سی ٹی ڈی حیدرآباد کی کارروائی، فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 2 دہشتگرد گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 19th, October 2025 GMT
کاؤنٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) حیدرآباد نے قاسم آباد میں کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 2 روپوش دہشتگردوں کو گرفتار کرلیا۔
سی ٹی ڈی حکام کے مطابق دہشتگردوں کے قبضے سے دہشتگردی کے لیے استعمال ہونے والا خطیر فنڈ برآمد کرلیا ہے۔ اس کے علاوہ دہشتگردوں سے فتنہ الہندوستان سے وابستگی کے اہم کاغذی ثبوت و رسید بکس بھی برآمد ہوئی ہیں۔
حکام نے بتایا کہ دہشتگرد سی ٹی ڈی حیدر آباد کی موبائل پر حملہ میں بھی ملوث ہیں، جبکہ ماہ اپریل 2025 میں لونی کوٹ جام شورو کے مقام پر فائرنگ بھی کی تھی۔
سی ٹی ڈی نے کہاکہ دہشتگردوں سے حملہ میں استعمال ہونے والا اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دہشتگرد سی ٹی ڈی فتنہ الہندوستان کارروائی گرفتاری وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دہشتگرد سی ٹی ڈی فتنہ الہندوستان کارروائی گرفتاری وی نیوز فتنہ الہندوستان سی ٹی ڈی
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔