعلقات کو شدید نقصان پہنچا سکتی ہے۔ ریاست کولوراڈو کے رکن جیسن کرو نے اسے امریکہ کی عالمی ساکھ کے لئے تباہ کن قرار دیا جبکہ نیویارک سے تعلق رکھنے والے گریگوری مِیکس نے کہا کہ یہ حکمت عملی کئی دہائیوں پر محیط امریکی اقدار پر مبنی قیادت کو مسترد کرتی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news امریکا پیوٹن تشویش ڈونلڈ ٹرمپ روس یورپی کونسل یورپی ممالک یوکرین.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: امریکا پیوٹن تشویش ڈونلڈ ٹرمپ یورپی کونسل یورپی ممالک یوکرین حکمت عملی میں یہ بھی پڑھیں دستاویز میں قرار دیا کہا کہ گیا ہے روس کے

پڑھیں:

ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی

امریکی سینیٹ نے ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع میں امریکا کی شمولیت ختم کرنے کے لیے پیش کی گئی جنگی اختیارات کی قرارداد مسترد کر دی۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی سینیٹ نے جمعرات کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی قرارداد منظور کرنے سے انکار کر دیا۔

میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس وین ہولن کی پیش کردہ وار پاورز ریزولوشن پر ووٹنگ ہوئی تاہم قرارداد 47 کے مقابلے میں 49 ووٹوں سے مسترد ہوگئی اور مطلوبہ حمایت حاصل نہ کرسکی۔

ریپبلکن سینیٹر سوسن کولنز نے اپنی جماعت کی پالیسی کے برعکس قرارداد کے حق میں ووٹ دیا جبکہ ڈیموکریٹ سینیٹر جان فیٹرمین نے اپنی پارٹی سے اختلاف کرتے ہوئے قرارداد کی مخالفت کی۔

تین سینیٹرز نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا جن میں سینیٹر کیٹی برٹ، مچ میک کونل، لیزا مرکووسکی اور رینڈ پال شامل ہیں۔

اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ اگر کانگریس باقاعدہ جنگ کا اعلان نہ کرے یا صدر کو خصوصی اجازت نہ دے، تو صدر ٹرمپ ایران کے اندر یا ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلائیں۔

ڈیموکریٹ ارکان اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کا مؤقف ہے کہ ایران کے خلاف موجودہ فوجی کارروائیوں میں صدر ٹرمپ نے کانگریس کے اس آئینی اختیار کو نظر انداز کیا ہے جس کے تحت صرف کانگریس کو جنگ کا اعلان کرنے کا اختیار حاصل ہے۔

اس سے چند گھنٹے قبل امریکی ایوانِ نمائندگان نے ایران جنگ محدود کرنے کی اپنی وار پاورز قرارداد منظور کی تھی تاہم اسے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں ایک ووٹ کم ملا جس سے کانگریس میں بھی اس معاملے پر اختلافات نمایاں ہیں۔

گزشتہ ماہ بھی سینیٹ نے اسی نوعیت کی ایک قرارداد 50 کے مقابلے میں 48 ووٹوں سے منظور کی تھی۔ اس وقت چند ریپبلکن ارکان نے بھی ڈیموکریٹس کا ساتھ دیا تھا لیکن اس وقت ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی نافذ تھی اور مزید امریکی جانی نقصان نہیں ہوا تھا۔

آئینی ماہرین کے مطابق 1973 کے وار پاورز ایکٹ کا مقصد صدر کے فوجی اختیارات پر کانگریس کی نگرانی کو یقینی بنانا تھا لیکن اب تک کسی بھی امریکی صدر نے اسے مکمل طور پر پابند قانون کے طور پر تسلیم نہیں کیا۔

مزید یہ کہ اس قانون کی آئینی حیثیت پر کبھی امریکی عدالتوں نے حتمی فیصلہ نہیں دیا اسی لیے اگر قرارداد منظور بھی ہو جاتی تو اس کے نتیجے میں صدر کو فوری طور پر فوج واپس بلانے کا قانونی پابند بنانا مشکل ہوتا۔

 

 

متعلقہ مضامین

  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • پاکستانی پرچم بردار جہازوں کیخلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی کو قومی سلامتی کا خطرہ تصور کیا جائیگا: دفتر خارجہ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران