چیف جسٹس سے وزیر خزانہ کی ملاقات، قانون کی حکمرانی کیلئے مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
اسلام آباد (خصوصی رپورٹر) وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے سپریم کورٹ اسلام آباد میں ملاقات ہوئی جس میں قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھنے اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے عدلیہ اور انتظامیہ کے مابین مربوط کوششوں کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق ملاقات میں چیف جسٹس نے انصاف تک رسائی میں بہتری، عدالتی نظام کی جدید کاری، ٹیکس سے متعلق مقدمات کی درجہ بندی کے بارے میں اقدامات کو اجاگر کیا۔ چیف جسٹس نے ٹیکنالوجی پر مبنی اصلاحات کے ذریعے سروس ڈیلیوری میں بہتری کے حوالے سے سپریم کورٹ کے جاری اقدامات کو اجاگر کیا، متبادل تنازعات کے حل اے ڈی آر کے نظام کی کامیابی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا، متبادل تنازعات کے حل کا نظام ٹیکس سے متعلق تنازعات کے بروقت حل کے لیے متعارف کرایا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے اس نظام کی حقیقی کامیابی کے لیے حکومتی تعاون کی اہمیت کو ایک بار پھر دہرایا۔ چیف جسٹس نے وفاقی وزیر کو آگاہ کیا کہ اس وقت جوڈیشل اکیڈمی میں عدالتی افسروں اور ایس ای سی پی کے ارکان کے لیے تربیتی سیشنز جاری ہیں، جلد ہی مسابقتی کمشن کے افسروں کو بھی اسی نوعیت کی تربیت دینے کا منصوبہ ہے۔ وفاقی وزیر نے عدلیہ کے اصلاحاتی ایجنڈے کو سراہا اور عدالتی ترقیاتی منصوبوں کے لیے درکار وسائل کی بروقت فراہمی میں حکومت کے مسلسل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: چیف جسٹس نے کی اہمیت کے لیے
پڑھیں:
وزیر تجارت سے کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد کی ملاقات، تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 24 جولائی2026ء) وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے ملاقات کی اور انہیں علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات بارے آگاہ کیا ۔ جمعے کو جاری بیان کے مطابق ملاقات میں وزیر تجارت نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی برآمدات بڑھانے اور عالمی مسابقت بہتر بنانے کے اقدامات پر تفصیلی بات چیت کی اورپاکستانی قالینوں کی عالمی منڈیوں میں رسائی اور برآمدی مسابقت بڑھانے کے لیے پالیسی اقدامات کا جائزہ بھی لیا۔وفد نے علاقائی تجارتی رکاوٹوں اور عالمی سپلائی چین میں خلل سے قالینوں کی صنعت کو درپیش مشکلات سے وزیر تجارت کو آگاہ کیا۔(جاری ہے)
وفد نے کہا کہ کاروبار دوست اور قابلِ پیش گوئی پالیسی فریم ورک برآمدات کے فروغ کے لیے ناگزیر ہے۔ جام کمال نے کہا کہ حکومت شفاف، قواعد پر مبنی اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کے ذریعے برآمدات کے فروغ کے لیے پرعزم ہے،وزارتِ تجارت صنعت کی تجاویز پر متعلقہ اداروں سے مشاورت کے بعد قابلِ عمل حل تیار کرے گی۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی برآمدی حکمتِ عملی ویلیو ایڈیشن، برآمدی صنعت، برانڈنگ اور عالمی ویلیو چینز میں شمولیت پر مرکوز ہے، حکومت نجی شعبے کے تعاون سے تجارت میں حائل حقیقی رکاوٹیں دور کر کے برآمدات پر مبنی پائیدار ترقی کو فروغ دے گی۔\932