کے پی حکومت نے بجٹ پاس کرنے کیلئے عمران خان کا دو دن بھی انتظار نہیں کیا، علیمہ خان
اشاعت کی تاریخ: 24th, June 2025 GMT
راولپنڈی:
بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہن علیمہ خان نے کہا ہے کہ کے پی حکومت کو بجٹ پاس کرنے کی کیا جلدی تھی، بجٹ میں بانی سے کیا چھپایا گیا ہے اسے پاس کرنے کیلئے بانی کا دو دن بھی انتظار نہیں کیا۔
راولپنڈی میں اڈیالہ جیل کے باہر اپنی بہنوں کے ہمراہ میڈیا سے گفت گو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پولیس کو ہمیں روکنا ہے تو روک لے ہم ہم نہیں ڈرتے، ہمیں گرفتار کرنا ہے تو کریں، ایف آئی آر دینی ہے دے دیں، انہیں خوف ہے کہ عمران خان کا پیغام جیل سے باہر نہ آسکے۔
علیمہ خان نے کہا کہ گزشتہ ملاقات پر بانی کا پیغام وہی تھا جو میری بہنوں نے دیا، کل ٹرمپ اور ایران اکٹھے بیٹھ کر اعلان کریں گے، بانی کو سمجھ آرہی تھی یہ تھوڑے دن بعد اکٹھے بیٹھیں گے، بانی نے خطے کی صورت حال پر سب کو متحد رہنے کا پیغام دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ جو کہہ رہے تھے بانی کچھ نہیں بول رہا وہ جوتے پالش کررہے تھے، بانی پاکستان کی غیرت کا سمبل ہے۔
انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو سمجھ آگئی پاکستان کے وزیراعظم سے ملنے کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے ٹرمپ نے سمجھا بات اس سے کرو جس کے پاس اصل حکومت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بھی پتا چلا کے پی کا بجٹ پاس ہوگیا، مجھے کوئی پروا نہیں بجٹ کی، بانی نے جو کہا تھا وہ ہمارے لیے اہم ہے، بانی نے کہا ہے کے پی کے لوگوں نے مجھے ووٹ دیا ہے بانی چاہتے تھے بجٹ کی صحیح الاکیشن ہو۔
علیمہ خان نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم بجٹ پاس کرنے کی کیا جلدی تھی، ہمیں نہیں معلوم بجٹ میں بانی سے کیا چھپایا گیا ہے، بجٹ کو پاس کرنے کیلئے دو دن بانی کا انتظار نہیں کیا انہوں نے، میں تو حیران ہوں کے پی کے ایم پی ایز نے اس پر بحث بھی نہیں ؟ میں تو حیران ہوں کے پی کے اہم پی ایز کبھی یہاں تک نہیں آئے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے اپنے ملک کی فکر کرنی چاہیے، آپ کا اپنا ملک ڈوب رہا ہے آپ دوسروں کی فکر کرنے لگے ہیں۔
دریں اثنا پولیس نے علیمہ خان کو اڈیالہ جیل کی جانب جانے سے روک دیا اور پولیس پریزن وین طلب کرلی۔
علیمہ خان نے کہا کہ آج عمران خان سے ہرصورت ملاقات کرکے ہی جائیں گے۔ انہوں ںے کارکنان کے ہمراہ پیدل اڈیالہ جیل جانے کی کوشش کی مگر پولیس نے سب کو روک دیا۔
عظمی خان نے پولیس سے کہا کہ عمران خان سے ملاقات کرنا ہمارا حق ہے۔ پولیس افسر نے کہا کہ ہم تھوڑی دیر میں پوچھ کر آپ کو بتاتے ہیں۔
اس پر علیمہ خان اور کارکنان وہیں رک کر انتظار کرنے لگے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علیمہ خان نے کہا پاس کرنے کی نے کہا کہ بجٹ پاس
پڑھیں:
حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)وزیراعظم کے اپنا گھر پروگرام کے تحت اپنا ذاتی گھر حاصل کرنے کے خواہشمند شہریوں کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ حکومت نے اعلان کیا ہے کہ پروگرام کے تحت کمرشل بینک اب تک 160 ارب روپے مالیت کے ہاؤسنگ قرضے منظور کر چکے ہیں جبکہ کامیاب درخواست گزاروں کو قرضوں کی فراہمی کا عمل بھی تیزی سے جاری ہے۔
یہ بات وزیر خزانہ کے مشیر عدنان پاشا نے کراچی میں منعقدہ فرسٹ انٹرنیشنل انشورنس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کا اپنا گھر پروگرام ملک میں تقریباً ایک کروڑ (10 ملین) گھروں کی کمی کو پورا کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے اور اس کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کو رعایتی شرائط پر اپنے گھر کا مالک بننے کا موقع فراہم کیا جا رہا ہے۔
عدنان پاشا نے بتایا کہ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو صرف 5 فیصد رعایتی مارک اپ پر ہاؤسنگ قرض فراہم کیا جا رہا ہے جبکہ وزارت خزانہ اس منصوبے میں شامل بینکوں کے ممکنہ قرض نقصان کا 10 فیصد تک بوجھ خود برداشت کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت پہلے 10 سال تک مارک اپ سبسڈی بھی فراہم کر رہی ہے تاکہ ہاؤسنگ فنانس زیادہ سے زیادہ سستا اور عوام کی پہنچ میں رہ سکے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مستحق خاندان اس سہولت سے فائدہ اٹھائیں، جس سے نہ صرف رہائشی مسائل میں کمی آئے گی بلکہ تعمیراتی شعبے، سیمنٹ، اسٹیل، ٹائلز، الیکٹریکل مصنوعات اور دیگر متعلقہ صنعتوں میں بھی معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا۔
اس موقع پر عدنان پاشا نے حکومت کے الیکٹرک موٹرسائیکل پروگرام پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت آئندہ برسوں میں 20 لاکھ الیکٹرک موٹرسائیکلیں متعارف کرانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 30 لاکھ رجسٹرڈ موٹرسائیکلیں ہر سال قریب 8 ارب ڈالر مالیت کا درآمدی پٹرول استعمال کرتی ہیں، جس سے نہ صرف قیمتی زرمبادلہ خرچ ہوتا ہے بلکہ ماحولیاتی آلودگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت شہریوں کو الیکٹرک بائیکس کی خریداری پر سبسڈی اور بلاسود فنانسنگ فراہم کر رہی ہے تاکہ ایندھن پر انحصار کم کیا جا سکے، تاہم ملک میں الیکٹرک بائیکس کی پیداوار اور سپلائی کے مسائل اب بھی موجود ہیں، جنہیں دور کرنے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
عدنان پاشا نے زرعی شعبے کے حوالے سے بتایا کہ حکومت نے حال ہی میں زرخیزی اسکیم بھی متعارف کرائی ہے جس کے تحت 21 بینکوں پاکستان بینکس ایسوسی ایشن اور سپارکو کے تعاون سے کسانوں کو ڈیجیٹل زرعی قرضے فراہم کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں سیٹلائٹ مانیٹرنگ اور ریئل ٹائم ڈیٹا کے ذریعے قرضوں کے استعمال کی نگرانی کی جائے گی تاکہ شفافیت کو یقینی بنایا جا سکے اور زرعی پیداوار میں اضافہ ہو۔
حکومتی حکام کے مطابق اپنا گھر پروگرام اور دیگر مالیاتی اسکیموں کا مقصد کم آمدنی والے طبقات کو سہولت فراہم کرنے معیشت کو متحرک کرنے، تعمیراتی سرگرمیوں کو فروغ دینے اور ملک میں پائیدار ترقی کی راہ ہموار کرنا ہے۔
مزید پڑھیں۔سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کے بعد پنشن میں بھی اضافہ