اسٹیل ملزکے 411 ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلیے 1 ارب 3 کروڑ روپے جاری
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (مانیٹر نگ ڈ یسک )حکومت نے پاکستان اسٹیل ملز (پی ایس ایم) کے 411 ریٹائرڈ ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کیلئے 1.366 ارب روپے فراہم کر دیے۔”ویلتھ پاکستان’’ کو دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق یہ رقم گریجویٹی، پروویڈنٹ فنڈ اور لیو انکیشمنٹ کی مد میں ادا کی جائے گی۔واجبات کی تقسیم اکتوبر کے دوران مکمل کئے جانے کی توقع ہے جس سے ریٹائرڈ ملازمین کو طویل عرصے سے منتظر مالی ریلیف ملے گا۔دستاویزات کے مطابق پاکستان اسٹیل ملز میں اب بھی 899 ملازمین موجود ہیں جن کی تنخواہیں حکومتی قرضوں سے ادا کی جا رہی ہیں تاکہ ادارے کے بنیادی امور جاری رہیں جبکہ اس کی تنظیم نو کا عمل بھی ساتھ ساتھ جاری ہے۔اسی دوران اس قیمتی قومی ادارے کو محفوظ بنانے کے لئے انتظامیہ نے اینٹی تھیفٹ مہم میں تیزی لاتے ہوئے تانبے اور دیگر مواد کی چوری کے سلسلے میں 26 ایف آئی آرز درج کرائیں اور متعدد گرفتاریاں عمل میں لائیں۔برآمد شدہ مواد نیلام کر کے حاصل شدہ آمدن ادارے کے مالی نقصانات کو کم کرنے میں استعمال کی جائے گی۔اس کے علاوہ پاکستان اسٹیل ملز نے 20 ایکڑ قبضہ شدہ اراضی واگزار کرا لی ہے جبکہ مقامی انتظامیہ کے تعاون سے مزید 38 ایکڑ اراضی واگزار کرانے کا منصوبہ ہے۔ان اراضیوں کو حکومتی منصوبے کے تحت دوبارہ صنعتی مقاصد کے لئے استعمال میں لایا جائے گا۔ اگرچہ اسٹیل مل کی پیداوار 2015ء سے معطل ہے تاہم حکومت کی جانب سے مالی صفائی، اراضی کی بازیابی اور ملازمین کے واجبات کی ادائیگی پر توجہ مستقبل میں صنعتی بحالی کی بنیاد کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔موجودہ اصلاحاتی منصوبہ واجبات کی ادائیگی، قبضہ شدہ زمینوں کی بازیابی اور احتسابی نظام کے استحکام پر مرکوز ہے، کراچی میں 18,600 ایکڑ پر پھیلا ہوا یہ صنعتی ادارہ “گلشن حدید ہاؤسنگ پروجیکٹ’’ بھی شامل کرتا ہے جو 1986ء سے مختلف مراحل میں ملازمین کے لیے تعمیر کیا گیا۔
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: واجبات کی ادائیگی ملازمین کے
پڑھیں:
ملک میں صنعتی بجلی کی طلب میں 25 فیصد نمایاں اضافہ ریکارڈ
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: ملک میں صنعتی سرگرمیوں میں بہتری کے باعث بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
حکام نے نیپرا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر میں صنعتی بجلی کی کھپت 25 فیصد بڑھ گئی ہے، جو ایک بڑا اضافہ تصور کیا جا رہا ہے۔
صنعتی بجلی کی کھپت میں اضافے کے بعد سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے نیپرا کو درخواست دی ہے کہ اکتوبر کے ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں 65 پیسے فی یونٹ کمی کی جائے۔
سی پی پی اے حکام کے مطابق بجلی کی بڑھتی ہوئی طلب اور بہتر پیداواری صورتِ حال کے باعث صارفین کے لیے ریلیف ممکن ہے، جس پر فیصلہ نیپرا جلد کرے گا۔