پولیس کا گھیراؤ اور ہتھیاروں کی موجودگی، کیا یہ پُر امن احتجاج ہے، معروف صحافی کا ٹی ایل پی کے مارچ پر تبصرہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پاکستان کے معروف اینکر، صحافی اور تجزیہ کار وجاہت کاظمی نے تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے سربراہ سعد حسین رضوی کی ایک ویڈیو اور مبینہ اسلحہ کی تصاویر شیئر کرتے ہوئے جماعت پر شدید تنقید کی ہے اور ریاست سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
Saad Rizvi from container is instructing TLP workers to besiege the police officials and surround them from all sides and to not let them go.
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) October 11, 2025
وجاہت کاظمی کے مطابق سعد رضوی کی ایک ویڈیو سامنے آئی ہے جس میں وہ پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر فائرنگ کے بعد ملنے والے خول دکھا رہے ہیں۔ اس ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے وجاہت کاظمی نے لکھا:
’یہ خول وہیں گرتے ہیں جہاں بندوق سے گولی چلتی ہے، یہ ایک چیختا ہوا ثبوت ہے کہ ٹی ایل پی قانون نافذ کرنے والے اداروں پر گولیاں چلا رہی ہے‘۔
These shells fall where the bullet is fired from guns. This is a screaming evidence that TLP is using guns and firing bullets on the law enforcement agencies. https://t.co/g7b9R4PPfR
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) October 11, 2025
انہوں نے مزید ایک پوسٹ میں تحریکِ لبیک کے کارکنان سے مبینہ طور پر برآمد ہونے والے خنجروں اور چاقوؤں کی تصاویر بھی شیئر کیں اور لکھا کہ
’کس زاویے سے یہ احتجاج پُرامن دکھائی دیتا ہے؟ ٹی ایل پی نے اپنے کارکنان کو خطرناک ہتھیاروں سے مسلح کیا ہے۔ پُرامن احتجاج سب کا حق ہے، لیکن جب ارادے پرتشدد ہوں تو ریاست کو اپنی رِٹ قائم کرنی چاہیے‘۔
وجاہت کاظمی نے ایک اور ویڈیو پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سعد رضوی کنٹینر پر موجود رہتے ہوئے اپنے کارکنان کو پولیس اہلکاروں کو گھیرنے اور ان کا راستہ روکنے کی ہدایات دے رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ ریاست کے خلاف بغاوت اور قانون ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے، لہٰذا حکومت کو ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کرنی چاہیے۔
From which angle does this protest look peaceful? TLP has armed its people with dangerous weapons. Peaceful protest is a right of all but when the intentions are nefarious then the state must do everything to establish its writ. pic.twitter.com/JhKyTi5k2v
— Wajahat Kazmi (@KazmiWajahat) October 11, 2025
وجاہت کاظمی نے مزید لکھا کہ تمام مسلم ممالک، حماس، فلسطینی اتھارٹی اور یہاں تک کہ غزہ کے عوام بھی امن معاہدے کو قبول کر چکے ہیں، تو سوال یہ ہے کہ ٹی ایل پی کس بات کی مخالفت کر رہی ہے اور کیوں؟
انہوں نے کہا کہ اگر احتجاج واقعی پُرامن ہے تو کارکنوں کے پاس غلیلیں، کیل والے ڈنڈے اور چھروں والے ہتھیار کیوں ہیں؟ پُرامن احتجاج کا حق سب کو حاصل ہے، لیکن کسی کو ریاستی اداروں پر حملہ کرنے یا ملک میں بدامنی پھیلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: وجاہت کاظمی نے ٹی ایل پی
پڑھیں:
ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
ماہرین فلکیات نے نظام شمسی سے باہر موجود سیاروں (ایگزوپلینیٹس) میں مقناطیسی میدانوں کے شواہد دریافت کر لیے ہیں جسے اس حوالے سے اب تک کا مضبوط ترین ثبوت قرار دیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کیا پلوٹو کو سیارے کا درجہ دوبارہ مل جائے گا، یہ سیاروں کی فہرست سے نکالا کیوں گیا؟
سائنس دانوں نے چلی اور ہوائی میں نصب جدید دوربینوں کی مدد سے 7 بڑے اور انتہائی گرم گیسوں پر مشتمل سیاروں کا مشاہدہ کیا۔ تحقیق کے دوران ان سیاروں کی فضائی ہواؤں کے غیرمعمولی رویے کا جائزہ لیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ ان پر مقناطیسی میدان موجود ہیں۔
یہ تحقیق جریدے نیچر آسٹرونومی میں شائع ہوئی ہے اور اس کے مطابق مقناطیسی میدان وہ غیر مرئی قوت ہے جو کسی سیارے کے اندر موجود پگھلے ہوئے دھاتی مواد کی حرکت اور اس کی گردش سے پیدا ہوتی ہے۔
تحقیق کی سربراہ اور فرانس کے آبزرویٹری ڈی لا کوٹ ڈی آزور سے وابستہ ماہر فلکیات جولیا سیڈل کے مطابق سائنس دانوں کی توقع تھی کہ زیادہ گرم سیاروں پر ہوائیں زیادہ تیز ہوں گی کیونکہ وہاں توانائی کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن مشاہدات میں اس کے برعکس نتائج سامنے آئے۔
مزید پڑھیے: 45 نئے سیارے دریافت جہاں زندگی کے امکانات موجود ہیں
انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ گرم سیاروں پر ہواؤں کی رفتار توقع سے کم دیکھی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ستاروں سے ملنے والی اضافی توانائی کسی اور طریقے سے ضائع ہو رہی ہے۔
ان کے مطابق اس کی سب سے ممکنہ وجہ مقناطیسی میدان اور فضا میں موجود برقی ذرات کے درمیان تعامل ہے۔
تحقیق میں شامل ساتوں سیارے اپنے ستاروں کے انتہائی قریب گردش کرتے ہیں۔ ان کا ایک حصہ مسلسل ستارے کی طرف جبکہ دوسرا حصہ ہمیشہ تاریکی میں رہتا ہے۔ اس قسم کے سیاروں کو ’ہاٹ جیوپیٹر‘ کہا جاتا ہے کیونکہ ان کا حجم اور ساخت مشتری سے ملتی جلتی ہوتی ہے تاہم ان کا درجہ حرارت بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ان سیاروں پر ہواؤں کی رفتار بعض مقامات پر 25 ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی جو نظامِ شمسی کے سب سے بڑے سیارے مشتری کی ہواؤں سے بھی زیادہ ہے۔
مزید پڑھیں: سب سے چھوٹے سیارے عطارد کا وجود ایک معمہ، جانیے اس پراسرار جہان کی حقیقت؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ نظام شمسی کے بیشتر سیاروں میں مقناطیسی میدان موجود ہیں اس لیے یہ بات حیران کن نہیں کہ دوسرے نظاموں کے سیاروں میں بھی یہ خصوصیت پائی جائے تاہم اب تک اس کے واضح شواہد دستیاب نہیں تھے۔
تحقیق میں شامل جرمنی کے یورپی جنوبی رصدگاہ سے وابستہ ماہر فلکیات بیبیانا پرنوتھ کے مطابق مقناطیسی میدان کسی سیارے کو قابلِ رہائش بنانے کا واحد عنصر نہیں لیکن یہ طویل عرصے تک فضا کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زندگی کے لیے فضا کا موجود ہونا انتہائی ضروری ہے کیونکہ فضا سطحی دباؤ کو برقرار رکھنے، درجہ حرارت کو متوازن رکھنے اور زمین کی طرح مائع پانی کے وجود کو ممکن بناتی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: زمین جیسے سیارے کی تلاش ایک دلچسپ جدوجہد، سائنسدان پرامید
ماہرین کے مطابق اگرچہ اس تحقیق میں شامل تمام سیارے گیسوں پر مشتمل ہیں اور زندگی کے لیے موزوں نہیں سمجھے جاتے تاہم ان میں مقناطیسی میدانوں کی موجودگی کی دریافت مستقبل میں زمین جیسے چٹانی سیاروں کے مطالعے اور قابلِ رہائش دنیاوں کی تلاش میں اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ مقناطیسی میدان رکھنے والے سیارے نظام شمسی ہاٹ جیوپیٹر