اسلام آباد میں 17 نومبر سے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 5th, October 2025 GMT
پاکستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی (پاک ای پی اے) نے اعلان کیا ہے کہ 17 نومبر سے وفاقی دارالحکومت میں دھواں خارج کرنے والی گاڑیوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن شروع کیا جائے گا۔
ترجمان وزارتِ موسمیاتی تبدیلی محمد سلیم شیخ کے مطابق اس اقدام کا مقصد اسموگ کے موسم سے قبل فضائی آلودگی پر قابو پانا ہے۔ اس مہم میں اسلام آباد پولیس اور ٹریفک پولیس بھی شریک ہوں گی۔
یہ بھی پڑھیے: ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کے لیے سہولیات میں اضافہ، یکم اکتوبر کے بعد کریک ڈاؤن کا فیصلہ
شہر کے مختلف مقامات پر چیکنگ اور دھواں ٹیسٹ کیے جائیں گے اور مقررہ معیار پر پورا نہ اترنے والی گاڑیوں پر جرمانہ یا ضبطگی کی جائے گی۔
ترجمان نے کہا کہ عوام اپنی گاڑیوں کا دھواں ٹیسٹ کروا کر پاک ای پی اے کے مراکز سے کلیئرنس اسٹیکر حاصل کریں، ورنہ کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے شہریوں سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ غیر ضروری سفر سے گریز کریں، پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں اور کھلے مقامات پر کچرا جلانے سے اجتناب کریں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
پڑھیں:
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں جنگلات میں لگنے والی بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں
سیٹلائٹ تصاویر نے کوٹلی ستیاں کے جنگلات میں لگنے والی حالیہ بھیانک آگ کی تباہی کی تفصیلات ظاہر کر دیں۔
سپارکو کی جانب سے پر جاری کردہ سیٹلائٹ ڈیٹا کے مطابق گرمی کی حالیہ شدید لہر کے باعث جنگلات میں لگنے والی ہولناک آگ نے پنجاب کے ماحولیاتی لحاظ سے حساس علاقے 'کوٹلی ستیاں' کے 25 مقامات پر پھیلے ہوئے تقریباً 3,037 ہیکٹر (7,504.7 ایکڑ) پر مشتمل قدرتی جنگلات کو خاکستر کر دیا ہے۔
9 مئی سے 29 مئی 2026 تک کی سیٹلائٹ تصاویر کا موازنہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آگ لگنے کے بعد 'چِیڑ' کے جنگلات کو شدید نقصان پہنچا ہے، جو کہ دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے اہم ذیلی آبی ذخائر کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اس کے ماحولیاتی اثرات صرف آگ سے جھلسنے والے فوری نقصانات تک محدود نہیں ہیں؛ بلکہ اس آفت نے مقامی پرندوں اور جنگلی حیات کی افزائشِ نسل کے عروج کے سیزن کو شدید متاثر کیا ہے۔
نئے اگنے والے پودوں اور پنیریوں کو تباہ کر دیا ہے، اور اس متاثرہ زمین پر ایسی جڑی بوٹیوں اور جھاڑیوں کے پھیلنے کی راہ ہموار کر دی ہے جو آگ کو برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
اگرچہ مقامی آبادی اور محکمہ جنگلات کے عملے نے کئی علاقوں میں آگ پر کامیابی سے قابو پا لیا ہے، لیکن تیز اور گرم ہواؤں کے باعث ہمسایہ ڈھلوانوں پر اب بھی آگ پھیل رہی ہے، جس سے ماحول کو مزید نقصان پہنچنے کا خطرہ ہے۔