حرم الشیخ میں منعقد ہونے والی غزہ امن کانفرنس کے موقع پر وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی امریکی ہم منصب مارکو روبیو اور ترک وزیرِ خارجہ حاکان فدان سے ملاقات سے ملاقات ہوئی۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرِ خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے مصر میں منعقدہ غزہ امن کانفرنس کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور ترک وزیرِ خارجہ حاکان فدان سے علیحدہ ملاقاتیں کیں۔

ملاقاتوں کے دوران نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ نے غزہ میں جنگ بندی کے قیام اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے فروغ کے لیے امریکا اور ترکیہ کے تعمیری کردار کو سراہا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو غزہ اور فلسطین کے عوام کے لیے انسانی بنیادوں پر امداد اور مسلسل سفارتی کوششوں کو جاری رکھنا چاہیے،  خطے میں دیرپا امن ممکن بنایا جا سکے۔

ملاقات میں  پاکستان کے اس دوٹوک مؤقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق کی فراہمی اور ایک آزاد و خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلۂ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل ہے۔

 ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے امریکی اور ترک وزرائے خارجہ سے علیحدہ ملاقاتوں میں غزہ میں جنگ بندی کے قیام اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے لیے دونوں ممالک کے تعمیری کردار کو سراہا۔

اس موقع پر اسحاق ڈار نے پاکستان کے دوٹوک اور اصولی مؤقف کا اعادہ کیا کہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی فراہمی اور ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی مسئلۂ فلسطین کا منصفانہ اور پائیدار حل ہے۔

اس دوران، عبداللہ دوم اور اسحاق ڈار کے درمیان ایک غیر رسمی اور خوشگوار ملاقات بھی ہوئی۔ ملاقات میں  وزیرِ خارجہ نے اردن کے تعمیری اور متوازن کردار کو سراہا، جو فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ، خطے میں مکالمے کے فروغ اور امن کے قیام میں کلیدی اہمیت رکھتا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے صمود فلوٹیلا کے زیرِ حراست افراد کی محفوظ وطن واپسی کے لیے اردن کی سفارتی کوششوں کی بھی تعریف کی۔

نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات کے دوران پاکستان اور عوامِ پاکستان کی فلسطینی کاز کے ساتھ غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کیا۔

انہوں نے غزہ میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ انسانی امداد کی فراہمی، تعمیرِ نو، اور ایک مؤثر امن عمل کی بحالی ہی خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ پاکستان دو ریاستی حل کی بنیاد پر القدس الشریف کو دارالحکومت بنا کر آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حق میں اپنے دیرینہ مؤقف پر قائم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کے قیام کے لیے

پڑھیں:

اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید

راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان شریعت کونسل کے امیر مولانا زاہدالراشدی اور انصار اُلامہ پاکستان کے امیر مولانا فضل الرحمن خلیل نے سعودی عرب کے ممتاز علماء کی جانب سے اتحاد مذاہب کے بارے میں جاری کردہ فتوے کی بھرپور تائید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد ابراھیمی معاہدہ درحقیقت اسرائیل کو خطے میں مستقل حیثیت دلانے اور ’’گریٹر اسرائیل‘‘ کے توسیع پسندانہ منصوبے کی راہ ہموار کرنے کی ایک خطرناک کوشش ہے، جسے عالم اسلام کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے اسلام آباد میں باہمی ملاقات کے دوران کیا۔ اس موقع پر پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل مولانا عبدالرؤف محمدی، سیکرٹری اطلاعات پروفیسر حافظ محمد منیر، مولانا جمیل الرحمن فاروقی، حاجی صلاح الدین فاروقی، مفتی محمد نعمان، مولانا محمد معاویہ، سردار زاہد منان اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔ راہنماؤں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے مفادات کے تحفظ اور توسیع کے لیے مسلسل سہولت کاری کی جا رہی ہے، جس کا مقصد فلسطینی عوام کے جائز حقوق کو نظرانداز کرتے ہوئے صہیونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم کو عملی شکل دینا ہے۔
 
انہوں نے کہا کہ ’’ابراہیمی معاہدہ‘‘ بین المذاہب ہم آہنگی کا عنوان استعمال کرتے ہوئے مسلم ممالک کو اسرائیل کیساتھ تعلقات استوار کرنے پر آمادہ کرنے کی کوشش ہے، حالانکہ اس کے پس پردہ سیاسی اہداف اور مقاصد کسی سے پوشیدہ نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اسرائیل نے گزشتہ کئی دہائیوں سے فلسطینی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے، لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا، بیت المقدس کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوششیں کی گئیں اور غزہ سمیت فلسطینی علاقوں میں انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے حالات میں اسرائیل کو تسلیم کرنے یا اس کیساتھ معمول کے تعلقات قائم کرنے کا کوئی جواز موجود نہیں۔ مولانا زاہد الراشدی اور مولانا فضل الرحمن خلیل نے کہا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسبت کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا اور اس کے نام پر مختلف مذاہب کو ایک ایسے نظریاتی فریم ورک میں جمع کرنے کی کوشش کرنا جس سے اسلامی عقائد و تعلیمات متاثر ہوں، قابل قبول نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کی تعلیمات اور امت مسلمہ کے اجماعی عقائد کی روشنی میں اسلام اپنی مستقل شناخت اور نظریاتی اساس رکھتا ہے جسے کسی مصنوعی عنوان کے تحت خلط ملط نہیں کیا جا سکتا۔
 
اجلاس کے شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان اور سعودی عرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم اور گریٹر اسرائیل کے منصوبے کے خلاف مشترکہ مؤقف اختیار کرنا چاہیے اور ایسی ہر کوشش کو سختی سے مسترد کر دینا چاہیے جو فلسطینی کاز کو نقصان پہنچانے یا صہیونی ریاست کو مزید تقویت دینے کا باعث بنے۔ انہوں نے عالم اسلام کے حکمرانوں، دینی قیادت اور عوام سے اپیل کی کہ وہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی، دینی اور اخلاقی موقف پر ثابت قدم رہیں اور بیت المقدس اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے متحدہ کردار ادا کریں۔ اس موقع پر شرکاء نے فلسطینی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے عوام ہمیشہ کی طرح فلسطینی بھائیوں کے حق خود ارادیت، آزادی اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی جدوجہد کی حمایت جاری رکھیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • پاکستان اور کویت جاری سفارتی کوششوں کے مثبت نتائج کیلئے پرامید
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • مصر کے وزیرِ خارجہ کا اسحاق ڈار کو ٹیلیفون، خطے کی تازہ ترین صورتحال پر تبادلہ خیال
  • وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ