data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی:امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے سندھ حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ صوبائی حکام کی نظریں صرف کراچی یونیورسٹی کے معروف تحقیقی ادارے ICCBS پر ہی نہیں بلکہ جامعہ کراچی کی وسیع اراضی پر بھی ہیں،  جماعت اسلامی جامعہ کراچی کے اساتذہ اور طلبہ کے ساتھ کھڑی ہے اور مجوزہ قانون کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

ادارہ نورحق میں انجمن اساتذہ جامعہ کراچی کے صدر غفران کی سربراہی میں آنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے منعم ظفر خان نے کہا کہ حکومت کا حالیہ اقدام تعلیمی خودمختاری کے منافی ہے۔ ملاقات میں جماعت اسلامی کے رکن سندھ اسمبلی محمد فاروق، شعبہ تعلیم کے انچارج ابن الحسن ہاشمی اور انجینئر صابر احمد بھی موجود تھے۔

وفد میں سکریٹری معروف بن رؤف، ڈاکٹر ندا، ڈاکٹر طٰہ بن نیاز، پروفیسر ڈاکٹر انتخاب الفت، عاطف اسلم راؤ اور ایچ ای جے کے سینئر اکاؤنٹ آفیسر محمد علی کاظمی شامل تھے۔ اساتذہ نے جامعہ کراچی اور اس سے وابستہ تحقیقی اداروں کے مسائل کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ICCBS کے حوالے سے مجوزہ قانون نہ جامعہ کراچی کی انتظامیہ سے شیئر کیا گیا اور نہ ہی فیکلٹی، طلبہ یا ملازمین سے کوئی مشاورت کی گئی۔

اساتذہ کے مطابق محض ایک فیصد ڈونیشن دینے والے چند افراد کو ادارے کے بنیادی فیصلوں میں غیر معمولی اختیار دینا غلط اور تعلیمی ڈھانچے کے لیے خطرناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے نہ صرف تحقیقی سرگرمیوں کو نقصان پہنچے گا بلکہ سیکڑوں طلبہ اور محققین کے مستقبل پر بھی اثر پڑے گا۔

وفد نے یہ بھی بتایا کہ 1700 ایکڑ پر قائم جامعہ کراچی کی اراضی کا بڑا حصہ پہلے ہی قبضہ مافیا کی سرگرمیوں کا نشانہ بن چکا ہے اور اب مزید زمینوں پر قبضے کی کوششیں جاری ہیں۔ عدالتوں میں مقدمات کے باوجود صورتحال بدستور تشویشناک ہے۔

اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ جامعہ کی زمینوں کی ڈیجیٹل میپنگ، قانونی فائر وال، قبضہ مافیا کے خلاف مشترکہ آپریشن اور مقدمات کے فوری فیصلوں کے لیے خصوصی میکنزم بنایا جائے،  ICCBS سے متعلق مجوزہ قانون جامعہ کراچی کے مستقبل کے لیے شدید خطرہ ہے اور کوئی بھی فیصلہ اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت کے بغیر قابل قبول نہیں۔

انجمن اساتذہ نے اعلان کیا کہ جامعہ کے مفاد اور طلبہ کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر اپنا آئینی اور ادارہ جاتی کردار ادا کیا جاتا رہے گا۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جامعہ کراچی کی جماعت اسلامی کے لیے

پڑھیں:

سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان

مزمل حسین ہالیپوٹو کی نااہلی کے باعث کراچی کا بنیادی ڈھانچہ شدید دباؤ کا شکار
پی ای سی ایچ ایس بلاک 2میں رہائشی پلاٹ پر کمرشل یونٹس تعمیر، آصف شیخ ملوث

شہر قائد میں رہائشی علاقوں میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا سلسلہ تیزی سے جاری ہے ، جس کے باعث شہر کا بنیادی ڈھانچہ شدید متاثر ہو رہا ہے ۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل مزمل حسین ہالیپوٹو کی ناقص نگرانی اور انتظامی کمزوریوں کے سبب رہائشی پلاٹوں پر کمرشل پورشن اور یونٹس کی تعمیرات میں مسلسل دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے ۔تازہ معاملہ پی ای سی ایچ ایس بلاک 2کے پلاٹ نمبر 40-K/40Mکا سامنے آیا ہے ، جہاں مقامی ذرائع کے مطابق رہائشی حیثیت رکھنے والی اراضی پر کمرشل سرگرمیوں اور یونٹس کے قیام کے ذریعے مبینہ طور پر قبضے کیے گئے ہیں۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ یہ تمام سرگرمیاں آصف شیخ کی سربراہی میں انجام دی جا رہی ہیں، جبکہ متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔شہریوں اور سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ غیر قانونی تعمیرات اور کمرشلائزیشن کے خلاف فوری کارروائی کی جائے ، ذمہ دار افسران کا احتساب کیا جائے اور کراچی کے متاثرہ انفراسٹرکچر کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔

متعلقہ مضامین

  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • حکومت کی جانب سے وفاقی بجٹ میں تاخیر کی ممکنہ وجہ سامنے آگئی
  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • طلبہ اور بے روزگار نوجوانوں کو 50ہزار ای بائیکس ،5 ہزار ای ٹیکسیاں بلاسود دینے کا فیصلہ
  • کراچی میں کئی ماہ سے جاری پانی کا شدید بحران ختم نہ ہو سکا