موٹرسائیکل سوار سے تلخ کلامی، دو ٹریفک اہلکار معطل
اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT
اسلام آباد میں ایک موٹرسائیکل سوار سے بدسلوکی کے واقعے پر دو ٹریفک اہلکاروں کو معطل کر دیا گیا۔ واقعے کا نوٹس چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) حمزہ ہمایوں نے لیا، جس کے بعد فوری کارروائی عمل میں لائی گئی۔
پولیس کے ترجمان کے مطابق تلخ کلامی اُس وقت شروع ہوئی جب موٹرسائیکل سوار کو روکا گیا اور اس نے خود کو سرکاری اہلکار ظاہر کرتے ہوئے اہلکاروں سے بدتمیزی کی۔ موٹرسائیکل سوار ناکہ توڑ کر ایکسپریس وے کی جانب نکل گیا۔ اس دوران ہیلمٹ اس کے سر کے بجائے گود میں رکھا ہوا تھا۔
سی ٹی او حمزہ ہمایوں نے کہا کہ وردی پہننے والے اہلکاروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ہر صورت میں تحمل اور اخلاق کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ عوام سے بدتمیزی ناقابل برداشت ہے، اور اس واقعے کی مکمل انکوائری تک متعلقہ اہلکار معطل رہیں گے۔
انہوں نے مزید ہدایت جاری کیں کہ تمام ٹریفک افسران شہریوں سے شائستہ اور مہذب رویہ اپنائیں، چاہے صورتحال جیسی بھی ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: موٹرسائیکل سوار
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔