وقت نے ثابت کیا پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں، تعلق ہر چیلنج کےباوجود مضبوطی سے قائم ہے، عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 8th, December 2025 GMT
وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین کی دوستی بے مثال ہے اور وقت کے ساتھ یہ تعلق مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جا رہا ہے۔
چائنہ چیمبر آف کامرس کے زیر اہتمام “پاکستان میں فلڈ ڈیزاسٹر 2025 کے لیے عطیات” کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ چین پاکستان کا دوسرا گھر ہے اور پاکستان بھی چین کا دوسرا گھر ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہا ہے جس کے لیے چین کی قیادت کے شکر گزار ہیں۔
وزیر اطلاعات نے عوامی رابطوں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان رابطوں کی بدولت ہمارے ہاں چین کی ثقافت پروان چڑھ رہی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان کا کاربن کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے اور ملک کا شمار موسمیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے دس ممالک میں ہوتا ہے۔
عطاء اللہ تارڑ نے کہا کہ جب کبھی پاکستان کو کسی بھی قدرتی آفت یا صورتحال کا سامنا کرنا پڑا، چین نے ہمیشہ تعاون کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ وقت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں اور یہ تعلق ہر چیلنج کے باوجود مضبوطی سے قائم ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: نے کہا کہ
پڑھیں:
پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
نائب وزیر اعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان آسیان ریجنل فورم کے ذریعے علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے لیے پرعزم ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھا ہوا ہے۔
فلپائن کے دارالحکومت منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے وزارتی اجلاس سے خطاب میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان نے مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کے لیے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہو ئے ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ تمام فریق تحمل کا مظاہرہ کریں اور سفارت کاری کے ذریعے مسائل حل کریں۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ جموں و کشمیرکے تنازع کا حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے، بھارت کا سندھ طاس معاہدہ معطل کرنا تشویش ناک اور اشتعال انگیز اقدام ہے۔
اسحاق ڈار نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کے لیے غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی پاکستان کے لیے سنگین خطرہ ہے۔