UrduPoint:
2026-07-24@14:36:57 GMT

نومبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4فیصد کمی ریکارڈ

اشاعت کی تاریخ: 16th, January 2025 GMT

نومبر میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4فیصد کمی ریکارڈ

اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔16 جنوری ۔2025 )ملک میں نومبر کے مہینے میں بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مالی سال2024-25کے پہلے 5 ماہ کے دوران لارج اسکیل مینو فیکچرنگ (ایل ایس ایم) کا شعبہ 1.25 فیصد سکڑ گیا. ادارہ شماریات پاکستان کی جانب سے جاری اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگست 2024 کے بعد سے بڑی پیداواری صنعتوں میں لگاتار 2 ماہ تک گراوٹ آئی ہے مقامی اور بین الاقوامی عوامل مالی سال 2024میں مندی کا سبب تھے، جون میں خسارے کا شکار ہونے سے قبل دسمبر 2023سے مئی 2024 تک بڑے صنعتی شعبے میں مثبت اضافہ ہوا.

سال بہ سال کی بنیاد پر اگست میں بڑی پیداواری صنعتوں میں 2.65 فیصد کی گراوٹ آئی جبکہ ستمبر میں اس میں 1.

(جاری ہے)

92 فیصد کی گراوٹ آئی، تاہم شعبے نے اکتوبر میں 0.02 فیصد کی معمولی ترقی ریکارڈ کی جبکہ نومبر میں 3.81 فیصد کی منفی نمو ریکارڈ کی گئی سال بہ سال کی بنیاد پر جولائی 2024 میں بڑے صنعتی شعبے میں 2.38 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا. مالی سال 2024 میں ایل ایس ایم سیکٹر میں 0.03 فیصد کمی ہوئی جبکہ گزشتہ سال اس میں 0.92 فیصد اضافہ ہوا تھا سال بہ سال کی بنیاد پر مالی سال 2024 کے 5 ماہ میں خوراک کے شعبے میں 1.72 فیصد اضافہ ہوا، کوکنگ آئل، نشاستہ سے متعلق اشیا، گندم اور چاول کی صنعتوں میں بالترتیب 1.06 فیصد، 0.45 فیصد اور 4.48 فیصد اضافہ ہوا.

زیر غور مدت کے دوران گندم اور چاول کی ملنگ میں نمایاں کمی واقع ہوئی جس کی بنیادی وجہ فصلوں کی بہتر کٹائی ہے تاہم ویجیٹیبل گھی کی پیداوار میں 3.06 فیصد اور چائے کی پیداوار میں 5.02 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ٹیکسٹائل کی پیداوار میں مالی سال 2024 کے 5 ماہ میں سال بہ سال کی بنیاد پر 2.28 فیصد اضافہ ہوا، کاٹن یارن کی پیداوار میں 8.79 فیصد جبکہ سوتی کپڑے کی پیداوار میں 0.80 فیصد اضافہ ہوا ہے جس سے ٹیکسٹائل شعبے کا حصہ 80 فیصد سے زائد ہے، بیرون ملک ٹیکسٹائل کی طلب بڑھنے سے پیدوار میں ہونے والا اضافہ برآمدی شعبے کی قدر بڑھنے کی بنیادی وجہ بنا.

سال بہ سال کی بنیاد پر ملبوسات کی برآمدات میں 11.49 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کی بنیادی وجہ بنگلہ دیش سے غیر ملکی خریداروں کا پاکستان کی طرف رخ کرنا ہے مالی سال 2024 کے 5 ماہ میں کوک اور پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے میں 2.44 فیصد کی منفی نمو ریکارڈ کی گئی، پٹرول کی پیداوار میں 4.79 فیصد اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی پیداوار میں 1.44 فیصد کمی ہوئی، تاہم مٹی کے تیل کی پیداوار میں 13.83 فیصد، لیوبریکنٹ آئل کی پیداوار میں 10.66 فیصد، جوٹ بیچنگ آئل میں 33.17 فیصد اور سالوینٹ نیفتھا کی پیداوار میں 53.45 فیصد اضافہ ہوا فرنس آئل کی پیداوار 2.67 فیصد، ایل پی جی کی پیداوار 13.19 فیصد اور جوٹ فیول آئل کی پیداوار میں 18.52 فیصد کم ہوئی.

مالی سال 24 کی پانچ ماہ میں آٹوموبائل سیکٹر کی شرح نمو میں سال بہ سال کی بنیاد پر 50.70 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، اس کے بعد ایل سی وی کی پیداوار میں 205.73 فیصد، ٹرکوں کی پیداوار میں 101.47 فیصد اور بسوں کی پیداوار میں 37.32 فیصد اضافہ ہوا تاہم ڈیزل انجنوں کی پیداوار میں 8.94 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی.

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے

پڑھیں:

راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ

وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ نے راس ایکسپو 2026 کے کامیاب انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان روبوٹکس، آٹومیشن اور مصنوعی ذہانت کے شعبوں میں تیزی سے ترقی کی جانب گامزن ہے اور حکومت جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملک کی جامعات، اساتذہ، طلبہ، صنعت اور مختلف ادارے مل کر ایک ایسا مضبوط ماحولیاتی نظام (ایکو سسٹم) تشکیل دے رہے ہیں، جو پاکستان کو روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کی عالمی صنعت میں نمایاں مقام دلانے میں مدد دے گا۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ 2 روز کے دوران منعقد ہونے والی راس ایکسپو میں جدید ٹیکنالوجی کے متعدد نمونے پیش کیے گئے۔ نمائش میں صنعتی آٹومیشن، مکینیکل روبوٹس، خودکار نظام، دفاعی شعبے کے جدید آلات، فوجی ٹیکنالوجی، لاجسٹکس، ریسکیو اور ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے لیے تیار کیے گئے روبوٹس، نیویگیشن سسٹمز اور جدید سمیولیٹرز نے شرکاء کی توجہ حاصل کی۔

شزا فاطمہ نے کہا کہ حکومت آئندہ بھی اس نوعیت کی نمائشوں کا انعقاد جاری رکھے گی تاکہ نوجوانوں، تعلیمی اداروں اور صنعت کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم میسر آ سکے اور پاکستان میں ٹیکنالوجی پر مبنی صنعت کو مزید فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے بتایا کہ وزیراعظم نے ایکسپو کے دوران دو اہم اعلانات بھی کیے، جن میں روبوٹکس اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے 20 ملین ڈالر کی معاونت شامل ہے۔ اس کے علاوہ صنعت کے لیے ایسے سمیولیٹرز تیار کرنے کی ہدایت بھی دی گئی ہے، جن کی مدد سے کاروباری ادارے اپنی پیداواری سرگرمیوں کا عملی جائزہ لے سکیں اور آٹومیشن کے معاشی فوائد کا اندازہ لگا سکیں۔

وفاقی وزیر نے اس تاثر کو مسترد کیا کہ جدید مشینیں انسانوں کی ملازمتیں ختم کر دیں گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکنالوجی ملازمتیں ختم نہیں کرتی بلکہ ان کی نوعیت تبدیل کرتی ہے۔ مستقبل میں ایسے افراد کی ضرورت ہوگی جو روبوٹس اور جدید مشینوں کو تیار کرنے، چلانے اور ان کی دیکھ بھال کی مہارت رکھتے ہوں۔

انہوں نے طلبہ پر زور دیا کہ وہ ریاضی، الیکٹریکل انجینئرنگ، کمپیوٹر سائنس، مصنوعی ذہانت اور روبوٹکس جیسے شعبوں کا انتخاب کریں، کیونکہ مستقبل کی معیشت انہی مہارتوں پر استوار ہوگی۔ شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ افرادی قوت نہ صرف نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گی بلکہ پاکستان کی معیشت، صنعت اور قومی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

شزا فاطمہ وفاقی وزیر

متعلقہ مضامین

  • پیٹرول مہنگا ہونے سے عوام اور پمپ مالکان پریشان، 90 فیصد لوگوں کا ٹنکی فُل کروانا خواب بن گیا
  • گندم کی بمپر فصل ہوئی تھی تو پنجاب و سندھ خریداری کا ہدف حاصل کیوں نہ کرسکے، مزمل اسلم
  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • راس ایکسپو 2026 کا کامیاب انعقاد، پاکستان روبوٹکس اور مصنوعی ذہانت کے شعبے میں تیزی سے آگے بڑھے گا، شزا فاطمہ
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ
  • ہیڈ مرالہ میں پانی کی سطح میں ایک بارپھر اضافہ
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • پاکستان کے دفاع، سیکیورٹی کے شعبے میں ٹیکنالوجی کا استعمال قابل فخر ہے، وزیراعظم
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف