Express News:
2026-07-24@13:06:03 GMT

عوام کی بدحالی اور معاشی ترقی کے دعوے

اشاعت کی تاریخ: 11th, October 2025 GMT

پاکستان کے بارے میں یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اس کی معیشت ترقی کی راہ پر گامزن ہے۔ روزانہ اخبارات میں مختلف عالمی اور ملکی اداروں کے سروے شایع ہوتے ہیں جن میں بتایا جاتا ہے کہ پاکستان خطے کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں سے ایک ہے اورکچھ رپورٹس میں تو اسے بہتری کی رفتارکے لحاظ سے دوسرے نمبر پر قرار دیا گیا ہے۔

حکومت کے نمایندے، وزراء اور ترجمان ان اعداد و شمار کو فخر سے بیان کرتے نہیں تھکتے، لیکن جب یہی خوش کن دعوے ایک عام شہری کی زندگی سے جوڑ کر دیکھے جائیں تو ایک تلخ تضاد سامنے آتا ہے۔ ترقی کے یہ اعداد وشمار عوام کے خالی برتنوں میں کیوں نہیں جھلکتے؟

کیا معیشت کی بہتری کا مطلب صرف سرکاری رپورٹوں اور عالمی مالیاتی اداروں کے اشارے ہیں، یا پھر اس کا عکس عوام کی روزمرہ زندگی میں بھی نظر آنا چاہیے؟حقیقت یہ ہے کہ ملک میں مہنگائی نے ہر سمت سے عوام کو جکڑ رکھا ہے۔

حکومت کے بقول افراطِ زر کی شرح میں معمولی کمی آئی ہے، مگر بازار کی گواہی کچھ اور ہے۔ آٹا، جو بنیادی ضرورت ہے، اس کی قیمت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ دنوں ملک میں آٹے کے بیس کلو تھیلے کی زیادہ سے زیادہ قیمت میں ایک سو روپے اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور یہ قیمت بڑھ کر 2400 روپے تک جا پہنچی۔

لاڑکانہ اور سکھر جیسے شہروں میں اگرچہ 20 روپے کی معمولی کمی دیکھنے میں آئی، مگر راولپنڈی میں یہی تھیلا 53 روپے سے زائد مہنگا ہوا۔ کراچی اور بنوں کے شہری ملک بھر میں سب سے زیادہ مہنگا آٹا خریدنے پر مجبور ہیں۔

یہ اعداد و شمارکسی مخالف سیاسی جماعت کے نہیں بلکہ خود حکومتی اداروں کے جاری کردہ ہیں، جو بتاتے ہیں کہ مہنگائی کا بوجھ اب نچلے طبقے کے لیے ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ آٹے کے ساتھ ساتھ دیگر اشیائے ضروریہ جیسے سبزیاں، دالیں، چاول، چینی اورگھی بھی عوام کی پہنچ سے باہر ہو چکے ہیں۔

مرغی، انڈے اور دودھ کی قیمتیں روزانہ کی بنیاد پر تبدیل ہوتی ہیں اور عام شہری کے لیے اپنے محدود بجٹ میں گھرکا خرچ چلانا ایک کٹھن مرحلہ بن چکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ادویات کی قیمتوں میں بھی کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

جان بچانے والی ادویات، جوکبھی متوسط طبقے کی پہنچ میں تھیں، اب لگژری بن چکی ہیں۔ اسپتالوں میں مفت علاج کی سہولتیں کم ہو رہی ہیں اور نجی اسپتال عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے میں آزاد ہیں۔ ایسے میں عام آدمی کی زندگی مسائل کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ بن گئی ہے۔ مہنگائی کا جن واقعی قابو سے باہر ہو چکا ہے۔

حکمرانوں کے بیانات میں اگرچہ تسلی کے الفاظ ہیں، مگر عملی طور پر صورتِ حال روز بروز بگڑ رہی ہے۔ روپے کی قدر میں کمی، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کا اتار چڑھاؤ اور اندرونی بد انتظامی نے معیشت کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔

حکومت عالمی مالیاتی اداروں کے ساتھ معاہدے کرتی ہے، سبسڈی ختم کرتی ہے اور محصولات بڑھاتی ہے۔ نتیجتاً عوام سے ہر سطح پر مزید قربانیاں مانگی جاتی ہیں۔ ٹیکس دینے والے طبقے پر دباؤ بڑھتا ہے، جب کہ امیر طبقہ بدستور مراعات کا فائدہ اٹھاتا ہے۔

اس طبقاتی تفریق نے پاکستان میں معاشی عدم توازن کو خطرناک حد تک بڑھا دیا ہے، اگر معیشت واقعی ترقی کر رہی ہے تو اس ترقی کا فائدہ کہاں جا رہا ہے؟ یہ سوال ہر شہری کے ذہن میں ابھر رہا ہے۔ ترقی کے دعوے اُس وقت حقیقی معنوں میں معتبر ہوتے ہیں جب ان کے اثرات عام آدمی تک پہنچیں۔

لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ سرکاری اعداد وشمار خوش کن ہیں مگر عوام کے اعداد و شمار خوفناک غربت کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے، بیروزگاری بڑھ رہی ہے، متوسط طبقہ سکڑ کر نچلے طبقے میں شامل ہو رہا ہے۔

دوسری طرف اشرافیہ کے محلات اور بینک اکاؤنٹس پھل پھول رہے ہیں۔ یہ منظر نامہ کسی بھی ترقی یافتہ معیشت کا نہیں بلکہ غیر متوازن نظام کا عکاس ہے۔ اقتصادی ماہرین کے مطابق پاکستان میں مہنگائی کی بنیادی وجوہات صرف بیرونی قرضے یا درآمدی مہنگائی نہیں بلکہ داخلی بدانتظامی، ذخیرہ اندوزی، منافع خوری اور غیر مؤثر پالیسی سازی بھی ہیں۔

جب اشیائے خور و نوش کا ذخیرہ چند ہاتھوں میں مرتکز ہو جائے تو مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور قیمتیں بڑھا کر عوام سے ناجائز منافع کمایا جاتا ہے۔ اس عمل میں کئی بااثر افراد شامل ہوتے ہیں جنھیں سیاسی سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔

نتیجتاً عام صارف کے لیے بازار میں اشیاء نہ صرف مہنگی ہو جاتی ہیں بلکہ معیار میں بھی کمی آ جاتی ہے۔ حکومت اگر واقعی معیشت کو بہتر بنانا چاہتی ہے تو سب سے پہلے اسے عوامی معیشت کو مستحکم بنانا ہوگا۔ اعداد وشمار کی ترقی سے پیٹ نہیں بھرتے۔

زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایک مزدور، ایک استاد، ایک سرکاری ملازم یا ایک چھوٹے دکاندار کی قوتِ خرید کم ہو چکی ہے۔ ان کی آمدنی وہی ہے لیکن اخراجات کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ بجلی کے بل، گیس کے نرخ، ٹرانسپورٹ کے کرائے، تعلیمی اخراجات اور علاج کے بل سب کچھ مہنگا ہو چکا ہے۔

ایسے میں ترقی کا نعرہ عوام کے لیے طنز بن جاتا ہے۔ پاکستان کی معیشت کو پائیدار ترقی کی طرف لے جانے کے لیے چند بنیادی اقدامات ناگزیر ہیں۔ سب سے پہلے، حکومت کو مہنگائی کے اصل اسباب کا تعین کر کے مؤثر حکمتِ عملی اپنانا ہوگی۔ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، چاہے وہ کتنے ہی بااثرکیوں نہ ہوں۔

دوسرا، زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے کسانوں کو سستی کھاد، معیاری بیج اور بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ خوراک کی قلت نہ پیدا ہو۔ تیسرا، درآمدات پر انحصار کم کر کے مقامی صنعتوں کو فروغ دیا جائے تاکہ روزگار کے مواقع بڑھیں اور زرِ مبادلہ کا ضیاع کم ہو۔

کم آمدنی والے طبقے کے لیے سبسڈی اور ریلیف پیکیج فوری طور پر بحال کیے جائیں۔ زرعی شعبے کو ترجیحی بنیادوں پر سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ خوراک کی قیمتیں قابو میں رہیں۔

عوامی فلاحی منصوبوں میں شفافیت لائی جائے اور ترقی کے ثمرات نچلے طبقے تک پہنچائے جائیں۔ یہی وہ اقدامات ہیں جو پاکستان کی معیشت کو محض اعداد وشمار کی ترقی سے نکال کر حقیقی خوشحالی کی طرف لے جا سکتے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اداروں کے معیشت کو ہیں بلکہ ترقی کے عوام کی رہا ہے کے لیے چکا ہے

پڑھیں:

معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا

کراچی: ملک میں معاشی سرگرمیوں میں بہتری کے ساتھ کے الیکٹرک صنعتی صارفین کی جانب سے بجلی کے استعمال نے نئی بلند ترین سطح حاصل کر لی۔ مالی سال 2026 کے دوران کے الیکٹرک کے صنعتی فیڈرز پر بجلی کی مجموعی کھپت 6 ارب 8 کروڑ یونٹس (6.08 ارب یونٹس) ریکارڈ کی گئی، جو ادارے کی تاریخ میں کسی بھی مالی سال کے دوران سب سے زیادہ ہے۔

کے الیکٹرک کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق صنعتی بجلی کی طلب میں یہ نمایاں اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا جب پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو 3.7 فیصد رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ کراچی کی صنعتوں کو مسلسل، قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی نے صنعتی پیداوار اور معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

کے الیکٹرک کے چیف ایگزیکٹو آفیسر سید محمد طہٰ نے کہا کہ صنعتی بجلی کے استعمال میں ریکارڈ اضافہ حکومت پاکستان، اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (SIFC) اور کراچی کی صنعتی برادری کی مشترکہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ ان کے مطابق سرمایہ کاری کے بہتر ماحول، صنعتی سرگرمیوں میں تیزی اور کاروباری اعتماد میں اضافے نے اس کامیابی کو ممکن بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کراچی ملک کی معاشی شہ رگ ہے اور کے الیکٹرک 2013 سے صنعتی فیڈرز کو لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ رکھے ہوئے ہے تاکہ صنعتوں کی پیداوار اور برآمدات متاثر نہ ہوں۔

بی تھری کیٹیگری میں سب سے زیادہ بجلی استعمال

اعلامیے کے مطابق سب سے زیادہ بجلی کا استعمال بی تھری (B3) کیٹیگری میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 501 سے 5 ہزار کلوواٹ تک بجلی استعمال کرنے والی صنعتیں شامل ہیں۔ اس زمرے میں سیمنٹ، اسٹیل، ٹیکسٹائل، کیمیکل اور دیگر بڑے صنعتی شعبے شامل ہیں۔

ماہانہ بنیاد پر جون 2026 میں صنعتی بجلی کی کھپت سب سے زیادہ رہی، جبکہ اپریل 2026 دوسرے نمبر پر رہا۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں 20 فیصد سے زائد اضافہ

اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2025 میں صنعتی صارفین نے 5.04 ارب یونٹس بجلی استعمال کی تھی، جبکہ مالی سال 2026 میں یہ مقدار بڑھ کر 6.08 ارب یونٹس تک پہنچ گئی، جو 20 فیصد سے زائد سالانہ اضافہ ظاہر کرتی ہے۔

اس سے قبل مالی سال 2022 میں صنعتی بجلی کی کھپت 5.84 ارب یونٹس ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم رواں مالی سال میں یہ ریکارڈ بھی ٹوٹ گیا۔

349 نئے صنعتی کنکشنز فراہم

کے الیکٹرک کے مطابق مالی سال 2026 کے دوران 349 نئے صنعتی کنکشنز جاری کیے گئے، جبکہ 273 صنعتی صارفین نے اپنے بجلی کے لوڈ میں اضافہ کیا، جس سے مجموعی طور پر 168 میگاواٹ اضافی طلب قومی گرڈ میں شامل ہوئی۔

اعلامیے میں کہا گیا کہ حکومت کی جانب سے صنعتوں کو کیپٹو پاور پلانٹس سے قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی، معاشی بحالی اور صنعتی پیداوار میں اضافے نے بھی بجلی کی طلب بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

کمپنی کا مزید کہنا ہے کہ صنعتی فیڈرز کی ریکوری کی شرح تمام صارفین کے مختلف زمروں میں سب سے بہتر رہی، جو بروقت بلوں کی ادائیگی اور لوڈشیڈنگ سے استثنیٰ کے درمیان مضبوط تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔

کے الیکٹرک نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کراچی کی صنعتوں اور کاروباری سرگرمیوں کو قابل اعتماد اور بلا تعطل بجلی کی فراہمی آئندہ بھی اس کی اولین ترجیح رہے گی تاکہ ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا کردار جاری رکھا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے: بلاول بھٹو زرداری
  • دہشتگردی میں بھارت کا کردار واضح، بلوچستان کے عوام کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،وزیراعظم شہباز شریف
  • پاکستان میں دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا کردار واضح ہے، وزیراعظم
  • ایران کا بحرین میں ایمیزون کے ڈیٹا سینٹر کو نشانہ بنانے کا بڑا دعویٰ
  •  بلوچستان کے عوام کی قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا:شہباز شریف
  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • پاکستان کے لیے بڑی معاشی خوشخبری، عالمی ادارے نے کریڈٹ ریٹنگ 7 سال کی بلند ترین سطح پر قرار دیدی
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی