جنوبی افریقہ کی پاکستان میں اسپن وکٹوں کے لیے خصوصی تیاریاں مکمل
اشاعت کی تاریخ: 6th, October 2025 GMT
جنوبی افریقی کرکٹ ٹیم کے کپتان ایڈن مارکرم نے کہا ہے کہ ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ کے نئے سائیکل کے آغاز پر ان کی ٹیم کو بطور دفاعی چیمپئن دیگر ٹیموں کا خصوصی ہدف بننا پڑے گا۔
جنوبی افریقہ اتوار سے پاکستان کے خلاف 2 ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے جا رہا ہے، جس کے بعد نومبر میں بھارت میں 2 میچز ہوں گے۔
یہ بھی پڑھیں:جنوبی افریقہ کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے پاکستانی اسکواڈ کا اعلان، شان مسعود کپتان برقرار، امام الحق کی واپسی، صائم ایوب ڈراپ
یہ سیریز اس مہم کا حصہ ہے جس میں جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم رواں برس جون میں آسٹریلیا کو لارڈز میں 5 وکٹوں سے شکست دے کر حاصل کی گئی ٹیسٹ چیمپیئن شپ ٹرافی کا دفاع کرنا چاہتی ہے۔
ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ 2 سالہ چکر میں مکمل ہوتی ہے، جس کے اختتام پر سرفہرست 2 ٹیمیں 5 روزہ فائنل میں آمنے سامنے آتی ہیں۔
Back To Work ????#TheProteas hit camp ahead of the Pakistan tour starting 12 October 2025! ???? pic.
— Proteas Men (@ProteasMenCSA) October 6, 2025
مارکرم نے پیر کے روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اگر آپ نے ٹرافی جیتی ہے تو ظاہر ہے کہ اب دیگر ٹیمیں آپ کو ہدف بنائیں گی اور یہ بات بالکل درست ہے۔
’ہم دوبارہ فائنل تک پہنچنا اور وہ ٹرافی دوبارہ اٹھانا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہر ٹیم ہمارے خلاف بھرپور تیاری سے میدان میں اترے گی۔‘
مزید پڑھیں: پاکستان اور جنوبی افریقہ سیریز کے لیے میچ آفیشلز کا اعلان
ایڈن مارکرم اس دورے میں کپتانی کے فرائض انجام دیں گے کیونکہ ٹیمبا باووما پنڈلی کی انجری کے باعث اسکواڈ سے باہر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ٹیم مختلف حالات میں بہتر کھیل پیش کرنے کے لیے خود کو مسلسل بہتر بنا رہی ہے۔
’ہمارا سفر پاکستان سے شروع ہو رہا ہے، اور یہ ایک بڑا چیلنج ہے جس کے لیے تمام کھلاڑی تیار ہیں۔‘
جنوبی افریقہ کی ٹیم نے پریٹوریا کے ہائی پرفارمنس سینٹر میں اسپن وکٹوں پر خصوصی مشق کی ہے۔
مزید پڑھیں:ورلڈ چیمپیئن شپ آف لیجنڈز فائنل: جنوبی افریقہ نے پاکستان کو ہرا کر ٹائٹل اپنے نام کرلیا
ایڈن مارکرم نے کہا کہ جنوبی افریقہ نے کچھ ایسی پچیں تیار کی ہیں جہاں گیند غیر معمولی طور پر زیادہ اسپن ہوتی ہے۔
’ہم نے سوچا کہ اگر یہاں زیادہ اسپن سے کھیلنے کی مشق کریں تو پاکستان پہنچ کر حالات کو بہتر طور پر سنبھال سکیں گے۔‘
ایڈن مارکرم نے مزید کہا کہ پاکستان میں وکٹیں قدرتی طور پر کم باؤنس اور ’سکڈ‘ والی ہوتی ہیں، جن کی بالکل نقل جنوبی افریقہ میں ممکن نہیں۔
مزید پڑھیں:سہ فریقی کرکٹ سیریز: جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں پاکستان نے کون سے 2 نئے ریکارڈ قائم کیے؟
’تاہم ٹیم نے ایسی پچوں پر کھیلنے کی بھرپور کوشش کی ہے تاکہ وہاں کی صورتحال سے ہم آہنگی پیدا کی جا سکے۔‘
پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان پہلا ٹیسٹ 12 اکتوبر کو لاہور میں کھیلا جائے گا، جب کہ دوسرا ٹیسٹ 20 اکتوبر سے راولپنڈی میں شروع ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
انجری ایڈن مارکرم پاکستان ٹیسٹ کرکٹ جنوبی افریقہ
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ایڈن مارکرم پاکستان ٹیسٹ کرکٹ جنوبی افریقہ جنوبی افریقہ ایڈن مارکرم کہا کہ کے لیے
پڑھیں:
گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
ایک بیان میں قائد نون لیگ کا کہنا تھا کہ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ نون لیگ کے قائد میاں نواز شریف نے کہا ہے کہ ہم نے گلگت سے سکردو کا 9 گھنٹے کا سفر 3 گھنٹے میں بدل کر عوام کے 6 گھنٹے بچائے ہیں۔ 70 سال سے لٹکے منصوبے ہم نے اربوں روپے لگا کر مکمل کیے۔ ہمیں یہ منظور نہیں کہ یہاں 20، 22 گھنٹے لوڈشیڈنگ ہو۔ ووٹ ملے یا نہ ملے، ہم آپ کو محروم نہیں رکھیں گے۔ آپ ووٹ دیں یا نہ دیں ہم پھر بھی آپ کی خدمت کریں گے اور ترقیاتی کام مکمل کریں گے۔ ایک بیان میں میاں نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں شہباز شریف اور مریم کو بھی کہوں گا کہ وہ دونوں یہاں آئیں اور اگر اللہ کے فضل و کرم سے ہماری حکومت آتی ہے، تو میں خود ہر دوسرے تیسرے مہینے یہاں آکر شروع کیے گئے ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل اور نگرانی اپنی دیکھ بھال میں مکمل کرواؤں گا۔ یہاں دیس نکالے کی باتیں کرنے والے یاد رکھیں کہ 2017ء میں این ایف سی کمیٹی نواز شریف نے ہی بنائی تھی تاکہ اس مسئلے کا مستقل حل نکل سکے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ گلگت، سکردو، بلتستان اور ہنزہ سمیت پورے خطے کے عوام سے مخاطب ہوں۔ اللہ کے فضل و کرم سے اور شہباز شریف سے بات کر کے اس شاہراہ کو پورا خنجراب تک پہنچائیں گے۔ پاک چائنا ٹریڈنگ کے اس منصوبے سے یہاں ایسی خوشحالی آئے گی کہ آپ کو گھر بیٹھے روزگار اور اخراجات ملیں گے اور پورا خطہ بدل جائے گا۔ آج گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، وہ گلگت کہاں ہے جسے میں جانتا تھا؟ ہم نے مانسہرہ سے تھاکوٹ تک بہترین سڑک بنائی جسے خنجراب تک جانا تھا مگر اسے نظر انداز کر دیا گیا۔ ہم کسی کی برائی کرنے نہیں بلکہ ہمیشہ اپنی کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ مانگتے ہیں۔ یہاں کے عوام بے تحاشہ ترقی اور روزگار کے حقدار ہیں۔