بالی ووڈ کی مشہور اداکارہ اور فلم ساز پوجا بھٹ نے اپنے والد، ہدایتکار مہیش بھٹ کے بارے میں ایک دلچسپ واقعہ شیئر کرتے ہوئے ان کے ماضی سے متعلق انکشاف کیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق حال ہی میں پوجا بھٹ نے اپنے پوڈکاسٹ میں والد مہیش بھٹ کو مدعو کیا، جہاں باپ بیٹی نے انڈسٹری میں اپنے کیرئیر، گھریلو رشتوں اور زندگی کے ذاتی تجربات پر گفتگو کی۔

گفتگو کے دوران پوجا بھٹ نے اپنے بچپن کا ایک واقعہ شیئر کیا جب ان کے والد شراب کے نشے میں گھر لوٹے تھے۔ پوجا کے مطابق اُس وقت ان کی والدہ کرن بھٹ نے مہیش بھٹ کو بالکونی میں بند کر دیا تھا تاکہ وہ نشے کی حالت میں گھر میں داخل نہ ہو سکیں۔

پوجا نے بتایا کہ اُن کی والدہ نے انہیں دروازہ کھولنے سے روکا اور کہا کہ یہ رویہ درست نہیں کیونکہ وہ اکثر نشے کی حالت میں گھر آتے ہیں۔

پوجا نے مزید بتایا کہ بعد میں والد نے ان کے سرہانے بیٹھ کر ایک عورت سونی کے بارے میں بات کی تھی اور کہا تھا کہ وہ اس سے شادی کرنے جا رہے ہیں۔ پوجا نے کہا کہ انہوں نے والد کی یہ بات ایک خاص اعتماد کے طور پر لی کیونکہ والدہ سے پہلے انہیں اس بارے میں بتایا۔

یاد رہے کہ مہیش بھٹ کی پہلی اہلیہ کرن بھٹ سے دو بچے، پوجا بھٹ اور راہول بھٹ ہیں، جبکہ دوسری شادی اداکارہ سونی رازدان سے ہوئی جن سے ان کی بیٹیاں عالیہ بھٹ اور شاہین بھٹ ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مہیش بھٹ پوجا بھٹ بھٹ نے

پڑھیں:

لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق

لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔

(جاری ہے)

پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • بحرین میں اہل تشیع سے امتیازی سلوک
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق