جیکب آباد، علامہ مقصود ڈومکی کی سندھ ایمپلائز الائنس کے احتجاج میں شرکت
اشاعت کی تاریخ: 24th, September 2025 GMT
ملازمین سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ آئی ایم ایف کو سرکاری ملازمین کی پینشن پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل اعتراض انہیں حکمرانوں کی کرپشن اور عیاشیوں پر ہونا چاہیے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے آج جیکب آباد کے ڈی سی چوک پر سندھ ایمپلائز الائنس کے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا اور احتجاجی ملازمین سے اظہار یکجہتی کیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین عزاداری ونگ کے صوبائی نائب صدر سید غلام شبیر نقوی و دیگر رہنماء بھی ان کے ہمراہ تھے۔ اس موقع پر ایڈوکیٹ عبدالرب اوڈھانو، مرکزی سیکرٹری جنرل گورنمنٹ ریٹائرڈ ایمپلائیز ویلفیئر ایسوسی ایشن سندھ نے علامہ مقصود علی ڈومکی کو ملازمین کے مسائل اور ان کے مطالبات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ حکومت ایک طرف وزراء، اراکین اسمبلی اور حکمرانوں کی مراعات میں آئے روز اضافہ کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف غریب اور متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور مراعات میں روز بہ روز کٹوتی کی جا رہی ہے۔
انکا کہنا تھا کہ یہ انتہائی زیادتی ہے کہ وہ ملازمین جو پوری زندگی عوام کی خدمت کرتے ہیں، انہیں پینشن کے بنیادی حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کو سرکاری ملازمین کی پینشن پر کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے بلکہ اصل اعتراض انہیں حکمرانوں کی کرپشن اور عیاشیوں پر ہونا چاہیے۔ ملازمین کی تنخواہیں اور پینشن ان کا حق ہیں اور کسی صورت ان پر ڈاکہ نہیں ڈالا جا سکتا۔ اس موقع پر سندھ ایمپلائز الائنس کے رہنماؤں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے متعارف کردہ ملازم دشمن پینشن رولز کے خلاف احتجاجی تحریک جاری رہے گی۔ اس احتجاجی تحریک میں یہ مطالبات شامل ہیں کہ وفاق اور دیگر صوبوں کی طرح سندھ کے ملازمین کو بھی Disparity Reduction Allowance دیا جائے۔ گروپ انشورنس اور بینیوولنٹ فنڈ ملازمت کے اختتام پر ریٹائرمنٹ کے موقع پر ادا کیے جائیں۔ پینشن کے حق پر قدغن لگانے کی سازشوں کو فوری واپس لیا جائے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود ملازمین کی ہونا چاہیے کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی ہدایت پر صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے سندھ بھر کی ضلعی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا ہے اور تمام متعلقہ محکموں کو احتیاطی اور ہنگامی ردعمل کے اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے، کیونکہ بحیرہ عرب سے آنے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے صوبے کو متاثر کر رہے ہیں۔ پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری کردہ موسمیاتی ایڈوائزری کے مطابق، پاکستان محکمہ موسمیات (پی ایم ڈی) کی پیش گوئی کی بنیاد پر ملک میں داخل ہونے والے مون سون کے طاقتور ہوائی سلسلے، بالائی اور وسطی علاقوں کو متاثر کرنے والے مغربی موسمی نظام کے ساتھ مل کر، 23 جولائی سے 25 جولائی تک سندھ کے کئی اضلاع میں وسیع پیمانے پر بارش، گرج چمک اور بعض مقامات پر موسلا دھار بارش کا سبب بن سکتے ہیں۔
وزیراعلی مراد علی شاہ نے تمام ڈپٹی کمشنرز، ضلعی انتظامیہ، بلدیاتی اداروں، آبپاشی حکام، محکمہ صحت، امدادی اداروں اور مقامی حکومت کے اداروں کو مکمل طور پر چوکس رہنے، ہنگامی ردعمل کی ٹیموں کو تیار رکھنے، نکاسی آب کے نظام کو فعال رکھنے اور انسانی جانوں اور املاک کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کی ہدایت کی ہے۔ وزیر اعلی نے ڈویژنل کمشنرز اور بلدیاتی اداروں کو مزید ہدایت کی کہ وہ نشیبی علاقوں، شہری مراکز اور حساس مقامات کی کڑی نگرانی کریں، امدادی سامان اور آلات کی دستیابی یقینی بنائیں اور موسمیاتی پیش گوئی کی مدت کے دوران تمام محکموں کے درمیان بلاتعطل رابطہ برقرار رکھیں۔