خیبرپختونخوا کے نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب کب ہوگا، سلمان اکرم راجا نے تاریخ کا اعلان کردیا
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
پشاور:
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پیر (13 اکتوبر) کو خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب ہوگا۔
خیبر پختونخوا اسمبلی کے جرگہ ہال میں صوبائی وزیر قانون کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے سلمان اکرم راجا نے کہا کہ اجلاس کا شیڈول اسپیکر صوبائی اسمبلی جاری کریں گے، وزیر اعلیٰ گورنر کے ماتحت نہیں کہ وہ وزیر اعلیٰ کے استعفے کی منظوری دیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ علی امین گنڈاپور کا استعفیٰ گورنر کو موصول ہوگیا ہے، ٹوئٹ میں گورنر نے استعفیٰ موصول ہونے کی تصدیق بھی کردی ہے اور گورنر ہاوس نے استعفے کی رسید بھی دی ہے۔
رہنما پی ٹی آئی نے کہا کہ آرٹیکل 130 شق 8 کے تحت وزیراعلیٰ کو صرف استعفیٰ دینا ہے جس کی منظوری اور نوٹیفکیشن کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ آرٹیکل130شق 8میں استعفے کی منظوری کا کوئی تذکرہ نہیں بلکہ جیسے ہی کوئی آئینی عہدیدار استعفیٰ دیتا ہے تو وہ منظور شدہ تصور ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ گورنر کا کوئی ماتحت افسر نہیں کہ گورنر کو استعفے کی منظوری دینی ہوگی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ پیر کو خیبر پختونخوا اسمبلی کا اجلاس ہوگا جس میں نئے قائد ایوان کا انتخاب ہوگا جس کا شیڈول اسپیکر صوبائی اسمبلی جاری کریں گے، سہیل آفریدی پرعزم نوجوان ہیں جو صوبے کو نئے جذبہ کے ساتھ آگے بڑھائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہم دہشت گردوں کے لیےکوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے بلکہ ہم دعا کرتے ہیں کہ اس صوبے میں خون ریزی کا خاتمہ ہوجائے۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ نامزد وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی بانی چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی ہدایات کی روشنی میں نئی کابینہ تشکیل دیں گے جس میں تسلسل بھی ہوگا اور نئے چہرے بھی شامل ہوں گے۔
.ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سلمان اکرم راجا نے کہا کہ استعفے کی کی منظوری
پڑھیں:
عمران خان کی طبیعت ناسازی پر سخت تشویش ہے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
دہیگل (نیوز ڈیسک) عمران خان سے ملاقات نہ کرانے پرخدشات بڑھ رہے ہیں، ہمارے پاس آخری راستہ بھی ہے اس پر غور کیا جا رہا ہے،خیبرپختونخوا کے وزیراعلی محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی طبیعت ناسازی سے متعلق خبروں پر سخت تشویش ہے اور ملاقات کے ذریعے اسے تشویس کو دور نہ کیا گیا تو پوری قوم سڑکوں پر ہو گی۔اڈیالہ روڈ پر فیکٹری ناکے پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ ہم نے تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے ہیں، میں تو دھرنے میں آنا چاہتا تھا لیکن بانی کی بہنوں نے منع کیا۔
انہوں نے کہا کہ بانی کی ہدایت پر حکومت سے مذاکرات ہوئے لیکن ان کے پاس تو کوئی اختیار ہے ہی نہیں، جو 8 فروری کو ہوا وہی 23 نومبر کو بھی ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ ضمنی انتخاب میں 95 فیصد لوگ ووٹ دینے نہیں نکلے، پنجاب کے عوام نے ووٹ نہ دے کر بانی پی ٹی آئی سے اظہار یک جہتی کیا ہے۔سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر ہمارے خدشات بڑھ رہے ہیں، ہمارے پاس آخری راستہ بھی ہے اس پر غور کیا جا رہا ہے۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ میں نے کسی سے بات کرنے کی بات نہیں کی کیونکہ ان کے پاس مینڈیٹ ہی نہیں ہے، صحافیوں کو چاہیئے وہ حکومت سے 5 ہزار 300 ارب کی کرپشن پر بات کرے، یہ پیسہ عام آدمی کے ٹیکس کا پیسہ ہے یہ اربوں روپے کھا گئے اور ڈھکار بھی نہیں ماری۔
انہوں نے کہا کہ بے روزگاری آسمان کو چھو رہی ہے، نوجوان پاکستان چھوڑ کر جا رہے ہیں، این ایف سی میں اپنے صوبے کا مقدمہ لڑوں گا اور اجلاس میں شرکت کروں گا جبکہ حکومت نے چار مرتبہ ایف ایف سی اجلاس ملتوی کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی طبیعت ناسازی بارے جو خبریں یا افواہیں آرہی ہیں، اس سے تشویش بڑھ رہی ہے، چاہتے ہیں بانی سے ملاقات کرکے ان کی صحت کے بارے میں دریافت کریں۔قبل ازیں اڈیالہ پہنچنے پر وزیر اعلی سہیل آفریدی کا فیکٹری ناکے پر پولیس افسران سے مکالمہ ہوا اور انہوں نے پولیس افسران سے مخاطب ہو کر کہا کہ گزشتہ مرتبہ بھی مجھے روکا گیا تب بھی میں نے کہا تھا مجھے تحریری طور پر بتائیں کہ عدالتی احکامات کیوں نہیں مان رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آج تو بتا دیں، یہاں پر زبردستی حالات کو خراب کیا جا رہا ہے، ایک صوبے کے ساتھ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے، کل دوسرے صوبے میں کسی اور کے ساتھ یہ ہو گا تو وہ آپ کو اچھا لگے گا۔سہیل آفریدی نے کہا کہ یہ نفرتیں اور تلخیاں پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہیں، آٹھویں مرتبہ شرافت سے آرہا ہوں، اپ سے بات کرتا ہوں اور آرام سے بیٹھ جاتا ہوں، راولپنڈی بار بار پشاور سے آنا اور اڈیالہ سے واپس چلے جانا یہ کوئی آسان بات تو نہیں ہے۔