عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ ابومحمد الجولانی کے بغداد میں عرب رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کے لیے مجوزہ دورے کی مکمل مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اس کے خلاف گرفتاری کا حکم موجود ہے۔ اسلام ٹائمز۔ عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وہ ابومحمد الجولانی کے بغداد میں عرب رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کے لیے مجوزہ دورے کی مکمل مخالفت کرتے ہیں کیونکہ اس کے خلاف گرفتاری کا حکم موجود ہے۔ فارس نیوز کے مطابق، نوری المالکی جو کہ دولة القانون اتحاد کے سربراہ اور عراق کے سابق وزیرِاعظم ہیں، نے ہفتے کی شام ایک بار پھر تاکید کی کہ وہ شام کے شورش پسند رہنما ابومحمد الجولانی کے بغداد کے دورے کے خلاف ہیں۔ العہد نیوز چینل کے مطابق، المالکی نے کہا کہ الجولانی کے خلاف گرفتاری کا حکم موجود ہے اور اس کی موجودگی عراق میں مسائل پیدا کرے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ اس سفر کی مکمل مخالفت کرتے ہیں اور اس مؤقف کو کئی بار دُہرا چکے ہیں۔

المالکی نے عراق کے وزیراعظم محمد شیاع السودانی کی جانب سے دوحہ میں الجولانی سے ملاقات پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ ملاقات نہ تو کوآرڈی نیشن فریم ورک، نہ صدرِ مملکت اور نہ ہی وزیر خارجہ کی اطلاع کے ساتھ ہوئی، اور موجودہ حالات میں اس ملاقات کا کوئی جواز نہیں تھا، خاص طور پر جب کہ الجولانی ابھی تک عراق کے عدالتی نظام کے تحت مطلوب ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بعض ہمسایہ ممالک عراق کے خلاف دہشت گرد منصوبے رکھتے ہیں اور دہشت گردوں کو تربیت دے رہے ہیں۔ عراق کے سابق وزیرِاعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی سکیورٹی فورسز اور الحشد الشعبی کی موجودگی کے باعث شام سے سرحد پار دہشت گرد گروپوں کے داخلے کا کوئی خدشہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ عراق کی حکومت نے الجولانی کو رواں ماہ کے وسط میں بغداد میں ہونے والے عرب رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی ہے، جس پر ملک کے اندر شدید سیاسی تنازع پیدا ہو گیا ہے۔ اس سے قبل، پچاس سے زائد عراقی اراکین پارلیمنٹ ایک پٹیشن پر دستخط کر کے الجولانی کی بغداد آمد کی مخالفت کر چکے ہیں۔ یاد رہے کہ شامی شورشیوں کا یہ رہنما عراق میں القاعدہ کا رکن ہونے کے باعث عدالتی طور پر مطلوب ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: عراق کے سابق وزیر اعظم الجولانی کے بغداد کی مکمل مخالفت کے خلاف نے کہا کہا کہ

پڑھیں:

علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق

ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔

متعلقہ مضامین

  • ہالینی فیلڈ: کس طرح سرکاری ریکارڈ ابتدائی طور پر توقع سے زیادہ طویل اور مضبوط پیداواری مستقبل کو ظاہر کرتا ہے
  • سانحہ گل پلازہ میں اہم پیش رفت؛ 5 اداروں کے افسران کے بیانات ریکارڈ
  • وزیر داخلہ محسن نقوی کا مستونگ میں کامیاب آپریشن پر سکیورٹی فورسز کو خراج تحسین
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کیلئےمعاہدے
  • ایران اور عراق کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑھانے کے لیے 4 معاہدے
  • ایران پر 13 ویں رات فضائی حملوں کے اہداف مکمل کر لیے گئے، سینٹکام
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت