کراچی میں ابلتے گٹر اور کچرا شہریوں کیلئے اذیت بن گئے
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (اسٹاف رپورٹر)کراچی میں سیوریج اور کچرے کا بگڑتا نظام شہریوں کیلئے اذیت کا باعث بن گیا ہے۔اولڈ سٹی ایریا میں جوبلی سے گارڈن کی جانب جانے والی سڑک کا ایک ٹریک گندے پانی میں ڈوبا ہوا ہے جبکہ کچرا کنڈی سے بہنے والی گندگی نے صورتحال کو مزید خراب کردیا ہے۔ گندے پانی اور کچرے کے ڈھیروں کے درمیان آوارہ کتوں نے بھی بسیرا کر لیا۔ متاثرہ ٹریک اب ٹریفک کے لیئے ناقابل استعمال ہوگیا ہے۔سڑک پر جمع گندا پانی نہ صرف تعفن پھیلا رہا ہے بلکہ کنارے پر موجود کچرا کنڈی کی غلاظت سیوریج کے پانی میں مل کر صورتحال مزید ابتر کررہی ہے۔ اس گندے پانی و کچرے کے ڈھیروں میں آوارہ کتوں نے بسیرا کر لیا ہے جس سے شہریوں کو گزرنے میں خطرہ محسوس ہونے لگا ہے۔یہ سڑک سول اسپتال، جوبلی مارکیٹ اور ایس آئی یو ٹی اسپتال جانے والے شہریوں کے لیے اہم ہے جبکہ سڑک کے ایک جانب سول ڈیفنس کا دفتر تو دوسری جانب گارڈن پولیس ہیڈکوارٹرز واقع ہے، اس کے باوجود متعلقہ اداروں کی غفلت کے باعث یہ علاقہ مسلسل گندگی اور بدبو کی لپیٹ میں ہے۔طارق نامی علاقہ مکین کے مطابق گزشتہ دو برسوں سے یہ صورتحال بار بار پیدا ہوجاتی ہے، شکایات کے باوجود کوئی عملی اقدام نہیں کیے گئے۔ شہری اب حکمرانوں کے دعوؤں سے نا امید ہوچکے ہیں، اب صورتحال اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ایک ہی ٹریک پر دونوں جانب سے ٹریفک چلانے سے حادثات کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ گندے پانی میں مچھروں کی افزائش تیزی سے ہو رہی ہے جس سے ڈینگی اور دیگر بیماریوں کے پھیلاؤ کا خدشہ ہے۔ شہریوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقے میں صفائی اور نکاسیِ آب کا نظام فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ سڑک کو مکمل طور پر قابلِ استعمال بنایا جا سکے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ شہر کے مرکزی علاقوں میں ایسی حالت انتظامیہ کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو گندگی اور سیوریج کا یہ مسئلہ مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: گندے پانی
پڑھیں:
کراچی ایئرپورٹ پر جعلی یو اے ای ورک ویزا فراڈ بے نقاب، مسافر آف لوڈ
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ ایف آئی اے امیگریشن نے دبئی جانے والے مسافر سید ظل اللہ احسان الزمان کو جعلی یو اے ای ریزیڈنس، ورک ویزا پر سفر کی کوشش کے دوران آف لوڈ کر دیا۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق دورانِ بورڈنگ عملے کو ٹکٹ کی تفصیلات ایئرلائن سسٹم میں نہ ملنے پر مسافر کو مزید جانچ کیلئے روکا گیا، تفصیلی جانچ کے دوران پیش کردہ یو اے ای ورک ویزا جعلی اور بوگس پایا گیا۔ ابتدائی تحقیقات میں مسافر نے انکشاف کیا کہ اس نے سوشل میڈیا کے ذریعے رابطہ کرنے والے ایجنٹ ملک شہباز اعوان سے بیرون ملک ملازمت کے انتظامات کروائے تھے، مذکورہ ایجنٹ مبینہ طور پر ’’مَلک اوورسیز‘‘ کے نام سے جوہرآباد، خوشاب میں کام کر رہا ہے۔
مسافر کے مطابق اس نے ویزا اور سفری دستاویزات کے حصول کیلئے ایجنٹ کو 3 لاکھ 80 ہزار روپے ادا کیے تھے۔ ادائیگیاں مختلف جاز کیش اور بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں۔ مسافر نے مؤقف اختیار کیا کہ اسے ویزا کے جعلی ہونے کا علم نہیں تھا اور وہ خود بھی ویزا فراڈ کا شکار ہوا ہے۔ ترجمان ایف آئی اے کے مطابق مسافر کو تمام متعلقہ دستاویزات سمیت مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کیلئے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل کراچی منتقل کر دیا گیا ہے۔