’بھارت کے ساتھ 4 روزہ تنازع کے بعد پاک-افغان سفارتی تعلقات میں بہتری انتہائی اہمیت کی حامل ہے‘
 اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)   تجز یہ نگارزاہد حسین  کے مطابق ایک ڈرامائی پیشرفت میں پاکستان اور افغانستان نے اپنے سفارتی تعلقات کو سفارتی سطح پر اپ گریڈ کرنے پر اتفاق کیا ہے جو افغان طالبان کی حکومت کی واپسی کے بعد سے پیدا ہونے والے انتہائی کشیدہ دو طرفہ تعلقات میں ایک بڑی تبدیلی کا اشارہ ہے۔
 ڈان کے مطابق یہ اعلان گزشتہ ماہ بیجنگ میں چین، افغانستان اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے درمیان غیر رسمی سہ فریقی اجلاس کے بعد کیا گیا۔ اس حیران کن اقدام کو تیزی سے ترقی پذیر علاقائی جغرافیائی سیاست میں انتہائی اہم سمجھا جارہا ہے۔
صرف چند ممالک جیسے چین، روس، متحدہ عرب امارات اور ازبکستان نے 2021ء میں طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغان سفیروں کی میزبانی کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ اس سے قبل پاکستان نے بھی کابل میں قونصل خانے کی سطح پر اپنی موجودگی برقرار رکھی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی ملک نے طالبان انتظامیہ کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا ہے۔ اس کی ایک بنیادی وجہ خواتین کو تعلیم اور کام کے حق سے روکنے کی طالبان کی پالیسی ہے۔ قیادت کونسل میں سخت گیر افراد کے تسلط کے پیش نظر طالبان کی حکومت سے اپنی قدامت پسند پالیسی کو معتدل کرنے کی توقع کرنا مشکل ہے
دلچسپ بات یہ ہے کہ حالیہ پاک افغان پیش رفت بھارت اور پاکستان کے درمیان چار روزہ تنازع کے بعد ہوئی ہے جس نے خطے کو ایک وسیع تر بحران کی جانب دھکیلنے کا خطرہ پیدا کردیا تھا۔ اس دوران افغان حکومت بھارت کے قریب تر ہوتی جارہی تھی۔ یہ اس بات کی وضاحت کرسکتا ہے کہ کیوں بہت سے ماہرین بالخصوص بھارتی میڈیا میں یہ سوچ پائی جارہی تھی کہ تنازعے کے دوران طالبان بھارت کا ساتھ دے رہے ہیں۔
تاہم بیجنگ اجلاس نے حالات کی تبدیلی کا عندیہ دیا۔ جہاں دونوں ہمسایہ ممالک پاکستان اور افغانستان کے درمیان معاملات کو ٹھیک کرنے میں چین کا کردار واضح ہے وہیں دونوں جانب سے سفارتی حساسیت کا بھی مظاہرہ کیا گیا جس نے برف کو پگھلانے میں مدد کی۔ سفارتی تعلقات کو بہتر بنانے کا فیصلہ واقعی ایک مثبت اقدام ہے۔ یہ مختلف شعبہ جات میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کی راہ ہموار کرے گا۔
وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ’مجھے یقین ہے کہ یہ قدم بڑھتے ہوئے روابط، اقتصادی، سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور تجارتی شعبہ جات میں پاک-افغان تعاون کو مزید گہرا کرنے اور دو برادر ممالک کے درمیان مزید تعامل کو فروغ دے گا‘۔ تاہم ان کے درمیان اب بھی سنگین مسائل ہیں جو ان کے تعلقات کو مکمل طور پر بہتر بنانا بہت مشکل بنا دیتے ہیں۔
طالبان 2.

0 کی اقتدار میں واپسی کے ابتدائی چند ماہ کو چھوڑ کر، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بتدریج خراب ہوئے ہیں۔ حالیہ دنوں میں سرحدی جھڑپوں اور تجارت کی بندش کے بڑھتے ہوئے واقعات کے ساتھ دونوں ممالک کے تعلقات دشمنی میں بدل گئے تھے۔ لیکن سب سے زیادہ سنگین مسئلہ پاکستانی ریاست کے خلاف جنگ کرنے والے عسکریت پسندوں کی جانب سے افغان سرزمین کا استعمال ہے۔ زیادہ تر معاملات میں عسکریت پسند نیٹ ورکس بالخصوص کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، افغان طالبان کمانڈرز کی خفیہ حمایت کے ساتھ کارروائی کررہے ہیں۔
طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے ٹی ٹی پی کے دہشتگردانہ حملوں میں ڈرامائی اضافہ ہوا ہے۔ عسکریت پسند اب بہت بہتر طریقے سے مسلح اور تربیت یافتہ ہیں۔ وہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہیں جو 2021ء میں امریکی اور نیٹو افواج افغانستان سے انخلا کے بعد چھوڑ گئے تھے۔ لیکن ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے اور پاکستان کے خلاف بڑھتے ہوئے دہشتگرد حملوں کا مکمل الزام کابل پر ڈالنا درست نہیں ہے۔
ہماری سر تسلیم خم کرنے کی پالیسی بنیادی طور پر ٹی ٹی پی کے دوبارہ سر اٹھانے کی وجہ بنی۔ اس سے قبل ریاست نے افغان طالبان انتظامیہ کے اصرار پر نہ صرف کچھ کالعدم عسکریت پسند دھڑوں کے ساتھ امن مذاکرات کی کوشش کی بلکہ ہزاروں بھاری ہتھیاروں سے لیس جنگجوؤں کو پاکستان واپس آنے کی اجازت بھی دی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عسکریت پسندوں کو مشرقی سرحد پار سے بھی حمایت مل رہی ہے۔ تاہم غلطی عسکریت پسندی کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے میں ہماری ناقص اور غیر مربوط حکمت عملی میں بھی ہے۔
پاکستان نے افغانستان میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر بھی بمباری کی ہے۔ ان مایوس کن کارروائیوں کے قابلِ اعتراض نتائج برآمد ہوئے جبکہ سرحد پار سے ہونے والی کارروائیوں سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے کیونکہ کابل میں حکومت نے پاکستان کے خلاف اپنی پوزیشن سخت کرلی۔
پاکستان نے افغان شہریوں پر اس کی سرزمین پر ہونے والے کچھ دہشتگردانہ حملوں میں ملوث ہونے کا الزام بھی لگایا لیکن ان الزامات کو کابل نے یکسر مسترد کیا ہے۔ جوابی کارروائی کے طور پر اسلام آباد نے لاکھوں غیر قانونی اور یہاں تک کہ دستاویزی افغان مہاجرین کو ملک بدر کر دیا ہے جن میں سے کچھ اسی ملک میں پیدا ہوئے اور کئی دہائیوں سے پاکستان میں مقیم تھے۔ اکتوبر 2023ء سے تقریباً 8 لاکھ 45 ہزارافغان شہری پاکستان چھوڑ چکے ہیں جبکہ تقریباً 30 لاکھ اب بھی پاکستان میں رہائش پذیر ہیں۔ پاکستان اس سال انہیں ملک بدر کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسلام آباد کا اسی ناقابلِ فہم اقدام نے کابل کے ساتھ تناؤ میں مزید اضافہ کیا ہے۔
سرحدوں کی بار بار بندش نے بھی پاکستان کے خلاف افغانستان کے غصے کو بھڑکایا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں خلل ڈالا ہے۔ اس صورت حال میں بھارت نے طالبان حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات معمول پر لانے کی کوشش کی ہے۔ اس سال کے آغاز میں بھارتی سیکرٹری خارجہ نے دبئی میں افغان وزیر خارجہ سے ملاقات کی تھی۔ بھارت کی سفارتی رسائی نے قدامت پسند طالبان حکومت کی جانب اس کی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی کی نشاندہی کی۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق، کابل اور نئی دہلی کے درمیان اعلیٰ سرکاری سطح پر ہونے والی ملاقاتوں نے طالبان کی حکومت کو اصل جواز فراہم کیا۔ طالبان حکومت نے اشارہ دیا کہ وہ بھارت کے ساتھ سیاسی اور اقتصادی تعلقات کو فروغ دینا چاہتی ہے جبکہ انہوں نے بھارت کو ایک ’اہم علاقائی اور اقتصادی طاقت‘ قرار دیا۔ درحقیقت مقبوضہ کشمیر میں پہلگام دہشتگردانہ حملے کی کابل کی شدید مذمت کی تو کچھ لوگوں نے اس امر کو اس علامت کے طور پر لیا کہ طالبان پاکستان کے خلاف بھارت کی فوجی کارروائیوں کی حمایت کررہے ہیں۔
اس پیش رفت سے بیجنگ اور اسلام آباد میں تشویش کو جنم دیا۔ چین نے طالبان حکومت کے ساتھ کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں بہت قریبی تعلقات استوار کیے ہیں۔ یہ پہلا ملک تھا جس نے افغانستان کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کو بڑھاتے ہوئے سفیر تعینات کیے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ بیجنگ کا کابل اور اسلام آباد دونوں پر مضبوط اثر و رسوخ ہے جس کی وجہ سے اسے ثالث کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔
جب پاکستان کے وزیر خارجہ سرکاری دورے پر بیجنگ پہنچے تو سہ فریقی ملاقات کا کوئی طے شدہ شیڈول نہیں تھا۔ افغان وزیر خارجہ خصوصی دعوت پر بیجنگ گئے تھے۔ تاہم ملاقات نے جغرافیائی سیاسی اہمیت کا ایک مثبت نتیجہ نکالا۔ یقیناً کابل پر دباؤ برقرار رکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف سرحد پار سے دہشتگرد حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔ پھر بھی اسلام آباد کو کابل حکومت کے ساتھ اپنے کثیر جہتی تعاون کو مزید وسعت دینی چاہیے۔

عید الاضحیٰ پر کتنی ہزار شکایات موصول ہوئیں : وزیر بلدیات ذیشان رفیق نے اہم تفصیلات شیئر کر دیں

مزید :

ذریعہ

ذریعہ: Daily Pakistan

کلیدی لفظ: سفارتی تعلقات پاکستان کے بڑھتے ہوئے اسلام آباد تعلقات کو پاک افغان طالبان کی کے درمیان نے طالبان ممالک کے بھارت کے کے ساتھ کے بعد کیا ہے

پڑھیں:

اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔

Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026

انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔

دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا

انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔

ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔

صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔

It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5

— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026

ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔

انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان

پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔

انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔

مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور

صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔

انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب

متعلقہ مضامین

  • طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
  • طالبان نے خواتین و بچوں کی فلاحی تنظیم کا دفتر سیل کر دیا، 6 اہلکار لاپتا
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشیں، بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار