بھارتی افواج کی ہم آہنگی نے پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا، مودی
اشاعت کی تاریخ: 20th, October 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 20 اکتوبر 2025ء) وزیرِ اعظم نریندر مودی نے یہ بات بھارتی بحریہ کے جہاز آئی این ایس وکرانت پر خطاب کرتے ہوئے کہی، جہاں وہ اس کے عملے کے ساتھ دیوالی کا تہوار منا رہے تھے۔
آئی این ایس وکرانت بھارت کا چوتھا طیارہ بردار بحری جہاز ہے اورمکمل طور پر ملک میں تیار کیا گیا پہلا جہاز ہے۔
آپریشن سیندور کا حوالہ دیتے ہوئے مودی نے کہا، ''بھارتی بحریہ کے پیدا کردہ خوف، فضائیہ کی غیر معمولی مہارت، بری فوج کی شجاعت اور تینوں افواج کی شاندار ہم آہنگی نے پاکستان کو آپریشن سیندور کے دوران بہت جلد ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔
‘‘بھارتی وزیرِ اعظم نے اپنے خطاب میں کہا، ''چند ماہ پہلے ہی ہم نے دیکھا کہ وکرانت کے صرف نام ہی سے پاکستان میں خوف کی لہر دوڑ گئی۔
(جاری ہے)
ایسی ہے اس کی طاقت۔ یہ ایک ایسا نام جو جنگ شروع ہونے سے پہلے ہی دشمن کے حوصلے پست کر دیتا ہے۔ یہی ہے آئی این ایس وکرانت کی قوت…‘‘
مودی نے بھارتی مسلح افواج کی تعریف کرتے ہوئے مزید کہا، ''میں نے ہماری فوجی طاقت کا قریب سے مشاہدہ کیا۔
یہ بڑے جہاز، ہوا سے تیز اڑنے والے طیارے، یہ آبدوزیں، یہ سب اپنی جگہ متاثر کن ہیں، لیکن جو چیز انہیں واقعی ناقابلِ شکست بناتی ہے وہ ہے ان پر سوار جوانوں کا حوصلہ۔ یہ جہاز لوہے سے بنے ہیں، مگر جب ان پر ہمارے فوجی سوار ہوتے ہیں تو یہ زندہ، سانس لیتی طاقت بن جاتے ہیں۔‘ بڑے دفاعی برآمد کنندگان میں شامل ہونا بھارت کا ہدفبھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ بھارت کے میزائلوں نے آپریشن سیندور کے دوران اپنی صلاحیت ثابت کر دی اور اپنی کارکردگی کا لوہا منوایا۔
انہوں نے کہا،'' صرف آکاش اور برہموس (میزایلوں) کا نام ہی خوف پیدا کر دیتا ہے۔ بہت سے ممالک اس میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ بھارت تینوں افواج کے لیے سازوسامان برآمد کرنے کی صلاحیت پیدا کر رہا ہے۔‘‘
بحریہ کے اہلکاروں سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا، ''میرا مقصد یہ ہے کہ بھارت دنیا کے سرکردہ دفاعی برآمد کنندگان میں شامل ہو۔
گزشتہ دہائی میں ہماری دفاعی برآمدات میں تیس گنا اضافہ ہوا ہے، اور اس کامیابی کے پیچھے ہمارے دفاعی اسٹارٹ اپس کا بڑا ہاتھ ہے۔ ہماری سائنس، ہماری خوشحالی، اور ہماری طاقت، سب انسانیت کی خدمت اور اس کے تحفظ کے لیے ہیں۔‘‘انہوں نے کہا کہ آج کی باہم مربوط دنیا میں، جہاں ممالک کی معیشتیں اور ترقی بحری راستوں پر منحصر ہیں، بھارتی بحریہ عالمی استحکام برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کرتی ہے۔
دنیا کی 66 فیصد تیل کی ترسیل اور 50 فیصد عالمی کارگو شپمنٹس بھارتی سمندر سے گزرتی ہیں۔
فوج کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منانے کا سلسلہیاد رہے کہ 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے وزیرِ اعظم مودی ہر سال دیوالی کا تہوار فوج کے جوانوں کے ساتھ مناتے ہیں۔
2014 میں انہوں نے یہ تہوار سیاچن گلیشیئر میں فوجیوں کے ساتھ منایا؛ اگلے سال پنجاب کے امرتسر میں ڈوگرائی وار میموریل پر، اور گزشتہ سال انہوں نے گجرات کے کَچھ میں بھارت-پاک سرحد کے قریب بی ایس ایف، فوج، بحریہ اور فضائیہ کے جوانوں کے ساتھ دیوالی منائی تھی۔
ادارت: صلاح الدین زین
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے انہوں نے کے ساتھ نے کہا
پڑھیں:
اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ بڑھتے ہوئے مسلح تنازعات کے تناظر میں سفارتکاری، مذاکرات اور ثالثی کو مضبوط بنایا جائے.
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں تنازعات کے پرامن حل سے متعلق کھلے مباحثے کے دوران پاکستان نے بھارت پر عالمی قوانین، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام بھی عائد کیا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان کی ایک اور بڑی سفارتی کامیابی، سلامتی کونسل میں امن دستوں کے تحفظ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور
اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ عالمی حالات میں تنازعات کے پرامن حل کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہر نیا بحران یہ ثابت کرتا ہے کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا کوئی فوجی متبادل موجود نہیں، اس لیے عالمی برادری کو تنازعات کی روک تھام، مکالمے، ثالثی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق پرامن تصفیے پر نئی توجہ دینا ہوگی۔
Today, the imperative of peaceful settlement is more urgent than ever before. At a time when armed conflicts are growing across regions, the costs of delayed diplomacy are becoming more evident. Every new crisis underscores a simple truth: there is no military substitute for a… pic.twitter.com/ITgheZpBLd
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 23, 2026
انہوں نے یاد دلایا کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کی صدارت کے دوران متفقہ طور پر منظور کی جانے والی قرارداد 2788 نے اس اصول کی توثیق کی تھی کہ سفارت کاری کو اس وقت استعمال نہیں کرنا چاہیے جب امن ناکام ہو جائے، بلکہ اسے ایسے حالات پیدا ہونے سے پہلے ہی فعال ہونا چاہیے۔
دوسری جانب اجلاس میں بھارتی مندوب کے بیان کے جواب میں پاکستانی مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حقِ جواب استعمال کرتے ہوئے کہا کہ جب رکن ممالک تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو مضبوط بنانے پر گفتگو کر رہے تھے، بھارت نے حقائق کو مسخ کرنے اور بے بنیاد الزامات لگانے کی کوشش کی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل بریفنگ: پاکستان نے مستقل جنگ بندی اور آزاد فلسطینی ریاست کا مطالبہ دہرا دیا
انہوں نے کہا کہ بھارت ایک طرف امن کی بات کرتا ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی قانون، سلامتی کونسل کی قراردادوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔
ان کے مطابق جموں و کشمیر نہ تو بھارت کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی اس کا داخلی معاملہ، بلکہ یہ بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ متنازع خطہ ہے، جس کے بارے میں سلامتی کونسل کی قراردادیں آج بھی مؤثر ہیں۔
صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارتی زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی صورتحال میں واضح فرق ہے۔
It is ironic to hear India preaching peace while breaching international law and Security Council resolutions, and practising aggression against its neighbours, repression in Indian-occupied Jammu and Kashmir, persecution of minorities, and perpetrating State-sponsored terrorism… pic.twitter.com/oPfkrOvSJ5
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) July 24, 2026
ان کے مطابق آزاد کشمیر میں عوام سیاسی عمل میں حصہ لیتے اور آزادی سے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں، جبکہ بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں گرفتاریوں، ماورائے عدالت ہلاکتوں، جبری گمشدگیوں، آبادی کے تناسب میں تبدیلی اور حقِ خودارادیت سے محرومی جیسے اقدامات جاری ہیں۔
انہوں نے بھارت کے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کے فیصلے کو یکطرفہ اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے تقریباً 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، اسے جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل میں اصلاحات ناگزیر، مستقل رکنیت کا نظام فرسودہ ہو چکا ہے، پاکستان
پاکستانی مندوب نے مزید الزام عائد کیا کہ بھارت ریاستی سرپرستی میں دہشتگردی میں ملوث ہے اور پاکستان میں دہشتگرد تنظیموں کی معاونت کرتا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں تقریباً ایک لاکھ شہریوں کی جانوں کی قربانی دے چکا ہے۔
انہوں نے بھارت میں مسلمانوں، عیسائیوں، سکھوں اور دلتوں کے ساتھ مبینہ امتیازی سلوک کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے ہمیشہ اشتعال انگیزی کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا دروازہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پرامن حل کو ترجیح دی۔
مزید پڑھیں: سلامتی کونسل کی بلوچستان حملوں کی شدید مذمت، عالمی برادری سے پاکستان کیساتھ تعاون پر زور
صائمہ سلیم نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا راستہ بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد اور مسئلہ جموں و کشمیر کے پرامن حل سے ہو کر گزرتا ہے۔
انہوں نے بھارت پر زور دیا کہ وہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے بین الاقوامی معاہدوں کا احترام کرے اور کشمیر تنازع کے حل کے لیے سنجیدہ مذاکرات کی راہ اختیار کرے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اقوام متحدہ امتیازی سلوک بھارت پاکستان جموں و کشمیر چارٹر دریائے سندھ دہشتگردی سلامتی کونسل سندھ طاس معاہدے صائمہ سلیم عاصم افتخار احمد مستقل مندوب