ہمارے باغی افغانستان میں حکومتی سر پر ستی میں رہ ہے ہیں سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 16th, May 2025 GMT
کوئٹہ (نوائے وقت نیوز) وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہمارے باغی افغانستان میں حکومتی سرپرستی میں رہ رہے ہیں، گڈ اور بیڈ عسکریت پسندوں کا فرق ختم ہوگیا ہے۔کوئٹہ میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جو علیحدگی پسند تحریکیوں کو برداشت کرتا ہے، جس جنگ میں بلوچستان کو دھکیلا گیا ہے، وہ لاحاصل ہے، میرا نہیں خیال کہ اس ملک کو تشدد کے ذریعے توڑا جاسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان کے مطابق بلوچستان کو حقوق مل رہے ہیں، ہمیں توڑنے کیلئے مائنڈسیٹ پر کام کیا جا رہا ہے، ایسی تاریخ بتائی جا رہی ہے جس کا تاریخ سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ تاریخ کو ہم نے اپنی مرضی سے مسخ کیا ہے، اپنے دل کی بات وکلاء برادری سے ضرور کرنا چاہوں گا، ملک کو توڑنے کیلئے دانشور طبقے پر کام کیا جا رہا ہے، جس کے ایما پر پاکستان کو توڑا جا رہا تھا اس کا جو حشر ہوا وہ سب کے سامنے ہے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ بیانیے کے سچ اور حق ہونے کا فیصلہ آپ نے کرنا ہے۔ جس نے بندوق اٹھائی ہے وہ پہلے دن پاکستان کو توڑنے کی بات کر رہا ہے، قتل وغارت سے بالآخر نقصان بلوچ قوم کا ہو رہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بلوچ علیحدگی پسند تحریک کا انجام بھی کرد تحریک والا ہوگا، علیحدگی پسندی کیلئے ترقی نہ ہونے کی دلیل غلط ہے، یہ قومی اور حقوق کی جنگ نہیں، آخر کب تک ہم نوجوانوں کو اس آگ اور خون کے دریا میں دھکیلیں گے، اس لاحاصل جنگ پر دانشوروں کو بات کرنی چاہیے۔سرفراز بگٹی نے مزید کہا کہ قانون کی بالادستی پر یقین رکھتے ہیں، قانون کی حکمرانی سے عوام کے مسائل کا حل ممکن ہے،امن وامان برقرار رکھنا ہماری ذمہ داری ہے، کیا ہمار کلچر اجازت دیتا ہے کہ کسی مزدور کو قتل کر دیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: سرفراز بگٹی رہا ہے
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔