بھارت میں ہندو انتہا پسند تنظیمآر ایس ایس اور حکمران جماعت بی جے پی کے گٹھ جوڑ نے ملک کے سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ انتہاپسند نظریات کے خلاف آواز اٹھانا اب سیاست دانوں کے لیے بھی خطرناک بنتا جا رہا ہے۔
کرناٹک سے تعلق رکھنے والے کانگریس کے وزیر پریانک کھرگے کو آر ایس ایس کی سرگرمیوں پر پابندی کے مطالبے کے بعد جان سے مارنے کی سنگین دھمکیاں دی گئی ہیں۔ سوشل میڈیا پر جاری ایک ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک شخص — جسے آر ایس ایس کا کارکن بتایا جا رہا ہے — کھلے عام انہیں قتل کرنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔
پریانک کھرگے نے اس ویڈیو کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے شدید ردِعمل دیا اور کہا کہ آر ایس ایس کو مودی سرکار ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہی ہے تاکہ عوام کی توجہ اپنی ناکامیوں سے ہٹائی جا سکے اور سیاسی مخالفین کی آواز دبائی جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ مودی حکومت نہ صرف آر ایس ایس کےانتہا پسند ہندوتوا ایجنڈے کی پشت پناہی کر رہی ہے بلکہ ریاستی سطح پر اسے نظریاتی اور عملی سپورٹ بھی حاصل ہے۔
پریانک کھرگے نے واضح طور پر مطالبہ کیا کہ آر ایس ایس کی غیر قانونی اور پرتشدد سرگرمیوں پر فوری پابندی عائد کی جائے، کیونکہ یہ تنظیم معاشرتی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا رہی ہے اور شہریوں کے ذہنوں میں نفرت، تعصب اور شدت پسندی کا زہر بھر رہی ہے۔یہ واقعہ اس بات کا عکاس ہے کہ بھارت میں سیاسی اختلاف رائے اب صرف نظریاتی ٹکراؤ نہیں رہا، بلکہ جان لیوا خطرہ بن چکا ہے — اور ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا جمہوریت کی سب سے بڑی دعویدار ریاست میں اختلاف کرنے والوں کے لیے کوئی محفوظ جگہ باقی رہ گئی ہے؟

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ا ر ایس ایس رہی ہے

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • خارجہ کامیابیاں یا داخلی استحکام؟
  • ٹنڈولکر سمیت بھارتی کھلاڑی بھی مودی مخالف احتجاج کرنے والوں ہے حق میں سامنے آگئے
  • سابق وفاقی وزیر سردار یار محمد رند کی سفری پابندی کیخلاف درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • قاتل وہیل کا انوکھا طرز عمل: دیوہیکل دشمن کی لاش کو زور دار ٹکریں مارنے کی وجہ کیا ہے؟