امریکا نئی جنگ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے، وینزویلا کے صدر کا الزام
اشاعت کی تاریخ: 25th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کاراکاس: وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکا ایک نئی جنگ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ہم جنگ ہونے نہیں دیں گے۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق، صدر مادورو نے یہ بیان امریکا کی جانب سے طیارہ بردار بحری جہاز کیریبین سمندر میں بھیجنے کے بعد دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا خطے میں اشتعال پیدا کرنا چاہتا ہے، مگر ہم امن کے ساتھ اپنے دفاع کے لیے تیار ہیں۔‘‘
دوسری جانب کولمبیا کے صدر گستاوو پیٹرو نے بھی امریکی اقدامات پر شدید ردِعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’’امریکا نے منشیات کی سرگرمیوں کے بے بنیاد الزامات پر مجھ پر پابندیاں عائد کی ہیں، لیکن میں ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا اور کبھی گھٹنے نہیں ٹیکوں گا۔‘‘
واضح رہے کہ امریکا نے صدر پیٹرو کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں اور امریکی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے مالی لین دین سے روک دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ایران سے جنگ نے ایک اور مشکل کھڑی کر دی، امریکا کے تیل کے ذخائر 45 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے
واشنگٹن:مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران امریکہ کے خام تیل کے ذخائر میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جس نے ملکی توانائی کے تحفظ سے متعلق نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
بینک آف امریکا کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت امریکہ کے پاس خام تیل کا ذخیرہ صرف 43 روز کی ضروریات پوری کرنے کے لیے باقی رہ گیا ہے۔
یہ صورت حال جولائی 1983 کے بعد پہلی مرتبہ سامنے آئی ہے جسے توانائی کے شعبے کے لیے غیر معمولی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے تازہ ڈیٹا کے مطابق 10 جولائی تک ملک کے کمرشل خام تیل کے ذخائر کم ہو کر 409.7 ملین بیرل رہ گئے، جو گزشتہ پانچ برس کی اوسط کے مقابلے میں تقریباً 6 فیصد کم ہیں۔
ادھر امریکی اسٹریٹیجک پیٹرولیم ریزرو بھی مسلسل دباؤ کا شکار ہے۔ 18 جولائی تک اس کا حجم گھٹ کر 316.5 ملین بیرل رہ گیا، جو اپریل 1983 کے بعد کی سب سے کم سطح ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق کمرشل اور اسٹریٹیجک ذخائر کو ملا کر امریکہ کے مجموعی خام تیل کے ذخائر تقریباً 730.8 ملین بیرل رہ گئے ہیں جو گزشتہ چار دہائیوں کی کم ترین سطحوں میں شمار کیے جا رہے ہیں۔