20 روپے میں ای بس پر شاندار، آرام دہ سفر ہو گا، نوجوانوں کے خوابوں کیلئے وسائل نچھاور کرینگے: مریم نواز
اشاعت کی تاریخ: 13th, August 2025 GMT
لاہور (نیوز رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) وزیراعلیٰ مریم نواز نے کہا ہے کہ نوجوانوں کے خواب کو تعبیر دینے کے لئے سب وسائل نچھاور کر دیں گے۔ نوجوان پنجاب، پاکستان کا روشن مستقبل اور قابل قدر سرمایہ ہیں۔ نوجوانوں کے عالمی دن پر پیغام میں انہوں نے کہا کہ ہر نوجوان ملت کے مقدر کا ستارہ ہے، ہمیں ان پر فخر ہے۔ پنجاب کا منفرد ہونہار سکالرشپ پروگرام نوجوان طلبہ کے خواب پورے کر رہا ہے۔ سی ایم پنجاب لیپ ٹاپ سکیم سے ہزاروں نوجوان جدید علوم اور ٹیکنالوجی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ کھیلتا پنجاب سے ہر ڈویژن کے نوجوانوں کو صحت، ہمت، مثبت سرگرمیوں اور سپورٹس میں چمکنے کا پلیٹ فارم دے رہے ہیں۔ ای-بائیکس سکیم پنجاب کے ہزاروں طلبہ کو سفر کی باعزت سواری اور خود مختاری فراہم کر رہی ہے۔ ایڈوانس مارکیٹ بیسڈ آئی ٹی ٹریننگز نوجوانوں کو نوکری کے لیے نہیں بلکہ نوکریاں پیدا کرنے کے لیے تیار کر رہی ہیں۔ مریم نواز کلینکس میں ینگ میڈیکل گریجویٹس مریضوں کی شاندار خدمت کا عملی نمونہ پیش کر رہے ہیں۔ آسان کاروبار کارڈ اور آسان کاروبار فنانس نوجوانوں کو خود مختار اور معاشی طاقت دے رہے ہیں۔ مختلف ڈیپارٹمنٹ میں جاری انٹرن شپ پروگرام نوجوانوں کے لیے عملی تجربہ اور فہم و فراست کی راہیں کھول رہا ہے۔ پنجاب کے نوجوانوں پر اعتماد کبھی ختم نہیں ہوگا، ان کی کامیابی سے بڑھ کر کوئی خوشی نہیں۔ علاو ازیں مریم نواز نے معروف گلوکار عاطف اسلم کے والد کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔مریم نواز شریف نے ایکس پر پنجاب کے عوام کے لئے مسرت آمیز پیغام میں کہا ہے کہ پنجاب کے اضلاع میں 20 روپے میں الیکٹرک بس پر شاندار اور آرام دہ سفرہوگا۔ ایئرکنڈیشنڈ،وائی فائی اور دیگر سہولتوں سے لیس بسیں تیار کی گئی ہیں۔ چین کے شہر یانٹائی کی بندرگاہ پر 100 الیکٹرک بسوں کا فلیٹ بحری جہاز پرلوڈنگ جاری ہے۔ طویل عرصے سے پبلک ٹرانسپورٹ نظام سے محروم اضلاع میں بسیں ترجیحی بنیادوں پر چلائی جارہی ہیں - میانوالی، اوکاڑہ، ننکانہ صاحب، مظفرگڑھ، وہاڑی، پاکپتن اور ڈیرہ غازی خان میں ای بسیں چلائی جارہی ہیں۔ الیکٹرک بس کا کرایہ صرف 20 روپے ہوگا۔ ڈسٹرکٹ کے لئے ماحول دوست الیکٹرک بسوں میں ایئر کنڈیشنڈ، وائی فائی اور دیگر سہولیتیں بھی ہوں گی اور مکمل طور پر خودکار ٹکٹنگ سسٹم ہوگا۔ اضلاع میں چلائی جانے والی الیکٹرک بسوں پر سپیشل پرسن بھی آسانی سے سفر کر سکیں گے۔ پنجاب کے شہریوں کو محفوظ، آرام دہ اور پرسکون سفر فراہم کریں گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: نوجوانوں کے مریم نواز پنجاب کے رہے ہیں
پڑھیں:
حکومت کا چینی شہریوں کیلئے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
حکومتِ پاکستان نے چینی شہریوں کی سیکیورٹی کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تقریباً 9 کروڑ 50 لاکھ روپے مالیت کی نئی بلٹ پروف ٹویوٹا لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ کر لیا۔سرکاری دستاویزات کے مطابق 95.049 ملین روپے مالیت کی یہ گاڑی چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) سیکرٹریٹ کے استعمال کے لیے حاصل کی جائے گی تاکہ چینی وفود، ماہرین اور دیگر اہم شخصیات کو محفوظ سفری سہولت فراہم کی جا سکے۔وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ چینی شہریوں کا تحفظ حکومتِ پاکستان کی اولین ترجیح ہے، اسی مقصد کے تحت نئی بلٹ پروف گاڑی خریدی جا رہی ہے۔دستاویزات کے مطابق یہ گاڑی پہلے سے موجود بلٹ پروف گاڑیوں اور کم از کم دو ہیلی کاپٹروں کے علاوہ ہوگی، جنہیں مختلف سرکاری ادارے چینی شہریوں کی سکیورٹی کے لیے استعمال کر رہے ہیں یا جن کی خریداری کا عمل جاری ہے۔سی پیک سیکرٹریٹ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ کابینہ ڈویژن کے محدود گاڑیوں کے بیڑے کے باعث بروقت بلٹ پروف گاڑیاں دستیاب نہیں ہوتیں، جس سے اہم سرکاری ملاقاتوں، غیر ملکی وفود کے دوروں اور اجلاسوں میں تاخیر یا بعض اوقات منسوخی کی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔دستاویزات میں کہا گیا ہے کہ نجی مارکیٹ سے بلٹ پروف گاڑیاں کرائے پر حاصل کرنا نہ صرف غیر یقینی بلکہ انتہائی مہنگا بھی ثابت ہوتا ہے، جس سے قومی خزانے پر اضافی مالی بوجھ پڑتا ہے۔حکومت نے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی (PPRA) رول 42(c)(vii) کے تحت براہِ راست معاہدے کے ذریعے گاڑی خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔حکومت کو تین ٹویوٹا ڈیلرز کی جانب سے قیمتیں موصول ہوئیں، جن میں ٹویوٹا سینٹرل موٹرز نے 95.049 ملین روپے، ٹویوٹا پورٹ قاسم نے 95.25 ملین روپے اور ٹویوٹا سوسائٹی نے 95.45 ملین روپے کی پیشکش کی، حکومت نے سب سے کم بولی دینے والی ٹویوٹا سینٹرل موٹرز کی پیشکش منظور کر لی۔دستاویزات کے مطابق سی پیک سیکرٹریٹ کے پاس گاڑی کی خریداری کے لیے مطلوبہ فنڈز دستیاب نہیں تھے، جس کے بعد وزارتِ منصوبہ بندی نے مختلف منصوبوں سے 5 کروڑ 83 لاکھ روپے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا، تاہم مالی سال کے اختتام تک ضروری منظوری نہ ملنے کے باعث خریداری کا آرڈر جاری نہیں ہو سکا۔وزارت نے فنڈز کی فراہمی کے لیے مختلف منصوبوں سے رقم مختص کی، جن میں سینٹر فار ایکسی لینس برائے سی پیک سے ایک کروڑ 88 لاکھ روپے، وفاقی ایس ڈی جیز پروگرام سے 91 لاکھ روپے، مانیٹرنگ اینڈ ایویلیوایشن منصوبے سے ایک کروڑ 10 لاکھ روپے اور پالیسی ریسرچ گرانٹس پروگرام سے ایک کروڑ 60 لاکھ روپے شامل ہیں، ان فنڈز میں 62 لاکھ روپے وہ بھی شامل تھے جو کنٹریکٹ ملازمین کی ادائیگی کے لیے مختص کیے گئے تھے۔