وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے آج سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے اعلیٰ سطحی وفد کی ملاقات متوقع ہے۔
وفد کی قیادت سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کریں گے، جو کونسل کے سربراہ بھی ہیں۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سرمایہ کاری، تجارتی تعاون، صنعتی شراکت داری اور مشترکہ منصوبوں کے فروغ پر بات چیت کی جائے گی۔

سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سے علیحدہ ملاقات بھی کریں گے۔
اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی جانب سے سعودی وفد کے اعزاز میں خصوصی عشائیہ بھی دیا جائے گا، جس میں صوبائی وزراء، اعلیٰ حکام اور کاروباری شخصیات شریک ہوں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ سے سعودی وفد کی ملاقات

قبل ازیں سعودی پاک جوائنٹ بزنس کونسل کے چیئرمین سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں 30 رکنی وفد نے وزیراعلیٰ ہاؤس کراچی کا دورہ کیا، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اپنی کابینہ کے اراکین شرجیل میمن، ڈاکٹر عذرا فضل پیچوہو، سعید غنی، ناصر شاہ، اکرم دھاریجو اور چیف سیکریٹری کے ہمراہ وفد کا پرتپاک خیرمقدم کیا۔

سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید احمد المالکی اور 30 سے زائد ممتاز کاروباری شخصیات و سرمایہ کار بھی وفد میں شامل تھے۔

یہ بھی پڑھیں: وزیراعظم شہباز شریف سے سعودی وفد کی ملاقات، باہمی تعلقات مزید مضبوط کرنے کے عزم کا اعادہ

ترجمان وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق وفد میں توانائی، انفراسٹریکچر، زراعت، لائیواسٹاک، کان کنی، تعمیرات، لاجسٹکس اور سرمایہ کاری کے مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات شامل تھیں، اجلاس میں پاکستان بزنس کونسل، اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) اور سعودی سفارتخانے کے نمائندے بھی شریک ہوئے۔

اس موقع پر وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے تاریخی و برادرانہ تعلقات مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں، سندھ پاکستان کی معاشی ترقی کا گیٹ وے بننے کے لیے تیار ہے، ہم نے زمینوں کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائز کیا ہے اور سرمایہ کاری کے طریقہ کار کو آسان بنایا ہے، سرمایہ کار دوست اور اصلاحات پر مبنی ماحول سندھ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ہماری شراکت داری خطے کے معاشی مستقبل کے لیے نہایت اہم ہے، جبکہ سندھ حکومت سعودی وژن 2030 کے اہداف کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے سندھ کے 12 ترجیحی سرمایہ کاری کے شعبوں پر روشنی ڈالتے ہوئے سعودی کمپنیوں کو زراعت، توانائی، انفراسٹریکچر، لاجسٹکس اور صنعتی منصوبوں میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

مراد علی شاہ نے بتایا کہ حیدرآباد سکھر موٹروے، کراچی کی بلیو اور ییلو لائن ٹرانزٹ سسٹمز، ماہی گیری، لائیو اسٹاک اور اسپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ فریقین نے مختلف شعبوں میں مشترکہ ورکنگ گروپس کے قیام پر اتفاق کیا تاکہ تعاون کے تسلسل کو یقینی بنایا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: سعودی وفد کا کامیاب دورہ پاکستان، وزیراعظم شہباز شریف کابینہ ارکان کے معترف

وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ صوبائی حکومت وفاقی اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی میں کام کر رہی ہے، وفاقی وزارت سرمایہ کاری، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل اور ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان سے قریبی روابط قائم ہیں تاکہ غیر ملکی سرمایہ کاروں کو فزیبلٹی سے لے کر عملی نفاذ تک سہولت فراہم کی جاسکے۔

انہوں نے سعودی قیادت کے وژن اور تعاون پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سندھ و پاکستان کی ترقی و خوشحالی میں سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی دلچسپی قابلِ تحسین ہے۔

تقریب میں عوامی و نجی شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا، سعودی شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی میزبانی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطحی بزنس وفد کے ساتھ آیا ہوں جس سے دونوں ممالک میں نئی شراکت داری قائم ہوگی۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور سعودی عرب کا برادرانہ تعلقات کو معاشی شراکت داری میں تبدیل کرنے کے عزم کا اعادہ

انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ہر شعبے میں ذیلی کمیٹیاں قائم کر کے عمل درآمد کا آغاز کیا جائے گا۔

شہزادہ منصور نے کہا کہ کراچی ایک پورٹ سٹی ہے جہاں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع ہیں، وزیراعلیٰ سندھ نے یقین دہانی کرائی کہ حکومت سندھ نے سرمایہ کاری کے لیے اپنے دروازے کھول دیے ہیں اور سعودی سرمایہ کاروں سے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان پورے خطے میں تجارت کا دروازہ ہے اور سیاحت کے لحاظ سے بھی بے پناہ امکانات رکھتا ہے۔ ہمارے ساتھ تمام شعبوں کے سرمایہ کار آئے ہیں جو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہیں۔ شہزادہ منصور نے کہا کہ پاکستان کی نجکاری پالیسی ہمارے لیے ایک موقع ہے جس سے ہم دونوں ممالک کی معیشت کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے وفد کا گورنر ہاؤس کا دورہ

سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے وفد نے وزیراعلیٰ ہاؤس کے دورے کے بعد گورنرہاؤس کا دورہ بھی کیا، جہاں گورنر کامران ٹیسوری نے وفد کا شاندار استقبال کیا، گورنرنے سعودی شہزادے منصوربن محمد کے ہمراہ پرچم کشائی کی

اس موقع پر گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ سعودی عرب نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے، گورنر ہاؤس تمام سرمایہ کاروں کو خوش آمدید کہتا ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ اپنے تاریخی برادرانہ تعلقات کو ایک مستقبل بین معاشی شراکت داری میں تبدیل کریں گے، جس سے نجی شعبے کے اشتراک، علاقائی استحکام اور تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید فروغ حاصل ہو گا۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس

گزشتہ روز اسلام آباد میں سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں شہزادہ منصور بن محمد آل سعود کی قیادت میں سعودی عرب کا اعلیٰ سطحی تجارتی وفد شریک ہوا۔

یہ اجلاس سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل کے زیرِ اہتمام، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) اور وزارتِ تجارت کے تعاون سے منعقد کیا گیا۔

سعودی وفد میں معدنیات، توانائی، زراعت و لائیو اسٹاک، تعمیرات، بنیادی ڈھانچے، سیاحت اور ریئل اسٹیٹ کے اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی معروف کاروباری شخصیات شامل تھیں۔

پاکستان کے نجی شعبے اور ممتاز کاروباری اداروں کے نمائندگان نے بھی اجلاس میں شرکت کی، جس سے دونوں برادر ممالک کے درمیان تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کے فروغ کے عزم کی جھلک نمایاں ہوئی۔

اجلاس کے دوران پاکستانی وزرا، اعلیٰ سرکاری حکام اور صنعت کاروں نے وفد کو پاکستان کے بدلتے ہوئے سرمایہ کاری ماحول، ایس آئی ایف سی کے ترجیحی شعبوں میں مواقع اور حکومت کی سرمایہ کار دوست اصلاحات کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی۔

مشترکہ بزنس کونسل دونوں ممالک کے مابین نجی شعبے کے اشتراک، مشترکہ منصوبہ بندی اور پائیدار اقتصادی تعاون کے فروغ کے لیے ایک مؤثر ادارتی فریم ورک فراہم کرتی ہے۔

شہزادہ منصور بن محمد آل سعود نے پاکستان کی سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے جاری اصلاحاتی کوششوں کو سراہا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب، وژن 2030 کے اہداف کے مطابق پاکستان کے ساتھ طویل المدتی اقتصادی شراکت داری کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ’سعودی وژن 2030 اور دفاعی معاہدہ پاکستان کے لیے ممکنہ ترقی کی نوید ثابت ہو سکتے ہیں‘

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک اہم علاقائی شراکت دار ہے، جس میں زراعت، معدنیات، توانائی، ٹیکنالوجی، سیاحت اور رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں بے پناہ امکانات موجود ہیں۔

اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) نے وزارتِ تجارت کے اشتراک سے سعودی وفد کے لیے ایک خصوصی بریفنگ سیشن کا اہتمام بھی کیا، جس میں پاکستان کے سرمایہ کاری فریم ورک، ضابطہ جاتی اصلاحات، اور ایس آئی ایف سی کے ترجیحی شعبوں خصوصاً توانائی، معدنیات، زراعت، سیاحت، رئیل اسٹیٹ، اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں موجود مواقع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سعودی پاک مشترکہ بزنس کونسل پاکستان اور سعودی عرب نے کہا کہ پاکستان انہوں نے کہا کہ سرمایہ کاری کے ایس ا ئی ایف سی وفد کی ملاقات بزنس کونسل کے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ سے سعودی وفد یہ بھی پڑھیں مراد علی شاہ دونوں ممالک میں پاکستان پاکستان کے سرمایہ کار پاکستان کی شراکت داری کے فروغ کے مریم نواز جائے گا کے ساتھ کے لیے وفد کا

پڑھیں:

ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع

ایران کے شہید سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین تین بڑے شہروں ایران، قم اور مشہد میں نماز جنازہ کے بعد مشہد میں امام رضا کے مزار میں ہوگی، جس کے لیے حکام کی جانب سے تیاریاں شروع کی گئی ہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران کے دارالحکومت تہران کے سماجی و ثقافتی امور کے نائب محمد امین توکلی زادہ نے بتایا کہ شہید سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ کی تدفین کے لیے تیاریاں جاری ہیں اور صرف دارالحکومت تہران میں ڈیڑھ سےدو کروڑ (15 سے 20 ملین) لوگوں کے لیے تیاریاں جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم دنیا کے انتہائی استکبار مخالف رہنما، امریکا اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے عظیم کمانڈر اور ایران کے عظیم قابل تقلید رہنما کے جنازے میں شریک ہو رہے ہیں۔

امین توکلی زادہ نے کہا کہ مختلف صوبوں کی جانب سے جنازے کی میزبانی کے لیے درخواستیں کی گئی ہیں اور تدفین ممکنہ طور پر ذوالحج کے اختتام اور محرم کے شروع میں ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ تہران میں نماز جنازے کا پروگرام تقریباً 24 گھنٹوں تک جاری رہے گا، ہم شیعہ مسلمانوں کا ایک بہت بڑا اجتماع دیکھیں گے اور یہاں تک کہ تمام مسلمانوں کا ایک عظیم اجتماع ہوگا۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازے میں ہمسایہ ممالک بشمول پاکستان، افغانستان، بھارت، بنگلہ دیش اور کشمیر سے بڑی تعداد میں سوگواروں کی شرکت کا امکان ہے۔

یاد رہے کہ ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکا اور اسرائیل کے حملے میں شہید ہوگئے تھے جب ایران پر اچانک حملہ کیا گیا تھا اور بم باری کے نتیجے میں آیت اللہ علی خامنہ ای کے علاوہ ان کے خاندان کے چند انتہائی قریبی ارکان سمیت پاسداران انقلاب کے اعلیٰ کمانڈرز بھی شہید ہوگئے تھے۔

امریکا اور اسرائیل کے اس حملے میں مناب میں لڑکیوں کے ایک اسکول پربھی بم باری کی گئی تھی، جس کے نتیجے میں اسکول کی بچیوں سمیت 165 افراد شہید ہوگئے تھے، جبکہ ایران نے جواب میں اسرائیل اور خطے کے ممالک میں قائم امریکی اڈوں پر حملے شروع کیے تھے۔

پاکستان کی ثالثی میں اپریل میں امریکا اور ایران نے جنگ بندی پر اتفاق کیا اور دونوں اطراف سے حملے روک دیے گئے تاہم ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول اپنے پاس رکھا جبکہ امریکا نے ناکہ بندی کی جو تاحال جاری ہے لیکن مخصوص جہازوں کو گزرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرمایہ کاری نہیں قرضے ترجیح کب تک
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان میں کاروباری اعتماد کمزور، 80 فیصد اداروں نے سرمایہ کاری فیصلے مؤخر کر دیئے
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  •  کاروباری عدم اعتماد، 80 فیصد اداروں کے سرمایہ کاری فیصلے موخر، اوورسیز چیمبر
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم