ٹانک میں سیکیورٹی فورسز کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 8 دہشتگرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 24th, October 2025 GMT
ڈیرہ اسماعیل خان کے ضلع ٹانک میں بھارتی پراکسی گروہ فتنہ الخوارج کی موجودگی کی مصدقہ اطلاعات پر سیکیورٹی فورسز نے انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن کیا۔
کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز نے خوارج کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، اور شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد بھارتی سرپرستی میں سرگرم 8 خوارج کو ہلاک کردیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، مارے جانے والے دہشتگردوں سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔
یہ دہشتگرد سیکیورٹی فورسز، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور بے گناہ شہریوں کے خلاف متعدد دہشت گرد کارروائیوں میں ملوث رہے تھے۔
علاقے میں مزید بھارتی سرپرستی میں سرگرم خوارج کے خاتمے کے لیے کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔
آئی ایس پی آر کے اعلامیے کے مطابق سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عزمِ استحکام کے وژن کے تحت، جو نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد کے لیے فیڈرل ایپکس کمیٹی کی منظوری سے جاری ہے، اپنی دہشت گردی کے خلاف مہم کو بھرپور انداز میں جاری رکھیں گے تاکہ غیر ملکی حمایت یافتہ دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آئی ایس پی آر ڈیرہ اسماعیل خان سیکیورٹی فورسز ضلع ٹانک.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایس پی ا ر ڈیرہ اسماعیل خان سیکیورٹی فورسز ضلع ٹانک سیکیورٹی فورسز
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔