مودی کے  پہلگام فالس فلیگ آپریشن پر سابق بھارتی فوجی کے دھماکہ خیز انکشافات سامنے آگئے۔

جعلی پہلگام حملے کے ناقابلِ تردید شواہد منظر عام پر آگئے جب کہ بھارتی فوج کے سابق اہلکار نے مودی کے فالس فلیگ ڈراموں سے پردہ اٹھا دیا۔

مودی کو کھری کھری سناتے ہوئے سابق بھارتی فوجی نے انکشاف کیا کہ 18 سال بھارتی فوج میں خدمات انجام دیں، پہلگام میں بھی تعینات رہا‘ پہلگام میں آرمی، سی آر پی ایف اور بی ایس ایف کی تین چیک پوسٹیں  ہوتی تھیں

سابق بھارتی فوجی نے کہا کہ  بغیر مکمل تفتیش داخلہ ناممکن تھا، فوجی بھی تلاشی کے بغیر داخل نہیں ہو سکتے تھے، سیکیورٹی فول پروف تھی۔

سابق بھارتی فوجی نے کہا کہ امیت شاہ نے ایک ہفتہ قبل اچانک دورے کے بعدتمام چیک پوسٹیں ختم کرنے کا حکم دیا، محض ایک ہفتے بعد  پہلگام حملہ ہو گیا، کیا یہ محض اتفاق ہے؟، مقبوضہ کشمیر میں تمام دہشتگردی کی پشت پناہی مودی اور امیت شاہ کرتا ہے۔

سابق فوجی  نے کہا کہ مودی، امیت شاہ اور آر ایس ایس پہلگام جیسے جعلی حملوں کے اصل ماسٹر مائنڈز ہیں،

دفاعی ماہرین نے کہا کہ بھارتی فوجی کے انکشافات نے مودی کے فالس فلیگ نیٹ ورک کا بھانڈا پھوڑ دیا، مودی سرکار انتخابی فائدے کے لیے ملک کو خون میں نہلانے سے بھی گریز نہیں کرتی۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: سابق بھارتی فوجی فالس فلیگ نے کہا کہ مودی کے

پڑھیں:

روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن

روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران کریملن کے ترجمان کا کہنا تھا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ اسلام ٹائمز۔ کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ روس یوکرین تنازع کے حل کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہے، تاہم یورپی ممالک کی جانب سے کیف حکومت کی مسلسل حوصلہ افزائی کے باعث روس اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔ روزانہ کی پریس بریفنگ کے دوران دیمتری پیسکوف نے کہا کہ روس مذاکراتی عمل کے لیے کھلا ہے، لیکن جب یورپی دارالحکومت کیف حکومت کو جنگ جاری رکھنے کی ترغیب دے رہے ہیں تو ایسی صورتحال میں ماسکو بھی اپنا خصوصی فوجی آپریشن جاری رکھے گا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ روسی افواج خصوصی فوجی آپریشن کے دوران مثبت پیش رفت حاصل کر رہی ہیں اور میدانِ جنگ میں صورتحال حوصلہ افزا ہے۔

کریملن کے ترجمان نے بتایا کہ یوکرین کے معاملے پر روس اور امریکا کے درمیان رابطے برقرار ہیں، تاہم اس مرحلے پر یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ تنازع کے حل کی کوششوں میں کوئی نمایاں پیش رفت یا تیزی آئی ہے۔ دیمتری پیسکوف نے کہا کہ موجودہ ورکنگ چینلز کے ذریعے امریکا کے ساتھ رابطے جاری ہیں اور امید ہے کہ امریکی مذاکرات کار اپنی مصروفیات مکمل ہونے کے بعد ماسکو کا دورہ کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے درمیان براہِ راست مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ شروع کیا جا سکے۔

جوہری عدم پھیلاؤ کے حوالے سے روس کے مؤقف پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ماسکو جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کی روک تھام کے اصول پر قائم ہے، تاہم ہر ملک کو پُرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ روس کا مؤقف جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ سے متعلق ہے، جبکہ ایران، سعودی عرب اور دیگر ممالک کو پُرامن جوہری توانائی کے استعمال کا حق حاصل ہے اور اس حق کی ضمانت دی جانی چاہیے۔

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • ایک ’’غدارِ وطن‘‘ کی سوانح عمری
  • ٹرمپ کو ریلیف مل گیا؛ امریکی سینیٹ نے ایران جنگ ختم کرنے کی قرارداد مسترد کر دی
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • چیک ریپبلک میں فوجی ہیلی کاپٹر گر کر تباہ؛ ایک فوجی ہلاک اور 4 زخمی
  • روس مذاکرات کے لیے تیار، یوکرین میں فوجی آپریشن جاری رہے گا، کریملن
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • ’مضبوط رہیں‘، ریپر طلحہ انجم کا بھارتی طلبا کے ساتھ اظہارِ یکجہتی
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت