ہم افغانستان کے ساتھ معاملات طے کیے بغیر نہیں رہ سکتے: سلمان اکرم راجا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پشاور: پاکستان تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ مسائل حل کیے بغیر ہم مستقل امن قائم نہیں رکھ سکتے اور جب تک باہمی بات چیت نہیں ہوگی امن ممکن نہیں۔
پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اپوزیشن امید کرتی تھی کہ ہماری پارٹی میں تقسیم پیدا کر دے گی، مگر یہ کوشش ناکام ثابت ہوئی؛ اپوزیشن غیر سنجیدہ بیانات دے رہی ہے اور جمہوری عمل آگے بڑھ چکا ہے۔
سلمان اکرم نے حلف روکنے کو غیر جواز قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج نہ بھی ہوا تو کل ہو جائے گا، سہیل آفریدی پہلے وزیر رہے ہیں اور ان کے اردگرد تجربہ کار ٹیم موجود ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بلاول بھٹو بھی ماضی میں اسی نوعیت کے تجربات میں رہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ افغانستان کی طرف سے حملہ افسوسناک ہے، تاہم ہم افغانستان کے ساتھ معاملات طے کیے بغیر رہ نہیں سکتے — سرحد بند کرنا بھی ممکن نہیں کیونکہ معیشت اور روزگار جڑے ہوئے ہیں۔
آخر میں ان کا کہنا تھا کہ ایسی صورتحال پیدا کرنی چاہیے کہ دونوں ممالک — افغانستان اور پاکستان — میں دہشت گردی نہ ہو، اور یہ صرف باہمی گفتوشنید کے ذریعے ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا
سیالکوٹ(نیوز ڈیسک) ٹک ٹاکر حکیم بابر سے متعلق مبینہ زہر خوری کیس میں نامزد ملزم صفدر کے بھائی ملک سلیم کھوکھر کا ویڈیو بیان منظر عام پر آگیا جس میں انہوں نے تمام الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔
ویڈیو بیان میں ملک سلیم کھوکھر نے دعویٰ کیا کہ محمد افضل عرف حکیم بابر نے سوشل میڈیا پر ویوز حاصل کرنے کیلئے خود کو زہر خورانی کا شکار ظاہر کرنے کا ڈرامہ رچایا، اسپتال کی رپورٹ میں بھی یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکیم بابر کو کسی قسم کا زہر نہیں دیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ حکیم بابر نشے کے عادی ہیں اور کسی مبینہ اوور ڈوز کے واقعے کو ان کے خاندان پر ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ان کے خاندان کا حکیم بابر کے ساتھ کسی قسم کا کوئی ذاتی تنازع یا دشمنی موجود نہیں۔
ملک سلیم کھوکھر انکشاف کیا کہ حکیم بابر کا اصل نام افضل ہے اور وہ کوئی مستند حکیم نہیں بلکہ تعلیمی طور پر بھی میٹرک پاس نہیں ہیں، جھوٹے مقدمے کی وجہ سے میرا خاندان شدید ذہنی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ رات کے وقت پولیس کی جانب سے دو بار گھر پر چھاپے مارے گئے، کو ہراساں مت کیا جائے۔
انہوں نے ڈی پی او سیالکوٹ اور آئی جی پنجاب سے اپیل کی کہ کیس کی شفاف اور میرٹ پر انکوائری کی جائے اور حقائق کی روشنی میں فیصلہ کیا جائے۔
مزید پڑھیں۔مشرق وسطیٰ کی صورتحال، خام تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ