بھارت میں سیلاب سے ساٹھ سے زائد افراد ہلاک، درجنوں لاپتہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, July 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 04 جولائی 2025ء) بھارتی ریاست ہماچل پردیش میں کئی روز سے ہونے والی بارشوں کے دوران بادل پھٹنے، سیلاب آنے اور زمین کے تودے کھسکنے کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جس کے نتیجے میں اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک اور درجنوں لاپتہ ہیں۔
ادھر حکام نے آئندہ سات جولائی تک ریاست کے تمام اضلاع میں زبردست بارش کا الرٹ بھی جاری کیا ہے۔
ریاستی حکومت کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کے ساتھ لاپتہ افراد کی تلاش کا کام بھی جاری ہیں اور سیلاب کے سبب منڈی ضلع سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔
ریاست کے وزیر اعلی سکھویندر سنگھ سکھو نے ایکس پر اپنی ایک پوسٹ بتایا کہ "خطے میں موسلادھار بارش، بادل پھٹنے اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے، منڈی ضلع کے تھوناگ اور جنجھیلی سمیت کئی علاقوں میں روزمرہ کی زندگی درہم برہم ہو گئی ہے۔
(جاری ہے)
ان علاقوں میں راحت اور بحالی کی کوششیں تیز رفتاری سے جاری ہیں۔"ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی اور ریونیو ڈیپارٹمنٹ کے خصوصی سیکریٹری ڈی سی رانا، نے کہا، "ہم نے اب تک 400 کروڑ روپے سے زیادہ کا نقصان ریکارڈ کیا ہے۔ لیکن اصل نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اب ہماری توجہ تلاش، امدادی کاموں اور بحالی پر مرکوز ہے۔"
مون سون سیزن، بھارت میں لینڈ سلائیڈنگ سے پانچ افراد ہلاک
بارش جاری رہنے کی پیش گوئیریاستی دارالحکومت شملہ سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ تنوجا ٹھاکر نے بھارتی خبر رساں ایجنسی اے این آئی کو بتایا، "زبردست بارش ہو رہی ہے۔
ہمارے کلاس رومز میں پانی داخل ہو رہا ہے، ہمارے کپڑے اور کتابیں بھیگی ہوئی ہیں۔ ہمارے اساتذہ ہمیں بتا رہے ہیں کہ گھر میں رہنا بہتر ہے۔"بھارت کے محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ اسی طرح کے حالات برقرار رہنے کی توقع ہے اور اس نے ریاست کے لیے سات جولائی تک بارش کا الرٹ جاری کیا ہے۔
ریاست بھر میں کئی سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور بجلی اور پانی کی سپلائی متاثر ہوئی ہے۔
رانا نے کہا، "یہ واقعات گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی کا نتیجہ ہیں۔ ہماچل ان اثرات سے اچھوتا نہیں ہے۔"
بھارت اور بنگلہ دیش میں طوفانوں اور سیلاب سے 20 افراد ہلا ک
اس بار 20 جون کو مونسون ہماچل پردیش میں پہنچا اور ماضی کی طرح اس بار بھی اس نے ریاست بھر میں تباہی مچا دی۔ تازہ ترین معلومات سے پتہ چلا ہے کہ منڈی ضلع میں 17 لوگ ہلاک ہوئے ہیں، جب کہ کانگڑا میں 13، چمبا میں چھ اور شملہ میں پانچ افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہوئی ہے۔
بلاس پور، حمیر پور، کنور، کلو، لاہول سپتی، سرمور، سولن اور اونا اضلاع سے بھی اموات کی اطلاعات ہیں۔ ریاست بھر میں 100 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں اور صرف منڈی سے کم از کم 40 افراد کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے۔
مکانات اور پل تباہحکام کے مطابق اب سینکڑوں مکانات کے تباہ ہونے کی اطلاع ہے جبکہ 14 پل بہہ گئے ہیں۔ اس کے علاوہ 300 کے قریب مویشی ہلاک ہو چکے ہیں۔
کشمیر میں تباہ کن سیلاب کی دسویں برسی تک کیا کچھ تبدیل ہوا؟
ریاست بھر میں، 500 سے زیادہ سڑکیں بند کر دی گئی ہیں اور 500 سے زیادہ بجلی کے ٹرانسفارمر غیر فعال ہیں، جس کی وجہ سے دسیوں ہزار لوگ روشنی کے بغیر ہیں۔
متاثرہ علاقوں میں پانی اور خوراک کی کمی کو ایک انسانی آفت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔
اس حوالے سے جو ویڈیوز آن لائن شیئر کی جا رہی ہیں، اس میں خوفناک مناظر سامنے آئے ہیں۔
بعض مقامی ندیوں میں کیچڑ والے پانی کی طغیانی دیکھی گئی، جو پوری طاقت سے دیہی علاقوں کی جانب پھیل رہی تھیں اور تباہی پھیلانے کے ساتھ ہی مکانات کو اپنے ساتھ بہا کر لے جا رہی تھیں۔بھارت کا ہمالیہ کے پہاڑوں پر سیلاب سے متعلق وارننگ سسٹم نصب کرنے کا منصوبہ
بعض دیگر ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ قصبات اور دیہات تقریباً مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جہاں کے باشندے ملبے سے بھری پہاڑیوں سے نکلنے کے لیے اپنا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے ریاست بھر میں سے زیادہ ہیں اور
پڑھیں:
سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
سکھر:سندھ کے مختلف اضلاع میں آنے والی شدید آندھی، مٹی کے طوفان اور موسلا دھار بارش نے بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔
مورو میں طوفانی ہواؤں کے باعث گھروں، دکانوں، ہوٹلوں اور سرکاری و نیم سرکاری عمارتوں کی چھتوں پر نصب سولر پلیٹیں اور سائن بورڈ اکھڑ کر دور جا گرے جبکہ متعدد مقامات پر درخت اور بجلی کی تاریں بھی زمین بوس ہوگئیں۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق مختلف حادثات میں کم از کم پانچ افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
کئی علاقوں میں شہری خوف و ہراس کا شکار رہے جبکہ طوفان کے باعث معمولات زندگی شدید متاثر ہوئے۔
دوسری جانب لاڑکانہ، شکارپور، دادو اور گرد و نواح میں خراب موسمی صورتحال کے باعث بجلی کا ترسیلی نظام بھی بری طرح متاثر ہوا۔
سیپکو حکام کے مطابق شدید آندھی اور بارش کے نتیجے میں 220 کے وی گرڈ اسٹیشن لوڈرا، شکارپور اور دادو سے آنے والی 132 کے وی مین سپلائی متاثر ہوگئی جس کے باعث لاڑکانہ سرکل کے متعدد فیڈرز بند ہوگئے۔
سیپکو کنٹرول سینٹر کے مطابق طوفانی موسم سے 220 کے وی اور 132 کے وی کی متعدد اہم ٹرانسمیشن لائنیں ٹرپ کر گئیں جبکہ کئی مقامات پر ٹاورز، پولز اور بجلی کی لائنوں کو نقصان پہنچا ہے۔
صورتحال کے باعث مجموعی طور پر 46 گرڈ اسٹیشنز متاثر ہوئے جس سے لاڑکانہ، قمبر، شہدادکوٹ، کشمور، کندھکوٹ، گھوٹکی، خیرپور، نوشہروفیروز، مورو اور دیگر علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل یا شدید متاثر ہوگئی۔
سیپکو کے چیف ایگزیکٹو آفیسر انجینئر اعجاز احمد چنہ کی ہدایات پر آپریشن، کنسٹرکشن، جی ایس او اور فیلڈ ٹیموں کو ہنگامی بنیادوں پر متحرک کر دیا گیا ہے۔
انجینئرز اور تکنیکی عملہ متاثرہ علاقوں میں مرمتی کاموں میں مصروف ہے اور خراب ہونے والے پولز، ٹاورز اور ٹرانسمیشن لائنوں کی بحالی کا عمل جاری ہے۔
سیپکو حکام کا کہنا ہے کہ ادارہ اپنے تمام دستیاب وسائل استعمال کرتے ہوئے بجلی کی جلد بحالی کے لیے کام کر رہا ہے تاہم شدید موسمی حالات کے باعث مرمتی سرگرمیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ علاقوں کے صارفین سے صبر و تحمل کی اپیل کرتے ہوئے یقین دلایا گیا ہے کہ بجلی کی فراہمی جلد از جلد بحال کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔