پی ٹی آئی : بیرون ملک گئے اراکین اسمبلی پاکستان پہنچ گئے
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
صوبے میں حکومت کی تبدیلی کیلئے جنید اکبر، اسد قیصر اور بابر سلیم سواتی کو ٹاسک مل گیا
بانی عمران خان نے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کو متحد رہنے کے احکامات جاری کردیے
خیبرپختونخوا کے نئے وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے خصوصی ٹیم کو ٹاسک دے دیا ہے اور بیرون ملک گئے ہوئے اراکین صوبائی اسمبلی کو فوری طور پر طلب کر لیا گیا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ بیرون ملک گئے ہوئے پی ٹی آئی اراکین صوبائی اسمبلی کو بھی فوری طور پر واپس بلا لیا گیا ہے، بیرون ملک موجود اراکین صوبائی اسمبلی میں عارف احمد زئی، نذیر عباسی، تاج محمد ترند پاکستان پہنچ گئے ہیں، آصف محسود اور شیر علی آفریدی بھی بھی وزیر اعلیٰ کے انتخاب کے لیے بیرون ملک سے واپس آگئے ہیں۔ پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں کو بھی پشاور طلب کر لیا گیا ہے اور بانی پی ٹی آئی کی جانب سے مرکزی اور صوبائی رہنماؤں کو متحد رہنے کے احکامات جاری کر دیے ہیں اور صوبے میں حکومت کی تبدیلی کے لیے جنید اکبر، اسد قیصر اور بابر سلیم سواتی کو ٹاسک دے دیا گیا ہے۔پی ٹی آئی پارلیمانی پارٹی کے ذرائع کے مطابق لیگل ٹیم سے وزیراعلیٰ کے انتخاب کے لیے مشاورت مکمل کر لی گئی ہے اور آئندہ 72 گھنٹوں میں وزیر اعلی کا انتخاب ہو جائے گا اور حالیہ صورت حال پر اپوزیشن کی حکمت عملی کا بھی جائزہ لیا گیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: پی ٹی ا ئی بیرون ملک لیا گیا گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
برطانوی ایوانِ بالا کے رکن لارڈ قربان حسین نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حالات نسل کُشی کی طرف جارہے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لارڈ قربان حسین نے برطانوی پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی انسانی حقوق کی صورتحال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ ان کے مطابق وہاں کے حالات نسل کشی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں۔
انہوں نے جینوسائڈ واچ کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے برطانوی حکومت سے پوچھا کہ وہ ان انتباہات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتی ہے اور ممکنہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی روک تھام کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
جواب میں برطانوی حکومت کی جانب سے پارلیمانی انڈر سیکرٹری لارڈ کولنز نے کہا کہ برطانیہ انسانی حقوق سے متعلق اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے اور بھارتی پولیس یا سکیورٹی فورسز کے خلاف مبینہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات کی مکمل، شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی حمایت کرتا ہے۔