ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف امریکا کے 2700 سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
امریکا کی تمام 50 ریاستوں میں ہزاروں افراد نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف احتجاج کیا۔ ان مظاہروں کو ’نو کنگز‘ کے نام سے منظم کیا گیا، جنہیں ریپبلکن رہنماؤں نے طنزیہ طور پر ’ہیٹ امریکا ریلیاں‘ قرار دیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق ملک بھر میں 2700 سے زائد مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں لاکھوں افراد کی شرکت ہوئی۔ نیویارک، واشنگٹن، شکاگو اور لاس اینجلس سمیت تمام بڑے شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد میڈیا پر دباؤ، سیاسی مخالفین کے خلاف مقدمات اور امیگریشن کے سخت اقدامات بڑھ گئے ہیں۔ کئی شہروں میں نیشنل گارڈ کے دستے تعینات ہیں۔
احتجاج کے دوران شرکا نے ’ڈونلڈ ٹرمپ ہیز ٹو گو‘ جیسے نعرے لگائے اور جمہوریت کے تحفظ کا عزم ظاہر کیا۔ کچھ مظاہروں میں ٹرمپ کے غبارے نما پتلے بھی فضا میں اُڑائے گئے۔
امریکی حکومت تین ہفتوں سے جزوی طور پر بند (شٹ ڈاؤن) ہے، جس کے باعث ہزاروں سرکاری ملازمین برطرف ہوچکے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے ان مظاہروں پر محتاط ردِعمل دیا، مگر ریپبلکن رہنماؤں نے مظاہرین کو ’’مارکسسٹ‘‘، ’’اینٹیفا‘‘ اور ’’ڈیموکریٹک دہشت گرد ونگ‘‘ قرار دیا۔
دوسری جانب ڈیموکریٹ رہنماؤں، بشمول سینیٹر برنی سینڈرز اور چَک شومر، نے مظاہروں کی حمایت کی اور شہریوں کو آزادیِ اظہار کا حق استعمال کرنے پر سراہا۔
’نو کنگز‘ تحریک کو 300 سے زائد تنظیموں کی حمایت حاصل ہے، جن کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد جمہوری اقدار اور شہری آزادیوں کا تحفظ ہے۔
غیر ملکی شہروں لندن، میڈرڈ اور مالمو میں بھی یکجہتی کے طور پر مظاہرے کیے گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
امریکا نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد روکنے میں ناکامی کے الزام پر پاکستان سمیت 60 معیشتوں پر نئے درآمدی محصولات (ٹیرف) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ مجوزہ اقدام کے تحت پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف لگایا جا سکتا ہے، تاہم حتمی فیصلے سے قبل عوامی مشاورت اور سماعتوں کا عمل مکمل کیا جائے گا۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق مجوزہ ٹیرف کی شرح 10 سے 12.5 فیصد کے درمیان ہوگی۔ حتمی فیصلہ کرنے سے قبل اس تجویز پر عوامی رائے طلب کی جائے گی اور متعلقہ فریقین کو اپنے مؤقف پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ انتظامیہ قانونی رکاوٹوں کے بعد اپنی تجارتی اور ٹیرف پالیسی کو ازسرِ نو ترتیب دینے کی کوشش کر رہی ہے۔
چند ماہ قبل واشنگٹن نے اپنے بڑے تجارتی شراکت داروں، جن میں چین، یورپی یونین اور جاپان شامل ہیں، کے خلاف تحقیقات شروع کی تھیں۔ ان تحقیقات کا مقصد یہ جاننا تھا کہ آیا یہ ممالک جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کر رہے ہیں یا نہیں، اور اس کا امریکی تجارت پر کیا اثر پڑ رہا ہے۔
منگل کو جاری بیان میں امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے کہا کہ 54 معیشتیں ایسی پائی گئیں جنہوں نے جبری مشقت سے تیار ہونے والی مصنوعات کی درآمد پر پابندی مؤثر انداز میں نافذ نہیں کی۔
اس فہرست میں چین، ویتنام، تائیوان، برطانیہ اور بھارت سمیت متعدد ممالک شامل ہیں۔
مزید چھ معیشتوں کینیڈا، ایکواڈور، یورپی یونین، انڈونیشیا، میکسیکو اور پاکستان کے بارے میں کہا گیا کہ اگرچہ ان کے پاس متعلقہ قوانین موجود ہیں، تاہم وہ ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے میں ناکام رہی ہیں۔
امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے ایک بیان میں کہا کہ امریکا کے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبری مشقت سے تیار شدہ مصنوعات کی درآمد کا مسئلہ حل نہ کرنا ناقابلِ قبول ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال کے باعث امریکی کارکنوں کو عالمی منڈی میں غیر مساوی مسابقت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اب اس فرق کو مزید برداشت نہیں کرے گا اور تمام تجارتی شراکت داروں کو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنا ہوں گے کہ عالمی تجارت جبری مشقت کے فروغ کا ذریعہ نہ بنے۔
پاکستان پر 10 فیصد اضافی ٹیرف کی تجویزامریکی تجارتی نمائندے کے دفتر کے مطابق پاکستان، کینیڈا، یورپی یونین، میکسیکو، انڈونیشیا، ارجنٹائن، بنگلہ دیش، کمبوڈیا، ایل سلواڈور، گواٹے مالا، ملائیشیا، تائیوان اور برطانیہ سمیت بعض دیگر ممالک سے درآمد ہونے والی مصنوعات پر جبری مشقت سے متعلق تحقیقات کے تناظر میں 10 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسری جانب باقی 45 ممالک پر 12.5 فیصد اضافی محصولات عائد کرنے کا منصوبہ ہے۔
بعض اشیا مستثنیٰ ہوں گیمجوزہ ٹیرف کے اطلاق سے بعض اشیا کو استثنیٰ حاصل ہوگا، جن میں گائے کا گوشت، کافی، بعض پھل اور خشک میوہ جات شامل ہیں۔
اسی طرح کینیڈا اور میکسیکو سے شمالی امریکا کے آزاد تجارتی معاہدے کے تحت درآمد ہونے والی مصنوعات بھی ان محصولات سے مستثنیٰ رہیں گی۔ کچھ ٹیکسٹائل اور ملبوسات کو بھی رعایت دی جائے گی۔
امریکی تجارتی نمائندے کے دفتر نے عوام، کاروباری اداروں اور دیگر متعلقہ فریقین کو 6 جولائی تک تحریری تجاویز اور اعتراضات جمع کرانے کی دعوت دی ہے۔ اس کے بعد باقاعدہ سماعتوں کا انعقاد کیا جائے گا، جن کی روشنی میں حتمی فیصلہ کیا جائے گا۔
یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب 20 فروری کو ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے عائد کردہ عارضی 10 فیصد ٹیرف کی مدت 24 جولائی کو ختم ہونے والی ہے۔
یاد رہے کہ 20 فروری کو ہی امریکی سپریم کورٹ نے بین الاقوامی ہنگامی اقتصادی اختیارات کے قانون کے تحت سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نافذ کیے گئے بعض ٹیرف اقدامات کو کالعدم قرار دیا تھا، جس کے بعد انتظامیہ نئے قانونی راستوں کے ذریعے اپنی تجارتی پالیسی کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں