بانی پی ٹی آئی کی منظوری کے بغیر صوبائی کابینہ کی تشکیل ممکن نہیں، وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی
اشاعت کی تاریخ: 23rd, October 2025 GMT
وزیرِ اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا کہ عدالتی احکامات کے باوجود انہیں بانیِ پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔
وزیر اعلیٰ کے بقول ججز کے احکامات کے باوجود ملاقات کرانے میں رکاوٹیں ڈالیں جا رہی ہیں۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سہیل آفریدی کا کہنا تھا کہ ایک شخص نے ٹی وی پر آکر کہا کہ یہ وزیرِ اعلیٰ نہیں بنے گا، اس طرح کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ سیاسی و انتظامی دباؤ ہے۔
یہ بھی پڑھیں:خیبرپختونخوا اسمبلی: سہیل آفریدی کی عمران خان سے ملاقات اور اسرائیل مخالف قراردادیں منظور
انہوں نے مزید کہا کہ اگر دہشتگردی کو صرف آپریشن سے ختم کیا جا سکتا تو ملٹری آپریشنز پہلے ہی اس کو ختم کر چکے ہوتے؛ حکمتِ عملی واضح ہونی چاہیے۔
صوبائی صدر جنید اکبر اور جنرل سیکرٹری سلمان اکرم راجہ کو یقین دہانی کرواتا ہوں کہ جب بھی جو بھی احتجاج کے حوالے سے ہدایات پارٹی دے گی میں بحیثیت کارکن من و عن تسلیم کروں گا۔
سہیل آفریدی pic.
— Muhammad Suhail ALI. (@MuhammaddSuhail) October 23, 2025
سہیل آفریدی نے عندیہ دیا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کی منظوری کے بغیر صوبائی کابینہ کی تشکیل ممکن نہیں ہوگی۔
وزیرِ اعلیٰ نے الزام لگایا کہ جب سے انہوں نے اپنا عہدہ سنبھالا ہے، انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ انہوں نے اپنے لیڈر سے رہنمائی لینے کے لیے وفاق اور پنجاب حکومت سے ملاقات کی درخواستیں بھیجی ہیں، مگر کوئی معاونت یا مثبت جواب موصول نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملی تو کابینہ کی تشکیل کیسے ہوگی؟ بیرسٹر گوہر نے بتا دیا
’ہم عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا چکے ہیں، مگر کوئی نہیں سن رہا، اب عوام کی عدالت میں جاؤں گا۔‘
سہیل آفریدی نے بتایا کہ وہ اپنے لیڈر کے طرزِ عمل کے مطابق چلیں گے اور پارٹی کی ہدایات پر عمل کریں گے۔
’بحیثیت وزیرِ اعلیٰ میرا کام عوام کے لیے کام کرنا ہے، جلسے جلوس پارٹی کا معاملہ ہیں، جو ہدایات آئیں گی اُن پر عمل کروں گا۔‘
مزید پڑھیں: عوام کا نمائندہ ہوں، عمران خان سے ملنے دیا جائے، سہیل آفریدی کا چیف جسٹس کو خط
دفاعی و سیکورٹی معاملات پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اُن کا لیڈر مذاکرات کا حامی رہا ہے اور ہم ہمسایہ ممالک کے ساتھ برادرانہ تعلقات چاہتے ہیں۔
’مگر کسی کو یہ اختیار نہیں کہ وہ خیبرپختونخوا کے عوام کا فیصلہ بند کمروں میں کرے۔‘
انہوں نے صوبائی پولیس کے لیے حکومت کی جانب سے اعلان کردہ 7 ارب روپے کی گرانٹ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں جلد بلٹ پروف گاڑیاں ملیں گی۔
مزید پڑھیں: سہیل آفریدی مراد سعید کے قریب کیوں اور علی امین سے کیا غلطی ہوئی؟ عمران خان کی نئی چال
سہیل آفریدی نے وفاقی سطح پر فنڈز اور شفافیت کے مسائل کی جانب بھی اشارہ کیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ این ایف سی میٹنگ جلد بلائی جائے اور صوبے کو اس کا جائز حق 350 ارب روپے جاری کیے جائیں، جبکہ ان کے مطابق قومی ترقیاتی پروگرام میں خیبرپختونخوا کے بقایا جات 2200 ارب روپے سے زائد ہیں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اگر وفاق دہشتگردی کے خلاف سنجیدہ ہوتا تو مالی وسائل کی فراہمی ممکن ہوتی، انہوں نے واضح کیا کہ وہ عزت و وقار کے ساتھ افغان بھائیوں کو واپس بھیجنے کی پالیسی پر عمل کریں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل افغان این ایف سی بلٹ پروف گاڑیاں خیبرپختونخوا سہیل آفریدی قومی ترقیاتی پروگرام گرانٹ وزیر اعلی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اڈیالہ جیل افغان این ایف سی بلٹ پروف گاڑیاں خیبرپختونخوا سہیل ا فریدی قومی ترقیاتی پروگرام وزیر اعلی سہیل آفریدی نے سہیل ا فریدی سے ملاقات انہوں نے کہا کہ ا کے لیے
پڑھیں:
مانجھی خیل چیک پوسٹ حملہ، گورنر خیبرپختونخوا نے رپورٹ طلب کر لی
پشاور:گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے ضلع ٹانک کے علاقے مانجھی خیل میں قائم چیک پوسٹ پر ہونے والے حملے کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اعلیٰ حکام سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔
اپنے بیان میں گورنر فیصل کریم کنڈی نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے ہندوستان کے پروردہ خوارج کی مذموم کارروائی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اس بزدلانہ حملے میں ہونے والی شہادتوں پر پوری قوم غمزدہ ہے اور شہداء کی قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
گورنر خیبرپختونخوا نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ حملے میں زخمی ہونے والے سیکیورٹی اہلکاروں کو ہر ممکن اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ان کے علاج میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہو۔
فیصل کریم کنڈی نے شہداء کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس دکھ کی گھڑی میں غمزدہ خاندانوں اور شہید اہلکاروں کے ساتھیوں کے ساتھ برابر کے شریک ہیں۔
انہوں نے شہداء کے درجات کی بلندی، زخمیوں کی جلد صحت یابی اور ملک میں امن و استحکام کے لیے دعا بھی کی۔