تائیوان کے معاملے پر آگ سے کھیلنے سےفلپائن صرف خود آگ کے گڑھے میں گر جائے گا ، چینی میڈیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, August 2025 GMT
تائیوان کے معاملے پر آگ سے کھیلنے سےفلپائن صرف خود آگ کے گڑھے میں گر جائے گا ، چینی میڈیا WhatsAppFacebookTwitter 0 9 August, 2025 سب نیوز
بیجنگ :حال ہی میں فلپائن کے رہنما نے اپنے دورہ بھارت کے دوران ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر تائیوان کے معاملے پر چین اور امریکہ کے درمیان محاذ آرائی ہوتی ہے تو فلپائن اس معاملے سے باہر نہیں رہ سکتا۔ اس طرح کا بیان فلپائن کی جانب سے “ون چائنا پالیسی پر عمل کرنے” کے عزم کی خلاف ورزی ہے اور لامحالہ چین فلپائن تعلقات کو مزید نقصان پہنچائے گا۔ 9 جون 1975 کو چین اور فلپائن نے سفارتی تعلقات کے قیام سے متعلق مشترکہ اعلامیے پر دستخط کیے جس میں فلپائن نے واضح طور پر تسلیم کیا کہ “عوامی جمہوریہ چین کی حکومت چین کی واحد جائز حکومت ہے، اور تائیوان چین کا اٹوٹ حصہ ہے”۔
جنوری 2023 میں فلپائن کے صدر فرڈینینڈ مارکوس نے اپنے دورہ چین کے دوران ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ،جس میں فلپائن نے ون چائنا پالیسی پر عمل کرنے کا اعادہ کیا تھا۔ اب سوال پیدا ہوتا کہ فلپائن کی حکومت نے تائیوان کے معاملے پر چین کے مرکزی مفادات کو بار بار کیوں چیلنج کیا ہے؟
مارکوس حکومت کا دعویٰ ہے کہ تائیوان جغرافیائی طور پر فلپائن کے جزائر کے قریب ہے اور تائیوان میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد فلپائنی باشندے رہتے ہیں، لہٰذا اگر آبنائے تائیوان میں کوئی تنازع ہوتا ہے تو اس کا اثر لازمی طور پر فلپائن پر پڑے گا۔ فلپائن کی نام نہاد “جغرافیائی قربت” اور “تارکین وطن کی بڑی تعداد” دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کا جواز نہیں ہیں، اور یہ دلائل بین الاقوامی قانون اور آسیان چارٹر کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام اور فلپائنی عوام کے بنیادی مفادات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں.
دوسری جانب فلپائن کا ماننا ہے کہ وہ امریکہ کے تزویراتی نقشے میں ایک خاص مقام پر ہے اور اس کی تائیوان سے متعلق پالیسی امریکہ کے حوالے کی جانے والی “پروٹیکشن فیس” بن چکی ہے۔ تائیوان کا مسئلہ چین اور فلپائن کے درمیان مسئلہ نہیں ہے اور نہ ہی ہونا چاہئے۔ہم فلپائن کے سیاست دانوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ آگ سے نہ کھیلیں۔ بصورت دیگر پورے فلپائن کو آگ کے گڑھے میں گھسیٹا جائے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبراراکین پنجاب اسمبلی ایک سال میں 15 کروڑ روپے کی بجلی اڑا گئے کئی ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں کی جانب سے اسرائیل کے غزہ شہر پر قبضے کے منصوبے کی مذمت روس امریکہ سربراہی اجلاس 15 اگست کو الاسکا میں ہوگا، روس کی تصدیق امریکی صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر بھارتی طیارے گرائے جانے کی تصدیق کر دی غزہ پر قبضہ نہیں حماس سے آزاد کرانے جارہے ہیں،اسرائیلی وزیراعظم ٹرمپ نے ایک اور جنگ رُکوا دی، آذربائیجان اور آرمینیا کے درمیان امن معاہدہ کرا دیا اسرائیل خطرناک اقدامات فوری طور پر بند کرے، چینی وزارت خارجہCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: تائیوان کے معاملے پر
پڑھیں:
چینی چڑیا گھر میں جانور گرمی کی شدید لہر سے کیسے محفوظ رہتے ہیں؟
چین کے جنوب مغربی شہر چونگ چنگ میں شدید گرمی کے پیش نظر چونگ چنگ چڑیا گھر نے جانوروں کو محفوظ اور آرام دہ رکھنے کے لیے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑوں اور دیگر جانوروں کو ٹھنڈے پانی، پھلوں اور جدید کولنگ سسٹمز کے ذریعے گرمی سے بچانے کی کوششیں جاری ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے شِنہوا کے مطابق چونگ چنگ چڑیا گھر میں دیوقامت پانڈا، ہاتھی، دریائی گھوڑے اور دیگر جانوروں کو شدید گرمی سے بچانے کے لیے ٹھنڈے پانی کے تالاب، مصنوعی بارش (مسٹنگ سسٹم)، سایہ دار مقامات اور خصوصی خوراک کا انتظام کیا گیا ہے۔
چڑیا گھر میں موجود دیوقامت پانڈا دن کے گرم اوقات میں پانی کے تالابوں میں وقت گزار رہے ہیں، جبکہ ان کے باڑوں میں مسلسل پانی کی باریک پھوار چلائی جا رہی ہے تاکہ درجہ حرارت کم رکھا جا سکے۔
اسی طرح دریائی گھوڑوں اور ہاتھیوں کو جسمانی درجہ حرارت متوازن رکھنے کے لیے تربوز اور دیگر پانی سے بھرپور پھل کھلائے جا رہے ہیں، جبکہ ان کے لیے نہانے اور پانی میں رہنے کے اضافی انتظامات بھی کیے گئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق پانڈا نسبتاً ٹھنڈے موسم کے جانور ہیں اور شدید گرمی ان کی صحت، خوراک اور روزمرہ سرگرمیوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔ اسی وجہ سے چین کے مختلف چڑیا گھروں میں موسمِ گرما کے دوران کولنگ سسٹمز، برف کے بلاکس، ایئر کنڈیشنڈ انڈور حصوں اور پانی سے بھرپور غذا کا استعمال معمول کا حصہ بن چکا ہے۔
چونگ چنگ چین کے گرم ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں موسمِ گرما میں درجہ حرارت اکثر 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے قریب یا اس سے بھی زیادہ پہنچ جاتا ہے۔ حالیہ برسوں میں شدید گرمی کی لہروں کے باعث مقامی انتظامیہ نے نہ صرف شہریوں بلکہ جنگلی اور قید جانوروں کے تحفظ کے لیے بھی خصوصی منصوبے نافذ کیے ہیں۔
چڑیا گھر کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ موسمِ گرما کے دوران جانوروں کی صحت کی مسلسل نگرانی کی جا رہی ہے اور ضرورت کے مطابق ان کے ماحول، خوراک اور طبی نگہداشت میں تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ شدید گرمی کے باوجود انہیں کسی قسم کی تکلیف یا صحت کے خطرات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں